اسلامی نظریہ اور ریاستِ پاکستان۔۔۔ (5)

اسلامی نظریہ اور ریاستِ پاکستان۔۔۔ (5)
 اسلامی نظریہ اور ریاستِ پاکستان۔۔۔ (5)

  

نظریاتی تعلیم سے نظریہ قوم کے ہر طبقے، میں سرایت کرتا ہے۔ کسی ملک کے شہریوں اور نظریے کی مثال ایسی ہی ہے کہ جیسے سکول لیول پر ’’پانی اپنی سطح ہموار رکھتا ہے‘‘ کا سائنسی تجربہ ہے۔ ایک اپریٹس (Apparatus) ہوتا ہے جس میں کئی قسم کی شیشے کی ٹیوبیں لگی ہوتی ہیں۔ ایک سیدھی ہے، ایک ٹیڑھی ہے، ایک بل کھاتی ہوئی اوپر کی طرف گئی ہے، ایک صراحی دار ہے۔ ان ٹیوبوں کا آپس میں ایک افقی بڑی ٹیوب کے ذریعے تعلق ہوتا ہے۔ اس بڑی ٹیوب میں پانی کا والو کھولیں تو پانی اوپر کو اٹھنا شروع ہوتا ہے اور حیرانی کی بات ہے کہ موٹی، باریک، ٹیڑھی، سپرنگ کی طرح بل دار، ہر ٹیوب میں پانی چڑھتا ہے اور سب میں پانی کی سطح ایک جیسی ہوتی ہے۔ اس تجربے سے یہ ثابت ہوتا ہے کہ پانی کو اپس میں ملے ہوئے کسی قسم کے برتنوں میں ڈالو تمام برتنوں میں سطح ایک جیسی ہوگی۔

نظریہ۔۔۔ ریاست کے ستونوں میں اسی طرح سرایت کرتا ہے اور ریاستی سطح پر تمام ستون بلکہ عوام و خواص اور زندگی کا ہر طبقہ مجموعی طور پر ایک جیسا متاثر ہوتا ہے (افراد کا معاملہ دوسرا ہے ہر جگہ اچھے/برے لوگ انفرادی سطح پر مل جائیں گے)۔۔۔لہٰذا نظریاتی نظام کے گزشتہ 60 سالہ فقدان کی وجہ سے ہماری انتظامیہ (سرکاری کار وفاقی سطح سے لے کر قاصد اور چوکیدار کی سطح تک، پولیس، محکمہ مال اور دیگر سرکاری ادارے اور کارپوریشن وغیرہ)، ہماری مقننہ (پارلیمنٹ لاجز میں بے حیائی و بے ہودگی کا کیس اخبارات کی زینت بنا اور مک مکا کے ذریعے دب گیا)، ہماری عدلیہ (ہائی کورٹ اور سپریم کورٹ) کا عام آدمی کو معلوم نہیں، مگر ضلعی اور تحصیل سطح کی عدالتوں کا جو حال ہے ہڑتالیں، تاریخیں، خرچے، رشوت اور مرضی کے فیصلے ہر اس شخص کا تجربہ جو عدالت سے رجوع کرتا ہے۔ فوجداری یعنی قتل وغیرہ کا کیس ہو تو اللہ ہی حافظ ہے جائیدادیں بک جاتی ہیں مگر فیصلے نہیں ہوتے) اور فوج کا معاملہ بھی اوپر درج مثال کی رو سے زیادہ مختلف نہیں ہوسکتا۔ جنرل پرویز مشرف کا ذاتی کردار اور جنرل یحییٰ خان کا ذاتی کردار اگر سامنے رہے تو یہ اسی دیگ کے چاول ہیں اور الا ماشاء اللہ مجموعی حالت وہی ہے جو نظریاتی تعلیم اور نظریاتی تربیت کے فقدان کی وجہ سے ہونی چاہئے۔

آزاد میڈیا کا ریاستی ستون بھی اس وقت مادر پدر آزادی کا قائل ہے اور لبرل ازم اور اباحیت پرستی (ہر شے حلال ہے ہر کام جو دل میں آئے کرو) کا علمبردار ہے۔ ہمارے ٹاک شوز (Talk Shows) ہمارے ڈرامے، ہمارے میڈیا کے عمومی مزاج میں (جو کچھ چند ماہ پہلے جیو کی نشریات پر مذہبی سطح پر ہوا کہ ’کہے صنم بھی ہری ہری‘) اصول اخلاق، مذہب، اللہ، رسول ﷺ، قرآن مجید، خلفائے راشدین، صحابہ کرامؓ اکابرین امت، صلحائے امت، مسلمان بادشاہوں پر مخالفانہ اور سیکولرازم کے نقطہء نظر سے تنقید کے ذریعے سب اصول بالائے طاق رکھ کر صرف ریٹنگ بڑھانے اور دوسروں پر فوقیت حاصل کرنے کا جذبہ کار فرما ہے۔ باپردہ لباس، دوپٹہ، برقع، نمازوں کے اوقات، نماز، اذان یہ سب باتیں ہمارے میڈیا کے لحاظ سے قبل از تاریخ کے روسن اور یونانی دور کے دیو مالائی قصوں سے بھی گئے گزرے تصورات بن کر رہ گئے ہیں۔ اس لئے کہ رومی و یونانی۔۔۔ بت پرستانہ اور گمراہ کن نظریات کا ذکر کریں گے تو انسان جدید اور ماڈرن لگتا ہے جبکہ خدا اور رسول ﷺ کا ذکر کریں گے تو :

’کہ اکبر نام لیتا ہے خدا کا اس زمانے میں‘

والی بات ہے جو ہمارے مسلمان میڈیا کارکنان کو بھی بالعموم پسند نہیں ہے۔اور سب سے آخر میں خود محکمہ تعلیم اور اس کے کارپردازان کے علاوہ ایک عام ٹیچر کا کردار کیا ہے؟ وہ کسی سے پوشیدہ نہیں، لہٰذا ایسے اساتذہ کے زیر تربیت بچے بڑے ہوکر جو کچھ بنتے ہیں، سرکاری ادارے عدلیہ، فوج، میڈیا کا عمومی مزاج اس کا گواہ ہے۔ ان میں سے پھر بھی جو بچے قدرے مسلمان رہتے ہیں، وہ شاید کچھ گھروں کا ماحول اور محلے کی مسجد میں قرآن مجید (ناظرہ) اور نماز کی تربیت کا اثر ہے وگرنہ محکمہ تعلیم میں نصاب سے لے کر امتحانی پرچوں اور نتیجے کے اعلان تک اقرباء پروری اور رشوت کا بازار گرم رہتا ہے۔ انٹری ٹیسٹ کے معاملات میں رشوت کی خبریں اخبارات کی زینت بنتی رہتی ہیں۔ یہ سب کچھ ہماری بنیادی نظریہ کے تحت نظریاتی تعلیم کے شدید فقدان کا نتیجہ ہے۔ اگر تعلیم کے شعبے کا یہ حال ہے تو دیگر ریاستی ادارے ماشاء اللہ۔یہ حال سرکاری سکولوں کا ہے، پرائیویٹ ادارے اور بالخصوص امراء کیلئے بنائے گئے پرائیویٹ سکول اور کالج وغیرہ کااخلاق اور نظریاتی گراف کب کا زیرو سے نیچے جاچکا ہے۔ یہی حال ہمارے ہاں تربیتی اداروں اور ٹریننگ اکادمیوں کا ہے وہاں بھی اخلاق، کردار اور نظریہ، فکر اقبال، اسلام، قرآن، جہاد، یہ سب چیزیں قصۂ ماضی ہیں، ان کا نام شاید ہو۔ ایک زندہ کردار کے طور پر یہ چیزیں وہاں ہوتیں تو وہاں سے تربیت یافتہ افراد میں بھی ہوتیں جو کہ نہیں ہے۔ دھواں نہیں ہے تو یقین ہے کہ آگ کا وجود نہیں ہے۔ (جاری ہے)

مزید : کالم