طویل تعطیلات، بے ترتیب ورق گردانی اوربکھرے خیالات!

طویل تعطیلات، بے ترتیب ورق گردانی اوربکھرے خیالات!
طویل تعطیلات، بے ترتیب ورق گردانی اوربکھرے خیالات!

  


عید کی طویل چھٹیاں گزارنا میرے جیسے تنہائی پسند شخص کے لیے بھی د و بھر ہو کر رہ گیا۔ ارادہ تھا کہ ان دنوں میں کچھ یادداشتیں قلم بند کرنے کی کوشش کروں گا۔ مودی نے مگر سب کچھ تلپٹ کر کے رکھ چھوڑا ہے۔ مقبوضہ کشمیر کے انسانوں پر بیتنے والے گزشتہ دس انسانیت سوز دنوں پر لکھنا چاہتا ہوں مگر لکھ نہیں پا رہا۔ساری عمر لفٹینی میں پہلے پروموشن ایگریمنیشن سے لے کر عشروں پر محیط چائے کے وقفوں، فارمیشن لیول پر منعقدہ سیمیناروں ، مباحشوں اور تربیتی کورسز میں کشمیر کو لگاتار پڑھا۔ سٹاف کالج میں کورس کے دوران جہاں سارا سال کشمیر کو سنا وہی صرف اس ایک موضوع پر ایک پورا ہفتہ خطے کے نقشوں کو گھورتے، تاریخی پسِ منظرپر بولتے اور دیگربولنے والوں کو سنتے ہوئے گزارا۔ سروس کے آخری سالوں میں جنرل طارق خان کے زیر کمان ہفتوں پر محیط یکے بعد دیگرے ہونے والی وارگیمز میں گھنٹوں پر پھیلی لگاتار بحث و تکرار کے دوران ،دریاﺅں کے بیچوں بیچ سرحد کے دو اطراف ندی نالوں، کھائیوں، گھاٹیوں اور پہاڑی چوٹیوں کو کھنگالے جاتے ہوئے دیکھا اور سنا۔(جنرل طارق خان سے منسوب ایک مضمون آج کل سوشل میڈیا پر گھوم رہا ہے، معلوم نہیں انہوں نے ہی لکھا ہے یا کہ کسی اور کا کام ہے) ۔گزرے دس دنوں میں ایک بار پھر مسلئہ کشمیر کے تاریخی پہلوﺅں ، خطے کی موجودہ صورتِ حال، متوقع عالمی ردِ عمل اور پاکستان کو دستیاب آپشنز پر ڈھیروں لکھا جا چکا ہے۔میں مگر ایک حرف بھی نہیں لکھ پایا۔لگتا ہے کشمیر پر میری معلومات زنگ آلودہ ہو گئیں۔ یا تو ہوامیں تحلیل ہو گئیں یا کہ پھر ازقسم تجزیوں کی بھرمار میں’ذہنی فالج‘ کی سی کیفیت ہے !

خد ا کر ے کہ ہما ر ے حکمر ا ن ےکسووبیدار رہیں۔ صراطِ مستقیم پر ان کو روشنی دستیاب رہے۔خیال میرا مگر یہی ہے کہ بالآخر جبرواستبداد کی اندھی طاقت سے بھڑ کر مسلئہ کشمیر کا حل خود کشمیریوں کو ہی نکالنا ہے۔ کشمیریوں کومعلوم تو ہو گا کہ ان کے پڑوس میں بظاہر منمنانے والے بدھ بھکشوﺅں نے روہینگیامسلمانوں کے ساتھ کیا سلوک برتا ۔ برماتو’ تیل کے سوداگر شہزادوں ‘ کےلئے کوئی خاص کشش بھی نہیں رکھتا ۔ فلسطین کے بارے میں تو سنا ہوگا کہ چاروں طرف سے امّہ میں گرے خطّے سے اصلی مکینوں کو دوردھکیل کر یہودیوں نے اقوامِ متحدہ کی ناک کے نیچے جسے تقریباًہڑپ لیا ہے۔ مگر یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ افریقہ کے ملک سوڈان میں قانونی طور پرقائم حکومت کی آنکھوں کے سامنے اسی اقوامِ متحدہ نے ریفرنڈم کروایا اور ملک دو حصوں میں بانٹ دیا۔ یہ سب اندھی طاقت کا کھیل ہے ۔ کشمیریوں کو بالآخر اسی اندھی طاقت سے ٹکرانا ہے۔

عید کی تعطیلات میں ٹی وی اکثربند رکھا۔ خدا کا شکر کہ اخبارات کی چھٹی رہی۔ اپنی بائبل یعنی مشتاق احمد یوسفی کی ’آبِ گم‘نکالی۔ سال 92 ءمیں میں نوجوان کپتان تھا۔طویل انتطار کے بعدشاہکار کتاب کے راولپنڈی صدر میں ادریس بک بینک پر دستیاب ہونے کی خبر ملی تو فوراً سے بیشتر اپنی نیک کمائی سے خریدی تھی۔مایوسی اور تنہائی کے لمحات میں اب بھی اس کے اوراق سے جِلا پاتاہوں۔وزیرستان کی طویل تھکا دینے والی مسافتوں اور سناٹوں میں گھری پوسٹوں کی اکتا دینے والی تنہائی کے علاوہ سوڈان کے لق ودق ویرانوں کے اندر ’آبِ گم‘ میرے لئے اندھیرے میں ٹمٹماتے چراغ سے کبھی کم نہ رہی۔اب کی بار ورق پلٹتے کے دوران مگر کسی یارِخاص نے طیب اردگان کا ترک زبان میں ایک ویڈیو بیان بھیج دیا۔ نہ جانے کیا کہہ رہے تھے لیکن زیر نظر اردو ترجمے کے مطابق عمران خان پر صلواتیں بھیج کر ترک فوج کو کشمیر بھیجنے کا اعلان کر رہے تھے۔ یارِ من کو مجھ سے بیان کی تصدیق مطلوب تھی یہ جانتے ہوئے بھی کہ من ترکی نمی دانم! ترکی کے ذکر سے سیاسی اسلام کا کچھ تاریخی احوال جاننے کی تحریک ملی توعباسی خلیفہ ہارون الرشیدکے حکم پر اس کے دستِ راست جعفر برمک کے قتل سے منسوب عجیب و غریب واقعہ نظر سے گزرا۔ عباسی خاندان کے عروج میںکلیدی کردارادا کرنے والا برمک خاندان کہ جنہیں اکژ مسلمان مﺅرخ ایرانی نسل کے زرتشت سمجھتے رہے دراصل بلخ میں آباد بدھ مت کے پیروکارتھے۔ مسلمان ہو کر امویوں کی نسبت بنو ہاشم کے حامی بنے۔ابو مسلم خراسانی کی عباسیوں کے ہاتھوں ہلاکت پر در گرفتہ تھے کہ برمکی بنو ہاشم میں بھی عباسیوں سے بڑھ کر علویوں سے محبت رکھتے تھے۔ ایک صدی تک مگر عباسیوں کے ہاتھوں علویوں کو برباد ہوتے دیکھتے رہے اور نسل در نسل عباسی خلفاءکی طاقت کو پوجتے ، خدمت گار و اطاعت گزار بنے رہے۔روایت ہے کہ اپنے وزیراعظم جعفر برمکی کو خلیفہ نے اپنی بہن کے ساتھ عجیب و غریب معاملات کی بناءپر قتل کروادیا۔ اگرچہ خلیفہ ہارون الرشید سے جومسلمان تاریخ نویس حسنِ زن رکھتے ہیں ان کے نزدیک قتل کے پیچھے بلکہ ملکوں اور انسانوں پرطاقت کے حصول کی کشمکش ہی کافرما رہی۔ برمکیوںکے آئے روز بڑھتے اثر و رسوخ سے اکتا کر خلیفہ نے اس نسل در نسل وفادار خاندان کے قلع قمع کا فیصلہ کیا تھا۔ہارون الرشید عباسی خاندان میں سے ایک نیک فطرت اور خدا ترس خلیفہ تھا کہ جو حج، خیرات اور جہاد سے بے حدرغبت رکھتا تھا۔ چنانچہ حج سے فارغ ہو کر اسی شام ایک کروڑ اسی لاکھ کے برابر اشرفیاں خیرات کیں اور اپنے حاجبِ خاص کو مکہ میں ہی موجود جعفربرمکی کا سر کاٹ کر لانے کا حکم دیا۔

بر ٹر نڈرسل کی بظاہرعمومی انگریزی میں لکھے گنجلک و پیچیدہ مضامیںپر منہ مارنے کی کوشش کی تو پتا چلا کہ اگرچہ تخلیق کائنات کا تصور مکمل طور پر ہماری سمجھ سے بالاتر ہے تاہم عقائد کی روشنی میں ہم جانتے ہیں کہ انسانوں سے آسمان پر عہدلے کر خالق نے انہیں سوچنے سمجھنے کی صلاحیت ودیت کرتے ہوئے زمین پر اتارا تھا۔اسی صلاحیت کے بل بوتے پر جہاں انسان نے ابتداءمیں اپنی بقاءکی جنگ جیتی تو وہیں فطرت کی کئی ایک طاقت ور اور ناقابلِ تسخیر قوتوں سے مرعوب ہو کر طاقت سے ذیادہ کسی کی عزت نہ کرنے کا بھی فیصلہ کیا۔انسان نے مان لیا کہ اگرچہ اپنی ہیئت میں اندھی طاقت جہاں ایک برائی ہے تو وہیں ایک حقیقت بھی ہے۔ کائنات میںکارفرما اندھی قوتوں کی طرف سے برپاکی گئی تباہی سے گبھرا کر ہی انسان کو دیوتاوں کی پوجا اور ان کی چوکھٹوں پراپنا خون گراکر ان طاقتوں کے غضب اور غصے کو ٹالنے کاراستہ سوجھا۔ طاقت کو برائی اور مادے کو حقیقت مانتے ہوئے بعد ازاںقہر برسانے والے دیوتاوں کی بجائے ایک ایسا خدا تخلیق کیا گیا جوصرف اچھائی کا استعارہ ہے، جبکہ دوسری طرف اندھی، مادی او ر مبنی بر حقیقت قوتوں کے مقابلے میںسچائی، رحم اور انصاف جیسے احساسات پر استوار آفاقی ’اخلاقیات‘ نے جنم لیا۔ برٹرنڈ رسل کے خیال میں انسانوں کی آزادی اسی صورت ممکن ہے کہ اپنے روزمرّہ کے معمولات میں ہم مادی قوتوں کو حقیقت مان کر زندگی گزاریں ، جبکہ دوسرے انسانوں سے معاملات میں ہم کرہ ارض پر کارفرما طاقتوں حتی کہ موت کے خوف سے بھی آزاد ہو کر صرف اچھے خدا پر ایمان کی اس طاقت کے زیرِاثر معاملات کریں جو ہمیں اچھائی سکھاتی ہے۔ بد قسمتی سے پیغمبروں کی بارہا آمد او ررسل صاحب جیسے فلسفیوں کی تلقین ووعظ کے باوجود ہمارے اندر چھپا ہمارا ’وحشی ‘جدِامجد آج بھی ہمیںمادی حقائق کے احترام کی ہی ترغیب دیتا ہے۔جس قوم کے بیچ قطاراندر قطار نبی اترے، اسی کے لوگوں نے بے کس فلسطینیوں پر سب سے زیادہ ظلم توڑے۔

چنانچہ اس امرکے باوجود کہ کشمیر یوں کاموقف سراسر اخلاقیات پر مبنی او ر بین الاقوامی قوانین پر استوار ہے، دیکھنا مگر یہ ہے کہ مادی حقائق ان کے موقف سے کس قدر میل کھاتے ہیں۔سرِ دست چونکہ بھارت کی’ قومی قوت کے عناصر‘ کشمیریوں کی’اخلاقیات‘ کودھندلاتے ہوئے نظر آتے ہیں، لہذا میں نا صرف مظفر آباد میں کی گئی وزیر خارجہ کی پریس کانفرنس کے ’مایوس کن نکات‘ کی تائید پر خود کو مجبور پاتا ہوبلکہ مجھے امتّ مسلمہ سے بھی کوئی گلہ نہیں ۔ میں سمجھتا ہوں کہ گھبراہٹ میں مبتلا ہوئے بغیرہمیں کشمیریوں کی اخلاقی اور سیاسی امداد کے لیے دنیا بھر میں موجود اچھائی کے خدا اور آفاقی’ اخلاقیات‘ کے ماننے والوں کو پکارتے رہنا چاہے۔مادی حقائق سے پھوٹنے والے شر اور ’اخلاقیات ‘سے نمو پانے والی اچھائی کے درمیان جدوجہد ازل سے جاری ہے اور ابد تک جاری رہے گی۔ تاہم بالعموم دیکھا یہ گیا ہے کہ جب اندھی مادی قوتوں کا ظلم حد سے بڑھ جاتا ہے تو اچھائی کا خدا اکثر معاملات خود اپنے ہاتھ میں لینے کا فیصلہ کر لیتا ہے۔

۔

نوٹ:یہ بلاگر کا ذاتی نقطہ نظر ہے جس سے ادارے کا متفق ہونا ضروری نہیں۔

۔

اگرآپ بھی ڈیلی پاکستان کیساتھ بلاگ لکھنا چاہتے ہیں تو اپنی تحاریر ای میل ایڈریس ’dailypak1k@gmail.com‘ یا واٹس ایپ  "03009194327" پر بھیج دیں۔

مزید : بلاگ


loading...