کلام اقبال (شرح بال جبریل)غزل نمبر: 8 (2)

کلام اقبال (شرح بال جبریل)غزل نمبر: 8 (2)
 کلام اقبال (شرح بال جبریل)غزل نمبر: 8 (2)

  



تیسرے شعر میں علامہ فرماتے ہیں:

مری مینائے غزل میں تھی ذرا سی باقی

شیخ کہتا ہے کہ ہے یہ بھی حرام اے ساقی!

علامہ اسی تناظر میں فرماتے ہیں کہ اے اللہ! میں نے اپنے اشعار کے ذریعے اسلام کی نشاۃ ثانیہ کے عمل کو جاری رکھنے کی کوشش کی ہے۔کوئی شک نہیں کہ یہ میری کوشش بہت کمزور اور حقیر سی ہے لیکن اس حقیر کوشش کو بھی بعض دینی حلقے ناجائز کہتے ہیں۔

مراد یہ ہے کہ تصوف اور خانقاہی نظام کو ہندوستان کے بعض دینی حلقوں نے باعث اختلاف بنا دیا ہے اورسلسلہ بیعت وغیرہ کو ناجائز کہتے ہیں، لیکن اس کے باوجود مَیں اس انداز کی اصلاحی تحریکوں اور کوششوں کو اسلام کی نشاۃ ثانیہ کے لئے ضروری خیال کرتا ہوں۔

میری شاعری بھی سب اسی کی ایک حقیر کوشش ہے۔اس شعر میں علامہ کا اشارہ تصوف کے خلاف نظریات کی طرف ہے۔شاید اس خیال کا محرک قرآن کی یہ آیت بھی ہو:

’’وَالشُّعَرَآءُ یَتَّبِعُھُمُ الْغَاوٗنَ۔اَلَمْ تَرَ اَنَّھُمْ فِیْ کُلِّ وَادٍ یَّھِیْمُوْنَ‘‘(الشعراء:224,225/26)

چوتھے شعر میں علامہ فرماتے ہیں:

شیر مردوں سے ہوا بیشہ تحقیق تہی

رہ گئے صوفی و مُلّا کے غلام اے ساقی!

علم کی تحقیق اور جستجو کی طرح اسلام نے ڈالی تھی۔ قرآن مجید میں ہے:

’’اِنْ جَآءَکُمْ فَاسِق’‘ م بِنَبَاٍ فَتَبَیَّنُوْٓا‘‘(الحجرات:6/49)

’’اگر تمہارے پاس کوئی کم علم بے عمل کوئی خبر لے کر آئے تو تم سب سے پہلے اس خبر کی تحقیق کر لیا کرو۔‘‘

یہی آیت تھی جس کی وجہ سے اسلام کے بڑے بڑے سپوتوں نے تحقیق کے علمی دروازوں کو وا کیا۔ دینی علوم فقہ و حدیث میں اہم ترین راہیں کشادہ ہوئیں۔

تحقیق کے حوالے سے ایک ایک لفظ پر بحث و تمحیص کے ذریعے بات کی تہہ تک پہنچے۔

علامہ فرماتے ہیں کہ تحقیق و تفتیش کا وہ اعلیٰ معیار اب مسلمانوں میں باقی نہیں رہا، آج کے علماء صرف لکیر کے فقیر ہیں اور کورانہ تقلید کے قائل ہو چکے ہیں۔ انہوں نے جدید مسائل کا حل تلاش کرنے کی بجائے اپنے گرد تقلید کے حصار قائم کر لئے ہیں اوراپنی شناخت مسلمان کی بجائے حنفی، مالکی، شافعی، حنبلی قرار دے لی ہے اس تقسیم در تقسیم میں اس سے بھی نچلی سطح پر اتر آئے ہیں اور حنفی ہونے کے باوجود اپنی شناخت میں دیوبندی، بریلوی جیسے خود ساختہ حصار کی تقسیم پیدا کر لی ہے۔ اس تقسیم پر ہم اتنے مطمئن ہو چکے ہیں کہ علمی میدان میں مزید تحقیق و جستجو کے دروازے بند کر لئے ہیں اور کورانہ تقلید میں پستی کے آخری درجوں کو چھونے لگے ہیں۔

پانچویں شعر میں علامہ فرماتے ہیں:

عشق کی تیغِ جگر دار اڑا لی کس نے؟

علم کے ہاتھ میں خالی ہے نیام اے ساقی!

عشق کی تیغ جگر دار سے مراد تعلیمات جہاد ہیں جو اسلامی تعلیمات کا اہم ترین حصہ ہے اس سے مسلمان بالکل عاری ہیں۔

درس جہاد بالکل مفقود بلکہ متروک ہو چکا بلکہ بعض ایسے باطل فرقے بھی پیدا ہو چکے جن کے پیشواؤں نے یہ سبق دینے میں بھی باک محسوس نہیں کیا اور برملا اپنے پیروکاروں سے کہا کہ وہ جہاد و قتال کا خیال چھوڑ دیں۔ علامہ اقبال نے اس کی طرف بلیغ اشارہ بھی فرما دیا کہ جو جہادی تلوار اسلام نے مسلمانوں کو عطا کی تھی وہ تلوار انسانی مکاری اور عیاری کے ساتھ کسی نے چوری کر لی ہے۔یہ مسلمانوں کے پاس خالی نیام باقی رہ گئی ہے۔ ظاہر ہے خالی نیام سے جس میں تلوار نہ ہودشمن سے کیسے لڑا جا سکتا ہے۔

چھٹے شعر میں علامہ فرماتے ہیں:

سینہ روشن ہو تو ہے سوزِ سخن عینِ حیات

ہو نہ روشن، تو سخن مرگِ دوام اے ساقی!

اس شعر میں علامہ نے ایک انتہائی اہم راز سے پردہ ہٹایا ہے۔ فرمایا:اصل بات یہ ہے کہ انسان کا سینہ اسلامی تعلیمات سے روشن ہونا چاہیے۔اگر انسان کا سینہ اسلامی تعلیمات کی روشنی حاصل کرتا رہے تو سوز سخن یعنی شاعری کا فن حیات بخش ہوتا ہے۔

اس کے ذریعے ایک شاعر بھی تبلیغ و اشاعت دین کا فریضہ سرانجام دے سکتا ہے لیکن دل نور ایمان اور اسلامی تعلیمات سے منور نہ ہو تو شعر و شاعری ایک بے کارشغل ہے جس سے گمراہی تو پھیل سکتی ہے لیکن اس سے ہدایت اور ہدایت کا نور پھیل نہیں سکتا۔

ایسی صوت میں شعرو شاعری محض ایک مشغلہ رہ جاتا ہے جس سے معاشرے کو کچھ حاصل نہیں ہوتا۔

ساتویں شعر میں علامہ فرماتے ہیں:

تو مری رات کو مہتاب سے محروم نہ رکھ

ترے پیمانے میں ہے ماہِ تمام اے ساقی!

پیش نظر شعر چھٹے شعر کا تکملہ سمجھئے۔ شاعر اللہ تعالیٰ سے دعاگو ہے اے ساقی! یعنی اے اللہ! تو مجھے ہدایت کی روشنی سے محروم نہ رکھنا بلکہ مجھے ہدایت کا نور خوب خوب عطا کر دے۔

اگر میرے حالات، میری سوچ، میری فکر میں کہیں ظلمت و اندھیرا موجود ہے تو اے اللہ! تو میری فکر، میری سوچ میں نورانیت بھر دے کہ سارے علم اور ہدایت کے منابع تیرے ہی پاس ہیں۔

علامہ کی یہ آرزو یہ دعاسورۂ آل عمران کی آیت سے ماخوذ محسوس ہوتی ہے۔ اللہ تعالیٰ ہی ہدایت کے خزانوں کا مالک ہے۔ لہٰذا اے اللہ! تو مجھے اپنے علم کے بحر بیکراں سے خوب خوب روشنی عطا فرما:

’’اَللّٰہُ وَلِیُّ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْالا یُخْرِجُھُمْ مِّنَ الظُّلُمٰتِ اِلَی النُّوْرِط وَالَّذِیْنَ کَفَرُوْٓا اَوْلِیٰٓءُھُمُ الطَّاغُوْتُ‘‘(البقرۃ:257/2)

ہدایت و گمراہی اے اللہ سب تیرے ہاتھ میں ہے۔لہٰذا تو مجھے ہدایت کے نور سے نواز دے اور گمراہی سے محفوظ فرما۔(ختم شد)

مزید : کالم


loading...