آئندہ دنوں میں ”دما دم مست قلندر“کی سیاست جنم لے گی

آئندہ دنوں میں ”دما دم مست قلندر“کی سیاست جنم لے گی

  

تجزیہ:جاوید اقبال

  وزیر اعظم عمران خان نے اعلان کیا ہے کہ قوم نئے پاکستان کے بعد اب نیا عمران خان دیکھے گی لہذا ہم کہہ سکتے ہیں کہ اب پیش خدمت ہے نئے پاکستان کے بعد نیا عمران خان۔انہوں نے یہ انکشاف ٹا ئیگر فورس کے پہلے کنونشن سے اپنے خطاب میں کیا۔ وزیر اعظم کے اس انکشاف کے بعد یہ بات کھل کر سامنے آگئی ہے کہ اب حکومت اور اپوزیشن میں کشیدگی میں اضافہ ہو گا اور ملک کے اندر آئندہ دنوں میں ”دما دم مست قلندر“ کی سیاست جنم لے گی۔اسمبلیوں کے اندر جوڑ توڑ کے رجحان میں اضافہ ہو گا اور اس سلسلے میں خفیہ طور پر ملک سے باہر بیٹھے جہانگیر ترین کو ٹاسک سونپ دیا گیا ہے۔دوسری طرف اپوزیشن فیصل آباد سے تعلق رکھنے والے راجہ ریاض سمیت چار ارکان اسمبلی سے رابطوں میں ہے جبکہ حکومت اپوزیشن پر طاقت بھی آزمائے گی اور آئندہ دنوں میں اپوزیشن کی اہم شخصیات کو گرفتار کرنے کا عمل شروع کیا جا سکتا ہے۔جبکہ نیب بھی اپنا لائحہ عمل اختیار کرتے ہوئے کارروائیاں تیز کرے گی۔اپوزیشن کو چاروں شانے چت کرنے کا پروگرام تشکیل دیا گیا ہے۔جس سے اس بات کا اندیشہ بڑھ گیا ہے کہ گرفتاریوں سے قبل گھمسان کا رن پڑنے جا رہا ہے جبکہ اس بات کا بھی قوی امکان ہے کہ حکومت نواز شریف،جہانگیر ترین کو پاکستان لانے کی راہ ہموار کرنے کیلئے جنرل ریٹائرڈ پرویز مشرف کو بھی وطن لا سکتی ہے۔آئندہ دنوں میں وزیر اعظم اداروں میں بھی بڑی اہم تبدیلیاں کرنیوالے ہیں جس کیلئے افواج پاکستان میں بھی بڑی تبدیلیوں کی باز گشت ایوان وزیر اعظم میں سنائی دے رہی ہے۔کہا جاتا ہے کہ آرمی چیف قمر جاوید باجوہ کی ایکسٹینشن کی مدت پوری ہونے سے قبل ان کی جگہ نئے سپہ سالار کا انتخاب کر لیا گیا ہے۔جس کیلئے وزیر اعظم کے قریبی حلقے ڈی جی آئی ایس آئی جنر ل فیض حمید کو فیورٹ قرار دے رہے ہیں اگر یہ بات درست ہے تو پھر جنرل فیض حمید کو آرمی چیف بننے کیلئے کسی کور کا ہیڈ یعنی کور کمانڈر رہنا ہو گا۔جس کیلئے آئندہ دنوں میں جنرل فیض حمید کو ڈی جی آئی ایس آئی سے ہٹا کر کور کمانڈر لاہور یا راولپنڈی لگایا جا سکتا ہے اس تناظر میں سول اور عسکری اداروں میں اہم تبدیلیاں متوقع ہیں۔سول محکموں میں نون لیگ کی حمایت یافتہ افسر شاہی کو ڈھونڈ ڈھونڈ کر کھڈے لائن لگایا جائے گا اس کیلئے پنجاب سر فہرست ہو گااور ہاں ایک بات اور بتاتا چلوں کہ وزیر اعظم کا خود کو نئے عمران خان سامنے لانے کے بعد افسر شاہی میں بھی ہلچل سی مچ گئی ہے چونکہ پنجاب کو وزیر اعظم نے سامنے رکھا ہے اور پنجاب کی افسر شاہی میں اس سے پہلے کے نیا عمران خان سامنے آئے چیف سیکرٹری پنجاب جواد ملک نے ہفتہ کی شام کو ہی پنجاب کے تمام انتظامی افسروں کا اجلاس طلب کر لیا اور دو ٹوک الفاظ میں جزاء و سزا واضح کر دی گئی اور چیف سیکرٹری نے ہر ضلع میں مسائل بے قابو ہونے کا ذمہ دار ڈپٹی کمشنرز کو قرار دیتے ہوئے کہا کہ جس ضلع میں مسائل پر قابو نا پایا گیا اس ضلع کے ڈپٹی کمشنر پکڑ لیا جائے گا۔ 

مزید :

تجزیہ -