سلطان محمود غزنوی اور خاندان غزنویہ ۔ ۔ ۔ قسط نمبر 14

سلطان محمود غزنوی اور خاندان غزنویہ ۔ ۔ ۔ قسط نمبر 14
سلطان محمود غزنوی اور خاندان غزنویہ ۔ ۔ ۔ قسط نمبر 14

  


412ھ،1023ءمیں سلطان کو خبر لگی کہ قیراط اور ناردین کے آدمیوں نے بغاوت اختیار کی۔ ان دونوں دیار کے باشندے بت پرست تھے۔ سلطان نے لشکر جمع کیا اور بہت سے آہنگر اور سنگتراش ساتھ لئے اور اُن کی طرف روانہ ہوا اوّل قیراط کو فتح کیا۔ یہ ملک قیراط کا سروسیر تھا۔ وہاں میوے پیدا ہوتے تھے اور ترکستان کے درمیان واقع تھا اور وہاں باشندے شیر پرست تھے۔ یہاں کے حاکم نے اطاعت کی اور اسلام قبول کیا اور باشندے بھی اپنے حاکم کی تقلید کرکے مسلمان ہوئے۔ حاجب علی بن ارسلان یا صاحب علی بن ایلار کو ناردین فتح کرنے کے لئے بھیجا۔ اس نے قلعہ کو سر سواری فتح کر لیا۔اور اس مقام پر ایک قلعہ بنوایا اور علی قدر بن سلجوقی کو یہاں کا حاکم مقرر کیا۔ اسلام نے اس ملک میں اشاعت پائی۔ اس مہم کی نسبت بہت سے محققین کو اشتباہ ہے۔ اوّل قیرات اور ناردین کے صحیح نام اور مقام دریافت کرنے میں بہت کوشش کی گئی۔فارسی تاریخوں میں نام ایسی بے پروائی سے لکھتے ہیں کہ وہ کچھ سے کچھ ہو جاتے ہیں۔ اب دونوں مقاموں کے نام مختلف طرح سے لکھے ہیں‘کوئی قریت لکھتا ہے اور کوئی قرات اور ناردین لکھتا ہے۔ غرض بعد تحقیق کے یہ صحیح معلوم ہوتا ہے کہ یہ قیراط اور ناردین کا وہ ملک ہے جس میں سوات‘باجوڑ اور ایک حصّہ کافرستان کا واقع ہے۔ طبقاتِ اکبر کا بیان ایسا ہے کہ جس سے کچھ شبہ نہیں رہتا کہ حقیقت میں یہی ملک سے اور بہت سے بُدھ موجود ہیں یہاں کی شیر پرستی کی شہادت دیتے ہیں۔ بدھ کا نام شاکی سنگھ تھا۔ سنگھ کو کہتے ہیں۔اس لئے مسلمانوں نے بودہوں کو شیر پرست لکھا ہے۔

سلطان محمود غزنوی اور خاندان غزنویہ ۔ ۔ ۔ قسط نمبر 13 پڑھنے کیلئے یہاں کلک کریں

413ھ،1024ءمیں راجہ کالنجر کا تادیب کے واسطے سلطان محمود غزنوی نے لاہور سے قصد پھر کیا۔ جب سلطان گوالیار پہنچا اور وہاں کا محاصرہ کیا‘چار روز بعد راجہ نے امان مانگی اور 35ہاتھی نذرانہ میں بھیجے۔ سلطان نے امان دی اور کالنجر کی طرف روانہ ہوا۔ یہ قلعہ سارے ہندوستان میں استحکام کے اندر اپنا نظیر نہ رکھتا تھا۔اس کا بھی محاصرہ کیا مگر نند رائے نے تین ہو ہاتھی ہدیتا بھیجے اور امان چاہی۔ ان ہاتھیوں پر فیلبان نہ تھے۔ بادشاہ نے ترکوں سے کہا کہ ان پر چڑھو۔ ترک اُن کو پکڑ کر سوار ہونے لگے‘ہندوﺅں کو بڑا تعجب ہوا۔راجہ نے ہندی اشعار سلطان محمود غزنوی کی تعریف میں لکھ کر بھیجے۔ پنڈتوں سے اُس کے معنی پوچھے۔ ان کے معنی سن کر راجہ بہت خوش ہوا اور اس کو پندرہ قلعوں کا حاکم مقرر کیا۔ راجہ نے بھی بہت سے جواہر،نقد اور اسباب اس کو پیش کئے۔ سلطان پھر غزنی کو واپس آگیا۔

اب سلطان محمود غزنوی کا دل لوٹ مار کے حملوں سے بھر گیا تھا اور ایسی مہموں میں اُس کو مزہ نہ آتا تھا۔قنوج کے فتح کے بعد جو حملے اس نے کئے وہ اپنی خوشی سے اس نے نہیں کئے بلکہ مجبُوری تھے۔ اب ساری توجہ اس بات پر تھی کہ اسلام کی اشاعت میں گووہ کوئی بڑا آدمی نہ شمار نہ کیا جائے مگر یہ بات تو حاصل ہوکہ بت پرستی کے حق میں دبا سمجھا جائے اور بت شکن نام پائے۔ اس لئے اس نے ارادہ سومنات کا کیا۔

یہ حملہ اہلِ اسلام کا ایک مشہور جہاد ہے۔ اب تو ہندوستان کے لوگ سومنات کا مقام بھی نہیں جانتے لیکن وہ اس دور میں بڑے تیرتھوں میں گنا جاتا تھا۔ گرہن کے دن لاکھوں آدمی دور دور سے یہاں آتے تھے اور ہندوﺅں کا یہ اعتقاد تھا کہ روحیں بدن سے جدا ہوکر ہومنات کی خدمت میں مسئلہ آوا گون کے موافق آتی ہیں اور سمندر کا جوار بھاٹا نہیںہوتا بلکہ سمندر اُس کی پرستش میں اُٹھتا بیٹھتا ہے۔ اس مندر کا وہاں مقام ہے جہاں اب جزیرہ نما گجرات میں بھابری دار ہے۔ وہ مہادیو کا مندر تھا۔ جس مکان میں سومنات تھا‘وہاں باہر کی روشنی نہ آئی تھی۔ جواہر اور الماس جو درو دیوار میں جڑے ہوئے تھے اور جڑاﺅ قندیلوں میں لگے ہوئے تھے۔ اُن کی جوت اور جگمگاہٹ سے وہاں دن رات برابر تھے۔چھپن ستون مرصع جواہرات کے لگے ہوئے تھے۔ دو ہو من سونے کی زنجیر لٹکتی تھی۔ اس میں گھنٹے گھڑیالیں لٹکتی تھیں جس وقت پوجا کا وقت ہوتا تھا‘وہ بچتے تھے۔ اُس کے مصارف کے واسطے دو ہزار گاﺅں معاف تھے۔دو ہزار پنڈے وہاں حفاظت کے واسطے متعین تھے۔ دروازہ کے سامنے ہومنات کھڑا تھا۔ پورا پانچ گز لمبا تھا۔ دو گز زمین کے اندر اور تین گز زمین کے باہر۔گنگا اگرچہ چھ سو کوس پر ہے مگر روز تازہ گنگا جل آتا تھا اور اس سے سومنات کو اشنان ہوتا تھا۔ پانچ ہو گائیں اور تین سو کویے تھے جو پوجا کے وقت بھجن گاتے تھے اور ناچتے تھے۔اس قدر دولت اس مندر میں جمع تھی کہ کسی راجہ کے خزانہ میں نہ ہوگی غرض جب مہم سومات کی غزنی میں تجویز ہونے لگی تو ہزاروں مسلمان ترکستان اور دوسرے ملکوں سے مذہبی جوش کے ساتھ ہولئے۔ اُن کی نہ تنخواہ تھی نہ ورماہہ فقط غنیمت کی اُمید ہمراہ تھی۔ ماہ ستمبر 415ھ،1064ءمیں یہ فوج غزنی سے روانہ ہوئی اور ماہ اکتوبر میں ملتان میں پہنچی۔ یہاں ملتان سے راستہ بالکل جنگل ہی جنگل تھا۔ نہ راہ میں آدمی ملتانہ کھانا‘ پنتالیس ہزار اونٹوں پر پانی اور غلہ لادا گیا۔ ہر سپاہی تاکید کی گئی کہ وہ اپنے کھانے پینے کا سامان رکھ لے۔

غرض یہ سب سامان درست کرکے 350میل لق ودق میدانوں کو لپیٹ کر اجمیر کے پاس سلطان۔ اگرچہ کوئی راجہ ایسا نہ تھا کہ سلطان کے ارادہ سے واقف نہ تھا مگر کوئی یہ نہ سمجھتا تھا کہ یہ طوفانِ ہمیر بجلی کی طرح آن پڑے گا اور پہاڑ کی طرح آن اڑیگا۔ اب راجہ اجمیر نے سوائے بھاگنے کے کوئی چارہ نہ دیکھا۔ راجہ بھاگا‘ دارالخلافہ خالی ہوا۔ اُس کا ہر ایک گھر بے چراغ ہوا۔ سامنے تارا گڈھ کا قلعہ نظر آیا۔ مگر سلطان محمود غزنوی نے اس کے محاصرہ کو بے سود جانا اپنا سفر منزل بمنزل طے کرنا شروع کیا۔راہ میں جو اور قلعے پڑے اُن کو ٹھکراتا ہوا چلا گیا۔ گجرات کے مشہور شہروں میں سے اوّل وہ نہل واڑہ میں پہنچا۔ اگرچہ راجہ یہاں کا بڑا راجہ تھا مگر سلطان محمود غزنوی کے سامنے سے بھاگ گیا۔ یہ نمایاں کی دُھن میں چلا گیا۔ خدا نے اُس کو منزل پر پہنچایا۔ سمندر کے کنارہ پر ایک قلعہ عالیشان نمودار ہوا۔ اُس کا سر آسمان سے باتیں کر رہا تھا۔ پاﺅں میں اُس کے سمندر لوٹ رہا تھا۔ فصیلوں پر جگہ جگہ بندی تھی جب مندر والوں نے دیکھا کہ نشانِ محمودی لہرا رہا ہے اور اُس کے ساتھ سازو سامان‘لاﺅ لشکر موجود ہے تو دیواروں پر کھڑے ہو ہوکر پھر پکار پکار کر کہتے تھے کہ تم اپنے لشکر کے گھمنڈ پر ہم کو لوٹنے آئے ہو۔ اس کی تم کو خبر نہیں کہ ہمارے دیوتا سومنات نے تم کو یہاں بلایا ہے۔ سارے ہندوستان میں شوالے‘مندر‘بت تم نے توڑے ہیں۔ اب اُس کو عوض میں ہمارا یہ دیوتا تمہاری گردنیں توڑے گا۔ ایلچی ایسے ایسے پیغام سلطان محمود غزنوی کے پاس لائے مگر اُس نے کان لگا کر سنا بھی نہیںکہ کیا کہتے ہو۔ تیوری منہ پھیر لیا۔ جب دوسرا دن ہوا تو سلطان محمود غزنوی نے اپنے تیر اندازوں کو فصیل کے پہرہ والوں سے جا بھڑایا۔ ان تیر اندازوں نے وہ تیر برسائے کہ ہندوﺅں کو فصیل چھوڑتے ہی بنی پھر ہندو اپنے دیوتا کے قدموں پر گر پڑے اور گڑ گڑانے لگے۔ یہ روتے ہی رہے کہ مسلمان جھٹ سیڑھیاں لگا‘ کمندیں ڈال‘فصیلوں پر چڑھ گئے اور تکبیر کے بعرے مارنے شروع کئے۔ راجپوتوں کا حال یہ ہے کہ جیسے وہ جلد سرد ہو جاتے ہیں‘ویسے ہی جلد حرارت میں بھر آتے ہیں۔ غرض غیرت سے اُن کا خون جوش میں آیا۔ مسلمانوں سے ایسا لڑے کہ اُن کے پاﺅں اکھڑ گئے۔ مسلمان بہت نقصان اٹھا کر اُلٹے پھرے۔ مسلمانوں نے تیسرے روز پھر حملہ کیا اور بہت نقصان اٹھایا اور جب سلطان محمود غزنوی نے بڑے زور کا حملہ کیا اور زینے لگا کر فصیل پر لشکر چؑڑھایا تو مندر والوں نے اپنی نہادری سے اُن کو سر کے بل گرایا اس سے پتہ چل گیا کہ وہ اپنے مندر کی حمایت میں آخر دم تک لڑنے کو موجود ہیں ۔ اب آس پاس کے جو راجہ مندر چھڑانے کے لئے جمع ہوئے تھے انہوں نے باہر اپنے لشکروں کی صفیں آراستہ کیں۔ مجبُوراً محاصرہ چھوڑ کر نئے دشمنوں سے لڑنا پڑا۔ دونوں لشکروں میں لڑائی شروع ہوئی لڑائی اتنی زور دار تھی کہ یہ پتہ ہی نہیںچلتا تھا کہ کس طرف کا پلہ بھاری ہے یہ وہم ہونے لگا کہ لشکر اسلام ضیعف ہوگیا۔ سلطان محمود گزنوی مضطرب ہوا۔(ایک سناٹے کے عالم میں تھا کہ دیکھئے)خدا کیا دکھاتا ہے۔ خدا کی درگاہ میں التجا لایا‘عجزو نیاز سے دعائیں مانگیں اور خرقہ شیخ ابوالحسن خرقانی پہنا بعدازان گھوڑے پر سوار ہوکر اپنی فوج کے دل بڑھانے لگا۔سپاہ جو اتنے دنوں سے سلطان محمود غزنوی کے پارکاب لڑی ہو‘وہ ایسے وقت میں چھوڑ کر کہاں جا سکتی تھی۔ غرض سب نے یک جاں ہوکر اور تکبیر کہہ کر ایسا قدم بڑھایا کہ کوئی اُس کو روک نہ سکا۔ پانچ ہزار ہندوﺅں کو قتل کر ڈالا۔ ہندو بھاگ کر مندر میں گھسنے لگے‘ایسی ہیبت لشکرِ اسلام اُن کے دل میں بیٹھی کہ مندر کے سپاہیوں کیو بھی بچنے کی اُمید نہ رہی۔ چار ہزار سپائی دل بڑا کرکے باہر نکلے اور کشتیوں میں بیٹھ کر بھاگنے کا ارادہ کیا مگر سلطان محمود غزنوی نے اُن کے پکڑنے کے واسطے کشتیاں چھوڑیں۔ ان میں سے کچھ مارے گئے کچھ جان بچا کر چلے گئے۔ کچھ ڈوب کر مر گئے۔ اس فتح کے بعد سلطان محمود غزنوی مندر کے اندر داخل ہوا اور سومنات کی ناک اُڑا دی اور توڑنے کا حکم دیا۔ پجاری دوڑ کر پاﺅں میں گر پڑے اور عرض کرنے لگے اگر خبابعالی اس مورت کو نہ توڑیں تو اُس کے عوض میں جس قدر روپیہ کہیں گے ہم نذر کر دیں گے۔ یہ بات سن کر سلطان نے کچھ تامل کیا اور پھر فرمایا کہ میرے نزدیک بت فروش نام پانے سے بت شکن نام پانا بہتر ہے۔یہ کہہ کر اس پچگزی مورت پر ایک ایسا گرز مارا کہ ٹکڑے تکڑے ہوگئی۔ حسبِ اتفاق اُس کے پیٹ میں اس قدر ہیرے موتی اور جوہرات پیش بہا نکلے کہ اُس نذرانہ کی اُس کے آگے کچھ اصل نہ تھی۔ یہ دیکھ کر سلطان محمود غزنوی باغ باغ ہوگیا۔ دو ٹکڑے اُس کے مدینہ بھیجے۔ دو غزنی کو بھجوائے جن میں سے ایک جامع مسجد میں اور ایک دیوانِ عام کے دروازہ پر ڈال دیا۔ کہتے ہیں کہ اس مہم میں کم از کم دس کروڑ روپیہ کا مال کو ہاتھ آیا ہوگا۔ایسی غنیمت عمر بھر ہاتھ نہیں گلی تھی۔ انہل واڑہ کا راجہ پرم دیوگندابہ کے قلعے میں پناہ گیر ہوا۔ یہ قلعہ سمندر میں تھا۔ جب سمندر کا پانی اُترتا تو اُس تک رسائی ہوتی۔ سلطان محمود غزنوی نے لشکر بھیجا۔ اُس نے قلعہ فتح کرلیا مگر راجہ ہاتھ نہ آیا۔ بعد ان فتوحات کے سلطان محمود غزنوی انہل واڑہ آیا اور ساری پرسات یہیں کاٹی۔ اس ملک میں آب و ہوا کی صفائی اور آدمیوں کی حسانت‘دل آرائی‘زمین کی شادابی‘پانی کی روانی کو دیکھ کر یہ خطبہ اُس کو پسند آیا پھر ارادہ کیا کہ غزنی مسعود کو دے دیجئے۔ اور اپنا یہاں علیحدہ دارالخلافہ بنائے اورر سلطنت کو بڑھائے۔ سلطان محمود غزنوی کی اس عالی حوصلگی کو دیکھنا چاہئے کہ وہ سکندر ذوالقرنیں بنا چاہتا تھا۔ یہاں رہنے سے یہ مطلب تھا کہ جہازوں کا بیڑا تیار کرے پھر لنکا اور پیگو کو فتح کرے اور وہاں کے سونے و جواہرات کی کانوں سے متمتع ہو۔ غرض ان خیالات سے یہاں رہ جانے کا ارادہ کیا تھا مگر اس کے مشیروں نے اُسے ڈھیلا کر دیا۔ انہوں نے عرض کی کہ خراسان کو کس محنت اور جانکا ہی سے صاف کیا۔ اُس کو چھوڑنا اور گجرات کو دارالسطنت مقرر کرنا مصلحت ملکی نہیں ہے۔اس بات کو سلطان نے مان لیا۔ اور مراجعت کا ارادہ کیا۔ سلطان نے فرمایا کہ کسی ایسے شخص کو منتخب کرو جس کو یہاں مملکت اور حکومت سپرد کر جائیں۔ بہت امیروں نے آپس میں مشورہ کیا اور عرض کیا کہ اس ملک میں بھر ہمارے آنے کا اتفاق نہ ہوگا۔ یہاں کے کسی شخص کو حاکم مقرر کرنا چاہئے۔ اہالیانِ سومنات سے اس معاملہ میں کچھ گفتگو ہوئی۔ انہوں کہا کہ سب سے اچھا حسب و نسب اس ملک میں داب شلیموں کا ہے اور اُن میں سے ایک شخص یہاں ریاضت میں مشغول ہے۔ اگر اُس کو یہاں کی سلطنت عنایت کی جائے تو بہتر ہے۔ بعض نے کہا کہ یہ دابشلیم بڑا تندخو ہے۔یہ ریاضت اُس کی عصمت بی بی ازبے چادری ہے۔ جب اُس کو لڑائی جھگڑے سے ملک ہاتھ نہ آیا تو یہ سانگ بھرا ایک اور دابشلیم ہے۔ وہ بہت عاقل‘دانا ہے‘دربار حاکم بھی ہے سب اُس کی بات مانتے ہیں۔ اگر سلطان اُس کے نام فرمان بھیجے تو وہ سر آنکھوں سے حاضر ہو‘وہ یہاں خوب راج کرے گا اور آپ کا خراج باج ادا کرتا رہے گا۔ سلطان نے ارشاد فرمایا کہ کسی ملک کے حاکم کو یہاں بلاکر راجہ بنانا مناسب نہیں دابشلیم مرتاض ہی کو یہاں کا بادشاہ بنانے کا فیصلہ کیا گیا تو اس دابشلیم نے عرض کی کہ ایک دابشلیم میرا دشمن ہے۔ جس وقت حضور یہاں سے تشریف فرما ہوئے وہ مجھے دبا کر ملک چھین لے گا۔ اس لئے بہتر ہے کہ اُس کو میرے حوالے کیجئے۔ سلطان نے اس دابشلیم کا ملک لے لیا۔ پہلے یہاں دستور تھا کہ بادشاہ کو مارا نہیں کرتے تھے بلکہ اپنے تخت کے نیچے نہایت تنگ و تاریک گھر بناتے اور اس کے اندر ایک سوراخ رکھتے اُسی میں دانہ پانی اندر جاتا اور راجاﺅں کو قید کر دیتے تھے۔ اب تک یہ مکان تیار نہ تھا۔ اس لئے دابشلیم مرتاض نے عرض کی کہ دوسرے دابشلیم کو آپ ہمراہ لے جایئے اورجب مانگوں تو اُسے میرے حوالہ کیجئے۔ خدا کی قدرے جب یہ دابشلیم غزنی سے گجرات آیا تو دابشلیم مرتاض اندھا ہوگیا تھا۔ اس لئے وہی قیدی گجرات کا راجہ ہوا اور جو گھر اُس کے قید کرنے لیلئے بنایا تھا اُس میں یہ دابشلیم مرتاض قید ہوا۔

جیسے اس ملک میں آنا دشوار تھا‘ایسے ہی اُلٹا جانا مشکل تھا۔ جس راہ سے آیا تھا وہاں اجمیر اور انہل واڑہ کے راجاﺅں کی فوجیں کمین میں بیٹھی تھیں۔ سلطان کی فوج نے کیسے کچھ مصائب اُٹھائے تھے اور کیا کیا لڑائیاں تھیں۔ اُس سبب سے وہ کم ہوگئی تھی۔ سلطان جنگ کرنے کی مصلحت نہ جانتا تھا۔ اس لئے وہ اس راہ سے نہ گیا جس راہ آیا تھا۔ بلکہ بیابان اور ریگستان سندھ کی راہ اختیار کی۔ ملتان جانے کا قصد کیا۔ راہبر ساتھ لئے مگر راہبر نے راہ نہ بتائی بلکہ راہ سے بے راہ اور گمراہ کیا اور ایسی راہ پر ڈال دیا جہاں پانی کا پتا نہ تھا۔ جب رات دن سفر ہوا اور پانی نہ ملا تو ایک تلا ملی سارے لشکر میں پڑ گئی۔ راہبر سے پوچھا کہ پانی کہاں سے ملے گا اُس نے جواب دیا کہ میں سومنات کا فدائی ہوں۔ تجھے اور تیرے لشکر کو ایسی جگہ لایا ہوں کہ بن پانی ماروں۔ سلطان نے غضب میں آکر اُس کو وہیں مار ڈالا۔ پانی کی تلاش میں ادھر ادھر پھر تا تھا کہ مرغان آ بی نظر آئے۔ اُس سے یقین ہوا کہ جہاں یہ جانور ہوں‘وہاں پانی ضرور ہوگا۔ غرض اُن سے ایک چشمے کا پتہ مشکل سے ملا۔ اس عرصہ میں بہت سے آدمی مر گئے۔ کچھ دیوانے ہوگئے۔ خلاصہ یہ کہ ملتان کی راہ سے سلطان غزنی پہنچ گیا اور اسی سال میں خلیفہ القادر باللہ عباسی نے اُس کو لقب کہف الدولت والاسلام عطا فرمایا۔ اب اس مہم میں یہ باتیں قابل غور ہیں ۔ اول گندابہ جس میں راجہ انہل واڑہ جاکر چھپا،کیا مقام ہے۔ فارسی تاریخوں میں اُس کے نام مختلف طرح کے لکھے ہیں۔ غالباً وہ کھانڈ اوار کاٹھیا واڑ میں ہے۔ دوم سومنات کی تحقیقات جو تاریخ فرشتہ میں لکھی ہے کہ وہ مرکب سوم اور نات سے ہے۔ سوم نام بادشاہ کا ہے‘جس نے اُسے بنایا تھا اور نات اُس بُت کا نام ہے۔ یہ دونوں علم نام بت‘تنخانہ اور شہر کا ہوگیا ہے اور نات کے معنی ہندی میں بزرگ کے ہیں۔ اُس نے قیاس جگناتھ پہ کیا ہے مگر یہ اُس کی غلطی ہے۔ اصل یہ ہے کہ سنسکرت میں سوم چاند کو کہتے ہیں۔ مہادیو کی پرستش اس سوم نات کے نام سے بھی کی جاتی ہے اس لئے اُس کو سومنات کہتے تھے۔ چاند کی پہلی اور چودہویں تاریخ کو اُس کا اشنان بڑی دھوم دھام سے ہوتا تھا شاید اس لئے اس کو سومنات کہتے تھے۔ پہلے مو¾رخوں نے کچھ اس بت کے اعضا اور خط و خال نہیںبیان کئے‘وہ لنگ کی شکل تھا۔ اس میںآنکھ ناک کچھ نہ تھے اولنگ ٹھوس ہوتا ہے۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ یہ مو¾رخوں کالکھنا کہ بتر سے ناک اُڑائی اور گرز سے پیٹ کو توڑا اس میں سے جوہرات نکلے غلط ہے۔ ابو ریحان بیرونی کا لکھنا صحیح معلوم ہوتا ہے۔ اُس کے سر کے اوپر یعنی لنگم پر سونے کی پوشش اور جواہرات جڑے ہوئے تھے۔

تاریخِ فرشتہ میں جو حال سومنات کے توڑنے کا لکھا ہے‘وہ ایک کہانی دراصل گھڑی ہوئی ہے مگر وہ دلچسپ ایسی ہے کہ ان مو¾رخوں نے جو تحقیق سے غرض نہیں رکھتے‘ نقل کر دیا ہے۔ ابو ریحان بیرونی نے صحیح لکھا ہے کہ سومنات لنگ تھا۔ یہ ہر شخص دیکھ سکتا ہے کہ لنگ کے پیٹ نہیں ہوتا جو اس میں جواہر بھرے جاتے۔ ہندوستان میں بارہ مندر لنگ کے ہیں‘اُن میں سے ایک سومنات بھی تھا۔

فارسی تاریخوں میں سومنات کے پیٹ سے جواہر نکلنے کی کہانی لکھی جاتی ہے۔ انگریزی تاریخوں میں اس سے زیادہ بیہودہ یہ کہانی گھڑی جاتی ہے کہ سومنات کا دروازہ صندلی محمود غزنوی لے گیا تھا جس کو 1842ءمیں انگریز سرکار بڑی دھوم سے غزنی سے شمالی ممالک میں لائی اور اُس کو اپنی فتح کا نشان بنایا۔

ان تکالیف کے بعد بھی سلطان محمود غزنوی کو چین نصیب نہ ہوا اسے ایک دفعہ ہندوستان پھر آنا پڑا۔ سومنات سے جب واپس آیا تھا تو سپاہ سلطان محمود غزنوی کے تکلیف رساں اور مزاحم جود کے جاٹ ہوئے تھے۔ وہ بہت سی فوج لیکر ملتان کی طرف گیا۔اور ایک بیڑہ چودہ سو کشتیوں کا بنوایا۔ ہر کشتی میں تین شاخیں آہنی لگائیں۔ دو ادھر اُدھر اور ایک پیشانی پر غرض یہ کشتیاں ایسی بنیں کہ جو کوئی اُن کے سامنے آئے وہ ٹکڑے ٹکڑے ہو جائے۔ ہر کشتی میں تیس تیر انداز تھے۔ اُن کے پاس تیر لفظ اور قارورہ موجود تھے۔ اس بیڑہ میں سوار ہوکر جاٹوں پر حملہ کیا۔ جاٹوں نے اس بیڑہ کی خبر پا کر اُن جزیروں میں آمدورفت اور دشمن کے حملوں سے بچنا آسان تھا۔ جاٹوں نے بھی بعض کہتے ہیں کہ چار ہزار اور بعض کہتے ہیں کہ آٹھ ہزار کشتیاں تیار کرائیںخود مسلح ہوکر اُن میں مسلمانوں سے لڑنے کے لئے آمادہ ہوئے۔ اب یہ دونوں بڑے آپس میں خوب لڑے۔ جاٹوں کی کشتی جو سلطان محمود غزنوی کی کشتی پاس آتی تھی وہ ان آہنی شاٰخوں سے پاش پاش ہو جاتی تھی۔ بہت سے جاٹ ڈوب کر مر گئے اور بعض تلواروں کے نیچے آگئے۔ اب فوج سلطانی وہاں پہنچی جہاں جاٹوں کے اہل و عیال چھپے تھے۔ اُس نے ان سب کو قید کرلیا۔اس فتح کے بعد سلطان نے غزنی کو مراجعت کی۔

اب محققینِ تاریخ میں شبہ نہیں کرتے کہ سلطان محمود غزنوی جاٹوں سے لڑنے آیا کیونکہ لاہور کی سلطنت بگڑنے پر یہ جاٹ ضرور متمرد ہوگئے ہونگے اور زور پکڑ کر لوٹ مار شروع کی ہوگی۔ بلکہ ایک فقرہ کامل التاریخ میں یہ لکھا ہے کہ مسلمانوں کی ریاست منصورہ پر جاٹوں نے حملہ کیا اور وہاں کے رئیس کو اپنے مذہب سے منحرف ہونے پر مجبُور کیا۔ یہ تحقیق نہیں معلوم ہوتا ہے کہ ملتان کے پاس پہاڑوں میں وہ کہاں سے کہاں تک پھیلے ہوئے تھے۔ غالباً نمکسار پہاڑوں کا سلسلہ ان کا لمجا اور ماویٰ ہوگا۔ جن جاٹوں نے سلطان محمود غزنوی کا مقابلہ کیا تھا وہ شمالی مشرق میں زیادہ پھیل گئے ہونگے‘جس سے انکا صاحب قوت ہونا معلوم ہوتا ہے۔ محققین اس بیڑہ میں شاخسانے لگاتے ہیں، کوئی کہتا ہے کہ دریا ایسا وسیع نہ تھا کہ اُس میں یہ بڑے سما سکتے ہیں۔ کوئی کہتا ہے کہ اس قدر کشتیوں کا جمع ہونا ممکن نہ تھا۔ ایک بڑا اعتراض یہ کرتے ہیں کہ سلطان محمود غزنوی نے گجرات سے مراجعت میں سختیاں و مصیبتیں اُٹھائیں‘ اس نے دریائے سندھ سے کیوں فائدہ نہ اُٹھایا۔ اگر وہ ایسا بیڑا بنا سکتا تھا تو ضرور وہ مصائب کے دور کرنے کے لئے اسے بناتا۔ یہ بھی نہ تھا کہ وہ اس راہ سے نا آشنا تھا۔ محمد بن قاسم کی مہمات سے اور افغانوں کی قربت سے ضرور اُس کو اطلاع ہوگی۔(جاری ہے)

سلطان محمود غزنوی اور خاندان غزنویہ ۔ ۔ ۔ قسط نمبر 15 پڑھنے کیلئے یہاں کلک کریں

مزید : کتابیں /سلطان محمود غزنوی


loading...