سردار مہتاب اب مشیر ہوابازی

سردار مہتاب اب مشیر ہوابازی
 سردار مہتاب اب مشیر ہوابازی

  

خیبرپختونخوا کے سابق وزیراعلیٰ اور محمد نواز شریف کے قریبی ساتھی سردار مہتاب احمد خان کو وزیراعظم نے پی آئی اے کی دوبارہ تنظیم نو اور پی آئی اے میں کرپشن کے خاتمے کے لئے اپنا مشیر مقرر کر دیا ہے ۔سردار مہتاب نے ہمیشہ جو بھی عہدہ قبول کیا ہے اسے چیلنج سمجھ کر قبول کیا ہے چاہے وہ خیبرپختونخوا کی وزارت اعلیٰ ہو یا گورنر شپ، اپنی گورنر شپ کے دوران بھی انہوں نے فاٹا سیکرٹریٹ میں بہت سی اصلاحات کیں تاہم بیوروکریسی ان کے راستے میں رکاوٹ رہی اور بالآخر اپنے اصولوں کی خاطر انہوں نے گورنر شپ چھوڑ دی تاہم اس دوران انہوں نے باڑہ خیبر ایجنسی میں کئی سالوں سے بند کارخانے دوبارہ کھلوا دیئے،جبکہ دور دراز علاقوں میں تعلیمی اداروں کے لئے اصلاحات کیں ۔فاٹا کے لئے پہلی یونیورسٹی قائم کی اور کلاسیں بھی شروع کیں ۔ اب سول ایوی ایشن اور پی آئی اے جو پورے پاکستان میں خراب کارکردگی کے اداروں میں شامل ہے، کی تنظیم نو سردار مہتاب کے حصے میں آئی ہے اور ایک بار پھر یہ امید ہو چلی ہے کہ پی آئی اے کو ماضی کی طرح ایک جدید ایئر لائن بنانے میں سردار مہتاب اپنا کردار ادا کریں گے۔

سول ایوی ایشن جو ایئر پورٹس کے تمام انتظامات کی ذمہ دار ہوتی ہے ایئر پورٹس پر سمگلنگ،بے ہنگم افراتفری جیسی چیزوں کو ٹھیک کرنے میں سردار مہتاب نہ صرف معاون ثابت ہوں گے ۔سول ایوی ایشن اور پی آئی اے کی اصلاحا ت کے نتیجے میں جو خرابیاں پائی جاتی ہیں وہ دور ہونے کا امکان ہے سردار مہتاب جب وزیراعلیٰ تھے تو اس وقت سے لے کر وہ ابھی تک بہترین ایڈمنسٹریٹر کے طور پر جانے جاتے ہیں گڈ گورننس اور سخت اصولوں کی وجہ سے انہیں کافی مشکلات کا سامنا بھی کرناپڑتا ہے کیونکہ سردار مہتاب ہمیشہ انتہائی سخت انتظامات رکھنے میں مشہور ہیں ا ور رشتہ داروں سمیت دوستوں کی سفارشا ت بھی نہیں مانتے او ر جو کام میرٹ پر ہو اس کی طرف زیادہ توجہ دیتے ہیں یہی وجہ ہے کہ محمد نواز شریف نے ایک بار پھر پی آئی اے جیسے ادارے کی تنظیم نو جو کئی حکومتوں میں بڑے بڑے حکام نہ کر سکے سردار مہتاب کے ذمے ڈال دیا ہے اور یہ امید ہے کہ سردار مہتاب ا س میں تنظیم نو کر کے کرپشن کو نا صرف ختم کریں گے بلکہ اس ادارے کو منافع بخش بنانے میں اپنا کردار ادا کریں گے۔ سردار مہتاب احمد خان نے بحیثیت گورنر خیبرپختونخوا فاٹا کی ترقی و خوشحالی کے لئے انقلابی اقدامات اٹھائے تھے ۔سردار مہتاب کا دور گڈ گورننس کا تھا۔ فاٹا میں این ٹی ایس نافذ کیا تھا ۔بھرتیوں میں رقوم کے استعمال کا خاتمہ کیا تھا ۔ملک کی تاریخ میں پہلی مرتبہ قبائلی علاقوں میں بھرتیاں سیاسی اثر و رسوخ اور سفارش کے کلچر کو ختم کیا تھا اور میرٹ کی بنیا د پر نوجوانوں کو نوکریاں ملتی تھیں ۔بے روزگاری کے خاتمے کے لئے ایک ارب کی خطیر رقم سے بلا سود قرضوں کی سکیم شروع کی تھی اور لوگوں کو باعزت روزگار کے لئے فاٹا کی تاریخ میں پہلی مرتبہ بلا سود قرضے کا اجراء کیا تھا۔ اسی طرح بے روزگار تعلیم یافتہ نوجوانوں کو فنی تعلیم کے تحت دس ہزار نوجوانوں کو ہر سال مختلف ہنر سکھانے کا پروگرام شروع کیا تھا اور ماہانہ وظیفہ بھی فراہم کیا جاتا تھا۔

لیویز فورس کی بھرتیاں پاکستان ٹیسٹنگ سروس اسلام آباد کے ذریعے کی جاتی ہیں اور اہل جوانوں کی لیویز فورس میں بھرتی کی جاتی ہے ۔فاٹا میں کینسر کے مریضوں کو مفت علاج معالجے کی فراہمی کے لئے ارنم ہسپتال پشاور سے معاہدہ کیا تھا اور کینسر کے مریضوں کا مفت علاج کیا جاتا تھا۔ سردار مہتاب کا بحیثیت گورنر دور مثالی تھا ۔قبائلی علاقوں میں کرپشن کے خاتمے کے لئے کرپٹ ٹھیکیداروں اور افسران کو پکڑ کر جیل میں ڈالاتھا اور ان سے لوٹی ہوئی رقوم قومی خزانے میں جمع کرائی تھیں ۔میرٹ کی بنیاد پر ایماندار اور دیانتدار افسران کو فاٹا سیکرٹریٹ سمیت قبائلی ایجنسیوں میں تعینات کیا جاتا ہے ۔بھاری رقوم اور سیاسی اثر و رسوخ کے عوض پوسٹنگ ٹرانسفرکے کلچر کو ختم کیا تھا۔ حتیٰ کہ فاٹا میں تبادلوں میں ایم این ایز و سینیٹرز، لیگیوں اور رشتہ داروں کی سفارش بھی نہیں چلتی تھی۔

ترقیاتی سکیمیں ترقی سے محروم علاقوں میں میرٹ کی بنیاد پر منظور کی جاتی تھیں ۔سردار مہتاب کا دور قبائلی عوام کے لئے مثالی دور تھا ۔غیور قبائلی عوام آج بھی سردار مہتاب کو گڈگورننس کی وجہ سے اچھے الفاظ سے یاد کرتے ہیں او ر انہیں فاٹا کے لئے مسیحا سمجھتے ہیں ۔اسی طرح اگر وہ فاٹا کے محنتی او ر قابل لوگوں سے کام لیتے ہیں تو نا صرف پی آئی اے میں نا انصافی ختم ہو جائے گی بلکہ ماضی کے ادوار میں پی آئی اے میں جو ملازمین کی بھرتی کے لئے ایک باڑہ سمجھ لیاگیا تھا اور یہاں پر اپنوں کو نوازنے کے لئے نااہل لوگوں کو بھرتی کیاگیا اور حقداروں کی حق تلفی کی گئی اس حوالے سے بھی تمام اقدامات اٹھائے جائیں گے اور پی آئی اے پاکستان کا منافع بخش ادارہ بن جائے گا ۔

مزید :

کالم -