اللہ والوں کے قصّے... قسط نمبر 151

اللہ والوں کے قصّے... قسط نمبر 151
اللہ والوں کے قصّے... قسط نمبر 151

  


کہتے ہیں کہ حضرت سرمد شہیدؒ کی شہادت کے بعد آپ کے سر سے تین بار لا الہ الا اللہ کی آواز سنائی دی۔ آپ کے ستر نے صرف کلمہ ہی نہیں پڑھا بلکہ کچھ دیر حمد باری تعالیٰ میں بھی مصروف رہا۔

اورنگزیب نے آپ کی شہادت کے بعد تقریباً اڑتالیس سال تک حکومت کی مگر اسے کبھی چین و سکون نصیب نہ ہوا۔ دکن کی لڑائیوں میں کافی وقت گزارا اور وہیں انتقال کیا۔

٭٭٭

اللہ والوں کے قصّے... قسط نمبر 150 پڑھنے کیلئے یہاں کلک کریں

حضرت محمد بن الکمنکدرؒ دکاندار تھے۔ ان کے پاس بیچنے کے لیے کچھ پارچات تھے جن میں سے بعض کی قیمت دس دینار تھی اور بعض کی پانچ۔

ایک دن اُن کی غیر موجودگی میں ان کے ایک شاگرد نے پانچ دینار والا کپڑا ایک اعرابی کے ہاتھ دس دینار میں بیچ ڈالا۔ جب واپس آئے اور حقیقت حال سے آگاہ ہوئے ہوئے تو فوراً نکل کھڑے ہوئے اور دن بھر اس اعرابی کو ڈھونڈتے پھرے۔ آخر وہ مل ہی گیا۔

آپ نے اس سے فرمایا ”کہ وہ کپڑا جو تم خرید لائے ہو، پانچ دینار سے زیادہ کا نہیں ہے۔“

اعرابی نے جواب دیا ”یہ تو ٹھیک ہے لیکن وہ مَیں نے اپنی مرضی اور رضاورغبت سے خریدا ہے۔“

آپ نے فرمایا ”تم نے رضامندی سے خریدا ہوگا لیکن میں جو چیز اپنے لیے پسند نہیں کرتا۔ اسے کسی بھی مسلمان کے لیے پسند نہیں کرتا ہوں۔ اس لیے یہ سودا ختم کردو یا پانچ دینار مجھ سے واپس لے لو، یا پھر میرے ساتھ دکان تک چلو تاکہ میں تمہیں اس سے بہتر کپڑا دے دوں جس کی قیمت واقعی دس دینار ہوگی۔

اعرابی نے دینار واپس لے لیے۔ جب آپ تشریف لے گئے تو اعرابی نے لوگوں سے پوچھا ”یہ مرد خدا کون ہے؟“

لوگوں نے کہا ”یہ محمد المنکدرؒ ہیں۔“

اعرابی نے کہا ”سبحان اللہ! یہ تو ایسا مرد ہے کہ اگر کبھی بادیہ میں خشک سالی ہوجائے تو نمازباراں کے لیے کھڑے ہوکر اس شخص کا نام لینے سے بارش ہونے لگے۔“

٭٭٭

حضرت شاہ حسین کے قلندرانہ مشرب کی شکایت اکبر کے پاس پہنچی۔ اکبر نے آپ کو دربار میں بلایا اور دریافت کیا ”اے درویش! سنا ہے تم خدا رسیدہ ہو۔“

آپ نے جواب دیا ”اس میں کیا شک۔“

اکبر نے پوچھا ”اچھا یہ تو بتائیے کہ آپ خدا تک کس طرح پہنچے؟“

آپ نے جواب دیا ”اے بادشاہ! میں خدا تک نہیں پہنچا خدا مجھ تک پہنچا ہے۔“

ایک درباری نے آپ سے ثبوت مانگا۔ آپ نے اکبر سے مخاطب ہوکر فرمایا ”اے ہندوستان کے سیاہ و سپید کے مالک! موٹی سی بات ہے۔ اگر آپ نہ چاہتے تو یہ گدا آپ تک کیسے پہنچتا؟“

اکبر آپ کا جواب سن کر خوش ہوا اور آپ کو عزت و احترام سے رخصت کیا۔

٭٭٭

حضرت شفیق بلخیؒ فرماتے ہیں کہ ہم نے پانچ چیزیں طلب کیں لیکن ان پانچ چیزوں کو پانچ دوسری چیزوں میں پایا۔

روزی کی برکت طلب کی وہ نماز چاشت میں ملی، قبر کی روشنی طل ب کی اُسے تہجد کی نماز میں پایا، ہم نے منکر و نکیر کے سوالوں کا جواب طلب کیا تو اسے قرا¿ت و قرآن میں پایا، ہم نے پل صراط کا پار ہونا طلب کیا تو اسے روزہ و صدقہ میں پایا اور ہم نے عرس کا سایہ طلب کیا تو اسے خلوت میں پایا۔

٭٭٭

ایک بزرگ نے بلی پال رکھی تھی جس کے لیے وہ ہر روز قصائی سے چھیچھڑے لیا کرتے تھے۔ ایک دن انہوں نے قصاب کو ایک ایسی حرکت کرتے ہوئے دیکھا جس پر احتساب لازم تھا۔ آپ فوراً گھر پہنچے، بلی کو نکال باہر کیا او رپھر قصائی سے محاسبہ کرنے لگے۔

قصائی نے کہا کہ اب کبھی چھیچھڑے مانگ کر دیکھنا۔

بزرگ نے جواب دیا کہ میں بلی کو گھر سے نکال کر ہی احتساب کرنے چلا تھا۔ پس جو شخص ہر کسی کو دوست رکھنا چاہتا ہو تاکہ ہر کوئی اس کی تعریف کیا کرے اور ہر کوئی اس سے خوش رہے تو ایسا شخص کبھی احتساب کرنے کا اہل نہیں ہوسکتا۔(جاری ہے)

اللہ والوں کے قصّے... قسط نمبر 152 پڑھنے کیلئے یہاں کلک کریں

مزید : کتابیں /اللہ والوں کے قصے