اللہ والوں کے قصّے... قسط نمبر 152

اللہ والوں کے قصّے... قسط نمبر 152
اللہ والوں کے قصّے... قسط نمبر 152

  


حضرت یونس ابن عبیدؒ کے بارے میں حکایت ہے کہ آپ ریشم کا کاروبار کرتے تھے اور اپنے مال کی تعریف کبھی نہیں کرتے تھے۔ ایک دن کسی خریدار کے سامنے ریشم نکال رہے تھے کہ ایک شاگرد نے کہہ دیا ”اے اللہ! مجھے بہشت کا لباس عطا فرما۔“

آپ نے ریشم نکالنا بند کردیا اور جو نکال چکے تھے۔ اُسے بھی فروخت نہ کیا کیونکہ انہیں یہ خدشہ لاحق ہوگیا تھا کہ شاگرد نے جو بات کی ہے وہ ان کے مال کی تعریف میں تھی۔

٭٭٭

اللہ والوں کے قصّے... قسط نمبر 151 پڑھنے کیلئے یہاں کلک کریں

ایک دن قاضی مخدوم الملک نے حضرت شاہ حسینؒ کو ڈھول پر ناچتے ہوئے دیکھا۔ قاصی کو یہ بات ناگوار گزری۔ اس نے آپ کو سرزنش کرنے کی خاطر اپنے پاس بلوالیا۔

آپ نے قاضی سے فرمایا ”کیوں قاضی صاحب! ارکان اسلام پانچ ہیں نا۔ پہلا کلمہ توحید اور رسالت ﷺ کا اقرار۔ اس میں تو ہم دونوں شریک ہیں۔ دوسرا نماز اور روزہ۔ ان دونوں کو میں نے ترک کیا۔ چوتھا زکوٰة پانچوں، حج، ان دونوں کو تم نے ترک کیا پھر کیا بات ہے کہ حسین ہی کو فقط مستوجب سزا قرار دیا جائے۔“

قاضی نے مسکراتے ہوئے آپ کو رخصت کردیا۔

٭٭٭

حضرت ابراہیم خواصؒ فرماتے ہیں کہ مَیں ایک مسجد میں تھا۔ وہاں میں نے ایک فقیر کو دیکھا کہ تین دن سے ساکت تھا۔ نہ اُس نے کھایا نہ پیا اور نہ ہی کہیں حرکت کی۔ میں اس کی تاک میں تھا۔

میں نے بھی اپنے سارے کام چھوڑ کر صبر کیا لیکن میں عاجر آگیا۔ پھر میں نے اس سے دریافت کیا کہ تم کیا کھاﺅ گے۔

اس نے کہا گرم روٹی اور کباب۔ میں نے مسجد سے نکل کر دن بھر اس کی تلاش میں تکلیف اٹھائی مگر مجھے روٹی اور کباب کہیں سے میسر نہ آیا۔ آخر تھک ہار کر مسجد کا دروازہ بند کرنے کے بعد بیٹھ گیا۔

کچھ رات گزری تھی کہ ایک شخص نے دروازہ کھٹکھٹایا ۔ میں نے دروازہ کھولا تو ایک شخص گرم روٹی اور کباب لیے دروازے پر کھڑا تھا۔ میں نے روٹی اور کباب لانے کی وجہ پوچھی تو وہ بولا ”روٹی اور کباب کھانے کے سلسلے میں میرے بچوں کے درمیان جھگڑا ہوگیا۔ اس پر مَیں نے قسم کھائی کہ ہم میں سے کوئی نہیں کھائے گا۔ یہ مسجد والے کھائیں گے۔“

میں نے دل میں کہا ۔ الہٰی! جب آپ اس فقیر کو یہی کھلانا چاہتے تھے تو مجھے دن بھر کیوں پریشان کیا۔

٭٭٭

حضرت ابو سلیمان دارانیؒ فرماتے ہیں کہ مَیں خلیفہ وقت کی بات سے انکار کرنا چاہتا تھا اور میں جانتا تھا کہ مجھے مروادیا جائے گا لیکن مجھے اس کا قطعاً خوف نہ تھا اور ظاہر ہے کہ یہ جہاد تھا اور کار ثواب بھی تھا لیکن وہاں لوگوں کا بہت بڑا ہجوم تھا اور میں ڈرگیا کہ یہ مجھے دیکھیں گے تو میری صداقت و شجاعت اور بے باکی پرواہ واہ کے ڈونگرے برسائیں گے اور ہوسکتا ہے کہ یہ دادوتحسین میرے دل میں خود پسندی کے فتنہ خوابیدہ کو بیدار کردے اور مَیں بے اخلاص مارا جاﺅں۔

٭٭٭

حضرت ذوالنون مصریؒ فرماتے ہیں ”شکم سیر کو حکمت حاصل نہیں ہوتی۔ معصیت سے تائب ہوکر دوبارہ ارتکاب معصیت دروغ گوئی ہے۔ سب سے بڑا دولتمند وہ ہے جو تقویٰ کی دولت سے مالا مال ہو۔ قلیل کھانا جسمانی توانائی کا ذریعہ اور قلیل گناہ روحانی توانائی کا ذریعہ ہے۔(جاری ہے)

اللہ والوں کے قصّے... قسط نمبر 153 پڑھنے کیلئے یہاں کلک کریں

مزید : کتابیں /اللہ والوں کے قصے