پاکستان میں ای کامرس کے انقلاب کا آغاز

پاکستان میں ای کامرس کے انقلاب کا آغاز
پاکستان میں ای کامرس کے انقلاب کا آغاز

  

اکیسویں صدی کو اگر الیکٹرونکس عجائبات کا زمانہ کہا جائے تو غلط نہ ہو گا۔ جو کل تک ناممکن تھا، آج ایک ٹھوس حقیقت کے روپ میں ہمارے سامنے ہے۔ گزرے کل میں ایک سے دوسرے شہر فون ملانا تک ایک بے حد مشکل کام تھا، آج ہر بندے کے پاس اپنا موبائل فون ہے اور کمیونی کیشن اس قدر آسان ہو چکی ہے کہ ماضی میں جس کا تصور بھی نہیں کیا جا سکتا تھا۔ رابطوں کی فراوانی نے زندگی کو آسان بنایا اور یہ سلسلہ ابھی جاری ہے۔ آنے والے کل میں پتا نہیں کون کون سے انقلاب رونما ہو جائیں۔ ایسے ہی ایک انقلاب کا نام ای کامرس ہے۔ یہ الیکٹرانک کامرس کا مخفف ہے۔ یہ ایک بزنس ماڈل ہے جو فرموں اور افراد کو انٹرنیٹ پر چیزیں خریدنے اور فروخت کرنے میں مدد فراہم کرتا ہے۔ ای کامرس ایپ کمپیوٹر، ٹیبلٹ یا سمارٹ فونز پر چلائی جا سکتی ہے۔ ای کامرس ٹرانزیکشن کے ذریعے تقریباً ہر نوع کی قابل تصور مصنوعات اور خدمات خریدی اور فروخت کی جا سکتی ہیں، جن میں کتابیں، موسیقی، ہوائی جہاز کے ٹکٹ اور مالی خدمات جیسی سٹاک سرمایہ کاری اور آن لائن بینکنگ شامل ہیں۔ ای کامرس دن میں 24 گھنٹے، ہفتے میں سات دن ہو سکتی ہے۔ اب اس سے بڑھ کر کیا کہا جا سکتا ہے کہ ایمیزون اور علی بابا جیسے بڑے بڑے آن لائن سٹوروں کی کامیابی کا راز ای کامرس میں مضمر ہے، لیکن جب تک ای کامرس کی مکمل تربیت نہ حاصل کر لی جائے، کامیابی کے امکانات کم رہتے ہیں۔

دوسری جانب بے روزگاری کا مسئلہ پوری دنیا کے ساتھ ساتھ پاکستان میں بھی شدت اختیار کرتا جا رہا ہے۔ خصوصی طور پرکورونا وبا کی وجہ سے کاروباری و تجارتی سرگرمیوں کی بندش کے باعث دنیا بھر میں کروڑوں افراد بے روزگار ہو گئے ہیں، پاکستان میں بھی یہ تعداد لاکھوں میں ہے۔ پہلے بھی یہاں بے روزگاری کم نہ تھی، رہی سہی کسر اب کورونا نے پوری کر دی ہے۔ پھر پاکستان میں ہر سال لاکھوں نوجوان تعلیم مکمل کرنے کے بعد نوکریوں کی تلاش میں رہتے ہیں اور انہیں کہیں ڈھنگ کی جاب نہیں ملتی۔ ان دونوں مسائل، یعنی معاشی انحطاط اور بے روزگاری کا حل بھی ای کامرس میں ہی موجود ہے۔

پاکستان کا شمار ان ممالک میں ہوتا ہے، جہاں آبادی کا زیادہ تر حصہ جوانوں یا نوجوانوں پر مشتمل ہے۔ یہ وہ یوتھ ہے جس کا ایک بڑا حصہ کمپیوٹر اور اس سے متعلقہ چیزوں سے خاصی حد تک واقف اور آگاہ ہے۔ ظاہر ہے یوتھ میں کچھ کرنے اور آگے بڑھنے کا عزم باقیوں سے زیادہ ہوتا ہے، چنانچہ یہ کہنا بے جا نہ ہو گا کہ اس یوتھ کو انگیج کر کے پاکستان کو معاشی ترقی کی ان منزلوں کی جانب لے جایا جا سکتا ہے، جس کا خواب ہر محبِ وطن دیکھتا ہے۔ اس منزل تک اسی صورت میں پہنچا جا سکتا ہے جب ہم  نئی نسل کے لیے روایتی طور طریقوں کے بجائے جدید آئی ٹی کو بروئے کار لائیں گے۔ تجارت میں نئی نئی جہتیں،نئے نئے زاویے اور نئے نئے طریقے سامنے آرہے ہیں۔ ای کامرس ان سب کا احاطہ کرتی ہے۔ لوگوں، خصوصی طور پر یوتھ کو فری لانسنگ اور اس میں ای کامرس کی جانب راغب کیا جائے تو اقتصادی استحکام پاکستان اور اس کے عوام کا مقدر بن سکتا ہے۔ 

یہ بات خوش آئند ہے کہ حکومتی سطح پر ای کامرس کی ضرورت اور اہمیت کو محسوس اور تسلیم کیا جانے لگا ہے، جس کا ایک ثبوت یہ ہے کہ چند روز پہلے صدر پاکستان ڈاکٹر عارف علوی نے ای کامرس کے انقلاب کی شروعات کرنے اور پاکستان کو ای کامرس حب بنانے کے سلسلے میں مشاورت کے لئے ٹیم این ایبلرز کو دعوت دی اور اس کے ساتھ سیر حاصل تبادلہء خیالات کیا۔ یاد رہے کہ این ایبلرز ایک ایسی پاکستانی کمپنی ہے جو دنیا کے سب سے بڑے ای کامرس پلیٹ فارم ایمیزون ڈاٹ کام پر مقامی کاروبار اور افراد کو آن لائن سٹورز بنانے میں مدد فراہم کرتی ہے۔ روزانہ کے دوران ایمیزون کی فروخت کا حجم روزانہ کم و بیش 3.5 بلین ڈالر ہے، جبکہ پاکستان کی سالانہ برآمدات 24.5 بلین ڈالر ہیں؟ اس کا مطلب یہ ہوا کہ جتنی برآمدات پاکستان پورے سال میں کرتا ہے، ایمیزون پر صرف7  دن میں اتنی ہی ٹرانزیکشنز ہو جاتی ہیں۔ اس سے یہ اندازہ لگانا مشکل نہیں کہ اتنے بڑے پلیٹ فارم کے ساتھ منسلک ہونے کا کتنا مالی فائدہ ہو سکتا ہے۔ 

ثاقب اظہر ”این ایبلرز“ کمپنی کے چیف ایگزیکٹو آفیسر اور ایبلرز کے کوفاؤنڈر ہیں، جو ایمیزون کے ساتھ منسلک ہونے کے طریقے بتاتی اور تربیت دیتی ہے۔ انہوں نے ایوان صدر میں منعقدہ کانفرنس میں صدر مملکت کو پوری تفصیل کے ساتھ آگاہ کیا کہ کس طرح ای کامرس ملک و قوم کے معاشی استحکام میں کلیدی کردار ادا کر سکتی ہے۔ اس ملاقات یا کانفرنس میں طے پایا کہ این ایبلرز حکومت پاکستان کی مدد کرے گی، تاکہ 2021ء میں ایمیزون منظور شدہ فروخت کنندگان کے حوالے سے پاکستان آئے۔ علاوہ ازیں یہی کمپنی (یعنی این ایبلرز) پورے پاکستان میں چیمبر آف ای کامرس متعارف کروائے گی، جہاں سارے پاکستان میں ای کامرس کمپنیوں اور کاروباری اداروں کو ایک پلیٹ فارم پہ لایا جائے گا تاکہ مقامی اور بین الاقوامی سطح پر پالیسیوں میں مدد کی جا سکے۔ یہ بھی طے پایا کہ ایچ ای سی پورے پاکستان میں ای کامرس ڈگریوں اور پی جی ڈی، یعنی پوسٹ گریجوایٹ ڈگریوں کی راہ ہموار کرنے کے لئے Enablers کے ساتھ مل کر کام کرے گا۔ بتایا گیا ہے کہ ایوان صدر میں اسی سلسلے میں پاکستان کی اعلیٰ انتظامیہ کے ساتھ ای کامرس کے حوالے سے کانفرنسوں اور ای کامرس کے بارے میں آگہی بڑھانے کے حوالے سے مزید سیشن بھی ہوں گے۔ 

اب مسئلہ یہ ہے کہ مناسب تربیت کے بغیر ای کامرس کے شعبے میں آگے بڑھنا مشکل ہو جاتا ہے۔ مشکل ان معنوں میں کہ عالمی سطح پر ہونے والی تجارت خصوصی طور پر آن لائن خرید و فروخت کے اپنے کچھ طریقے، کچھ قواعد و ضوابط اور کچھ اصول ہیں، اس شعبے میں آگے بڑھنے کے لئے جن کا جاننا بے حد ضروری ہے۔ خوش آئند بات یہ ہے کہ پاکستان میں ایسی تربیت کا اہتمام موجود ہے۔ یہ سارے طریقے اور ساری تربیت این ایبلرز (Enablers) گروپ فراہم کرتا ہے، جس کے چیف ایگزیکٹو ثاقب اظہر صاحب نے ملک میں ای کامرس کے بارے میں زیادہ سے زیادہ آگاہی بڑھانے کا عزم کر رکھا ہے تاکہ نئی نسل کے لوگ خود کو اور اپنے کاروبار کو ای کامرس کے ساتھ جوڑ سکیں اور اپنی آگے بڑھنے کی رفتار تیز کر سکیں۔ ثاقب اظہر صاحب کا کہنا ہے کہ اس ملک سے اگر واقعی غربت کا خاتمہ کرنا ہے تو اس کی ایک بڑی بنیاد ای کامرس ہی بن سکتی ہے، کیونکہ یہی وہ ذریعہ ہے جس کی مدد سے آپ گھر بیٹھے اپنے لیے روزگار کے مواقع پیدا کر سکتے ہیں اور وہ بھی وافر اور اپنے پسندیدہ۔ اچھی بات یہ ہے کہ ثاقب اظہر صاحب نہ صرف اس ای کامرس کی آگاہی دیتے ہیں، بلکہ اس کی مدد سے روزگار کمانے کا ہنر بھی سکھاتے ہیں، یعنی وہ تربیت کے نظام سے بھی جڑے ہوئے ہیں۔ ثاقب اظہر کی تحریر کردہ کتاب "Incom Passive" بھی اسی موضوع کا احاطہ کرتی ہے۔

علاوہ ازیں ثاقب اظہر صاحب کے پاس ملک سے غربت ختم کرنے کا ایک جامع پلان بھی موجود ہے۔ وہ گھر بیٹھے روپے کمانے کا طریقہ بتاتے ہیں۔ وہ یہ بھی سکھاتے ہیں کہ ہنر مند افراد کیسے کم تعلیم یافتہ ہونے کے باوجود ڈالروں میں کمائی کر سکتے ہیں۔ انہوں نے ہنر مند افراد کی تربیت کا ایک جامع منصوبہ بھی مرتب کر رکھا ہے۔ وہ بتاتے ہیں کہ گھر بیٹھے ملکی معیشت کو کیسے بہتر بنا سکتے ہیں اور کیسے اپنے مالی حالات بدل سکتے ہیں۔ 

سرمایہ دار کے پاس سرمایہ ہے اور ہنر مند افراد کے پاس ہنر، ثاقب اظہر دونوں کو ایک پلیٹ فارم پر اکٹھا کرتے ہیں تاکہ نتیجہ خیز معاشی ایکٹیوٹیز کی جا سکیں۔ ثاقب اظہر سکھاتے ہیں کہ پاکستان میں رہتے ہوئے ایمیزون سے کیسے کمائی کی جا سکتی ہے۔ انہوں نے اسی حوالے سے ایک یُوٹیوب چینل بھی بنا رکھا ہے، جس پر فری لانسنگ اور ای کامرس کے ذریعے با عزت روزگار کمانے کے طریقوں کی ویڈیوز موجود ہیں۔ ثاقب اظہر کے ادارے (Enablers) میں ہنر مند افراد کی تربیت بھی کی جاتی ہے۔ انہوں نے بتایا کہ ہم کراچی، سیالکوٹ، پشاور، گوجرانوالہ اور فیصل آباد کے صنعت کاروں، نوجوانوں اور مقامی کاروباری اداروں کی مدد کرتے ہیں تاکہ ایمیزون سے رقوم کیسے کمائی جا سکتی ہیں۔ ایمیزون 103 ممالک میں موجود ہے،مگر پاکستان میں نہیں، مگر ثاقب اظہر اس کا بھی حل بتاتے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ اگر کوئی کسی بھی عزیز کا بیرون ملک کا ایڈریس دے تو وہ (ثاقب اظہر) اسے بزنس کے لیے کمپنی بنا کر دیں گے۔

اگر کسی کے پاس ایسا کوئی ایڈریس موجود نہیں ہے تو ثاقب اظہر یہ سہولت فراہم کرتے ہیں کہ ان کی ویب سائٹ کے ذریعے یہ کام کیا جا سکتا ہے۔ ثاقب اظہر بین الاقوامی سطح کی خریدوفروخت کی مارکیٹ میں داخل ہونے اور وہاں کاروبار کرنے کا طریقہ بھی بتاتے ہیں …… تو جناب یہ کہنا بے جا نہ ہو گا کہ پاکستان میں بھی اب ای کامرس کا انقلاب برپا ہونے والا ہے اور یہ کہ جلد ہی ہمارے ملک کی معیشت بھی کسی ترقی یافتہ ملک کی طرح مستحکم ہو جائے گی۔ اس کے لئے صرف ایک شرط ہے کہ پاکستان کا نوجوان طبقہ آگے آئے، ثاقب اظہر ان کی رہنمائی کے لئے تیار ہیں۔

مزید :

رائے -کالم -