چینی فوج کیساتھ جھڑپ، کرنل سمیت 20بھارتی فوجی ہلاک، 34لاپتہ، پاک فوج کی اعلی قیادت کا آئی ایس آئی کے ہیڈکوارٹرز کا دورہ، علاقائی سلامتی کی صورتحال پر بریفنگ

چینی فوج کیساتھ جھڑپ، کرنل سمیت 20بھارتی فوجی ہلاک، 34لاپتہ، پاک فوج کی اعلی ...

  

نئی دہلی /بیجنگ (مانیٹرنگ ڈیسک، نیوز ایجنسیاں)چین کی سرحد پر بھارت اور چین کے درمیان پرتشدد جھڑپوں میں بھارتی فوج ایک افسر سمیت 20 بھارتی فوجی ہلاک ہو گئے جبکہ 34 بھاتی فوجی لاپتہ ہیں۔میڈیارپورٹس کے مطابق یہ واقعہ ایک ایسے موقع پر رونما ہوا ہے جب دونوں ملکوں کے درمیان کئی ہفتوں سے سرحد پر تناؤ جاری ہے اور فریقین کی جانب سے اضافی دستے سرحد پر تعینات کردئیے گئے ہیں۔ساڑھے تین ہزار کلومیٹر طویل سرحد پر جوہری طاقت کے حامل دونوں ملکوں کی فوجوں کے درمیان مستقل بنیادوں پر جھڑپیں ہوتی رہتی ہیں، یہاں باقاعدہ طور پر سرحد پر حد بندی نہیں کی گئی لیکن کئی دہائیوں سے یہاں ایک بھی ہلاکت نہیں ہوئی تھی۔بھارتی فوج کا کہنا ہے جھڑپ میں دونوں اطراف اموات ہوئی ہیں لیکن چین نے کسی بھی اہلکار کے ہلاک یا زخمی ہونے کی تصدیق نہیں کی۔بھارتی فوج کے ترجمان نے کہا کہ پیر کی رات پرتشدد جھڑپیں ہوئیں جس کے نتیجے میں دونوں طرف جانی نقصان ہوا، بھارتی فوج کو ایک کرنل اور دو سپاہیوں کا جانی نقصان اٹھانا پڑا۔۔علاقے میں تعینات ایک بھارتی افسر نے خبر رساں ایجنسی سے گفتگو کرتے ہوئے دعویٰ کیا کہ یہاں فائرنگ بالکل نہیں ہوئی اور مرنے والے بھارتی افسر کرنل تھے۔افسر نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا کہ کوئی فائرنگ نہیں کی گئی، کسی قسم کا اسلحہ استعمال نہیں کیا گیا، یہ پرتشدد جھڑپیں ہاتھوں سے ہوئیں۔دوسری جانب چین نے واقعے کی تصدیق کرتے ہوئے بھارت پر سرحد پار کر کے چینی اہلکاروں پر حملہ کرنے کا الزام عائد کیا ہے۔چین کی وزارت خارجہ کے ترجمان ڑاؤ لیجیان نے کہا کہ بھارتی فوجی دستوں نے دو مرتبہ سرحد پار کی، اشتعال انگیزی کی اور چینی اہلکاروں پر حملہ کیا جس کے نتیجے میں دونوں فریقین کی سرحدی افواج کے درمیان ہاتھا پائی ہوئی۔ جھڑپوں میں بھارتی افسر سمیت 20 فوجی مارے گئے۔۔میڈیا رپورٹس کے مطابق بھارتی اور چینی افواج میں جھڑپیں گلوان ویلی کے علاقے میں ہوئیں۔ امریکی جریدے کا کہنا ہے کہ ابتدائی رپورٹس کے مطابق بھارتی فوجیوں کی ہلاکت گولی لگنے سے نہیں ہوئی بلکہ پتھراؤ کے ذریعے لڑائی میں بھارتی فوجی مارے گئے، دونوں فوجوں میں گزشتہ ماہ بھی اسی طرح سنگ باری کے واقعات پیش آئے تھے چین کی فوج پیپلز لبریشن آرمی کے ترجمان کا کہنا ہے کہ بھارتی فوجیوں نے اپنا وعدہ توڑتے ہوئے سرحدی حدود کی خلاف ورزی کی۔ بھارتی فوج سیدھے راستے پر آئے اور چینی فوج سے بات کرے۔چین کی سرکاری خبر رساں ادارے گلوبل ٹائمز کے مطابق پیپلز لبریشن آرمی کے ترجمان کرنل ڑہان شوئی کا کہنا ہے کہ بھارتی فوجیوں نے اپنا وعدہ توڑتے ہوئے سرحدی حدود کی خلاف ورزی کی اور جان بوجھ کر اشتعال انگیز حملوں کا آغاز کیا جس کے نتیجے میں شدید جھڑپیں ہوئیں اور بھارت کو نقصان برداشت کرنا پڑا۔انہوں نے کہا کہ وادی گلوان کے معاملے پر چین ہمیشہ خود مختاری کو ترجیح دیتا ہے، بھارتی فوجیوں نے سرحدی حدود کے معاملے پر معاہدے کی خلاف ورزی کی اور جان بوجھ کر اشتعال انگیزی والے الفاظ استعمال کیے جس کے باعث تناؤ میں اضافہ ہوا اور اس دوران جھڑپیں ہوئیں۔پیپلز لبریشن آرمی کے ترجمان کا کہنا تھا کہ فوجی سطح کے مذاکرات کے دوران جس چیز پر اتفاق پایا گیا تھا اس کی بھارتی فوج نے خلاف ورزی کی، جس سے دونوں ممالک کے عوام کے جذبات کو نقصان پہنچا۔کرنل ڑہان شوئی کا کہنا تھا کہ بھارت اشتعال انگیز روک کر سرحد پر چینی فوج سے ملاقات کرے اور سیدھے راستے پر آئے اور بات کریں تاکہ اس معاملے کو بات چیت کے ذریعے حل کیا جا سکے۔برطانوی خبر رساں ادارے ’ڈیلی ٹیلی گراف‘ کا کہنا ہے کہ چین کے ساتھ لائن آف ایکچول کنٹرول (ایل اے سی) پر لڑائی کے بعد بھارتی فوج کے 34 سیزائد فوجی لاپتہ ہیں۔بھارتی خبر رساں ادارے کے مطابق بھارتی آرمی چیف نے سرحدی کشیدگی کے بعد پٹھان کوٹ ملٹری بیس کا دورہ منسوخ کر دیا ہے۔ٹائمز ناؤ کے مطابق ایسی بھی اطلاعات مل رہی ہیں کہ متعدد بھارتی فوجی جو لاپتہ ہیں وہ لڑائی کے دوران دریا میں گر گئے جس کے بعد ان کی اموات ہوئی ہیں۔

چین بھارت جھڑپ

راولپنڈی(آن لائن) اعلیٰ عسکری قیادت نے منگل کو قومی سلامتی کے ادارے آئی ایس آئی کا دورہ کیا جہاں انہیں علاقائی سلامتی کی صورتحال پر تفصیلی بریفنگ دی گئی۔ ترجمان افواج پاکستان کے مطابق چیئرمین جوائنٹ چیفس آف سٹاف کمیٹی جنرل ندیم رضا چیف آف آرمی سٹاف جنرل قمر جاوید باجوہ، چیف آف نیول سٹاف ظفر محمود عباسی اور پاک فضائیہ کے سربراہ ایئر چیف مارشل مجاہد انور خان کو ڈی جی آئی ایس آئی لیفٹیننٹ جنرل فیض حمید کی جانب سے ادارے کی کارکردگی اور علاقائی سلامتی کی صورتحال پر تفصیلی بریفنگ دی گئی ڈی جی آئی ایس آئی نے اعلیٰ عسکری قیادت کو آئی ایس آئی کے ہیڈکوارٹرز میں خوش آمدید کہتے ہوئے لائن آف کنٹرول اور مقبوضہ کشمیر کی موجودہ صورتحال پر خصوصی بریفنگ دی چیئرمین جوائنٹ چیفس آف سٹاف کمیٹی اورتینوں مسلح افواج کے سربراہان نے قومی سلامتی کو یقینی بنانے کے حوالے سے آئی ایس آئی کی خدمات کو سراہا اور اس کی پیشہ ورانہ تیاریو ں پر مکمل اظہار اطمینان کیا۔ ذرائع کے مطابق شرکاء کو بتایاگیاکہ کس طرح بھارت مقبوضہ کشمیر میں ظلم وستم کابازار گرم کئے ہوئے ہے اور نہتے کشمیری حق خودارادیت کیلئے ان مظالم کے باوجود اپنی جدوجہد جاری رکھے ہوئے ہیں پاکستان ان کی سفارتی، سیاسی اور اخلاقی حمایت جاری رکھے گا۔ عسکری قیادت کی جانب سے اس عزم کا اعادہ بھی کیاگیا کہ بھارت کی جانب سے اگر کسی بھی قسم کی شر انگیزی لائن آف کنٹرول پر کی گئی تو اس کا بھرپور جواب دیاجائیگا اس حوالے سے خبردار کیاگیا کہ بھارت کے پہلے بھی جاسوس ڈرون گرائے ہیں اور اگر اب کسی بھی قسم کی جارحیت ہوتی ہے تو اس کابھرپور اور منہ توڑ جواب دیا جائیگا۔

فوجی قیادت

مزید :

صفحہ اول -