دو کسی اخبار کو یہ تار،میں روزے سے ہوں

دو کسی اخبار کو یہ تار،میں روزے سے ہوں
دو کسی اخبار کو یہ تار،میں روزے سے ہوں

  

مجھ سے مت کر یار گفتار میں روزے سے ہوں

ہو نہ جائے تجھ سے بھی تکرار ، میں روضے سے ہوں

ہر کسی سے کرب کا اظہار ، میں روزے سے ہوں

دو کسی اخبار کو یہ تار،میں روضے سے ہوں

میرا روضہ اک بڑا احسان ہے لوگوں کے سر پر

مجھ کو ڈالو موتیے کے ہار، میں روزے سے ہوں

میں نے ہر فائل کی دمچی پر یہ مصرع لکھ دیا

کام ہو سکتا نہیں سرکار، میں روضے سے ہوں

اے مری بیوی مرے رستے سے کچھ کترا کے چل

اے بچو! ذرا ہشیار، میں روضے سے ہوں

شام کو بہر زیارت آ سکتا ہوں مگر

نوٹ کر لیں دوست، رشتہ دار، میں روضے سے ہوں

تو یہ کہتا ہے بہ لحن تر کوئی تازہ غزل

میں یہ کہتا ہوں کہ برخوردار، میں روضے سے ہوں

شاعر: سیدضمیر حسین جعفری

مزید :

شاعری -سنجیدہ شاعری -