Daily Pakistan

شاعری


اہرمن ہے نہ خدا ہے مرا دل 

تنگ ہیں ہم پر زمین و آسماں | رئیس امروہوی |

کہ سہرا باندھ کے اک اونٹ بلبلایا ہے| دلاور فگار|

آٹھواں سہرا | دلاور فگار|

آج کل کے نوجواں بنتے تو ہیں عاشق مزاج | دلاور فگار|

تیز ہوا میں رکھتا میں خاموشی کو| دانیال طریر|

بلا جواز نہیں ہے فلک سے جنگ مری  | دانیال طریر|

ایک بجھاؤ ایک جلاؤ خواب کا کیا ہے | دانیال طریر|

محبت میں آرام سب چاہتے ہیں | داغ دہلوی |

دل مبتلائے لذت آزار ہی رہا  | داغ دہلوی |

جگر کو تھام کے میں بزمِ یار سے اٹھا| داغ دہلوی |

دل مرا باغِ دل کشا ہے مجھے | خواجہ میر درد |

کچھ لائے نہ تھے کہ کھو گئے ہم | خواجہ میر درد |

ابھی سفر کا آغاز ہے | حنا شہزادی |

جگ میں آ     کر اِدھر اُدھر دیکھا  | خواجہ میر درد |

آگ پر رشک سے میں چاکِ گریباں لوٹا| خواجہ حیدر علی آتش |

یار کو میں نے مجھے یار نے سونے نہ دیا| خواجہ حیدر علی آتش |

سن تو سہی جہاں میں ہے تیرا فسانہ کیا  | خواجہ حیدر علی آتش |

ہجر کی شب ہے اور اُجالا ہے | خمار بارہ بنکوی |

ہنسنے والے اب ایک کام کریں | خمار بارہ بنکوی |

مجھ کو شکستِ دل کا مزا یاد آ گیا | خمار بارہ بنکوی |

تجھ سے بچھڑ کر دل کی صدا کو بہ کو گئی| خلیل الرحمان اعظمی |

لٹ گیا گھر تو ہے اب صبح کہیں شام کہیں | خلیل الرحمان اعظمی |

اپنا ہی شکوہ اپنا گلہ ہے  | خلیل الرحمان اعظمی |

تمہار آخری میسج مرے انباکس میں رکھا ہے | خلیل الرحمان قمر |

اشکِ ناداں سے کہو بعد میں پچھتائیں گے | خلیل الرحمان قمر |

آنکھ میں نم تک آ پہنچا ہوں | خلیل الرحمان قمر |

بڑھیں گے اور بھی یوں سلسلے حجابوں کے  | خاور رضوی |

حور و قصور سے نہ بہشت بریں سے ہے | خاور رضوی |

گرتے شیش محل دیکھو گے  | خاور رضوی |

وہ ہے صیدِ انا ، جلتا رہے گا | حمیدہ شاہین|

آج مرے ہاتھوں پر اپنی قسمت لکھ دے | حمیدہ شاہین|

اہلِ دل ، اہلِ خرد ، اہلِ نظر سب سو گئے | حمایت علی شاعر |

ایک سی ہے یوں تو کہہ لینے کو ہر اک دل کی بات | حمایت علی شاعر |

آج اے دل! لب و رخسار کی باتیں ہی سہی | حمایت علی شاعر |

کبھی راستہ تو کبھی سفر نہیں کھل سکا | حماد نیازی |

مزیدخبریں