اللہ والوں کے قصّے... قسط نمبر 153

اللہ والوں کے قصّے... قسط نمبر 153
اللہ والوں کے قصّے... قسط نمبر 153

  


یہ دولت مند نے یہ اصول بنارکھا تھا کہ صوفیوں کے علاوہ کسی کو صدقہ میں کچھ نہیں دیتا تھا اور کہا کرتا تھا کہ یہ وہ لوگ ہیں جنہیں حق تعالیٰ کے سوا اور کسی کا خیال نہیں ہوتا اور اگر انہیں کسی شے کی حاجت لاحق ہوجائے تو ظاہر ہے وہ خیال جو صرف اللہ کے لئے وقف ہے، پراگندہ ہوکر رہ جائے گا او راس دل کو جو حق تعالیٰ کا دوست ہے ایسے سینکڑوں دلوںپر فضیلت دیتا ہوں جو دنیا کے خیال میں گرفتار ہوں۔

اس کی یہ بات جب حضرت جنیدؒ کو بتائی گئی تو آپ نے فرمایا کہ یہ اولیائے حق میں سے کسی دلی کی کہی ہوئی بات معلوم ہوتی ہے۔

اب ہوا یہ کہ مذکورہ شخص پیشے کے لحاظ سے بقال تھا اور رفتہ رفتہ مفلس ہوگیا کیونکہ دریش اس سے جو چیز خریدتے وہ اس کی قیمت وصول نہ کرتا تھا۔

آخر حضرت جنیدؒ نے اسے مال دیا تاکہ اپنی تجارت جاری رکھ سکے اور ساتھ ہی کہا کہ تجھ جیسے شخص کو آخرت کی تجارت میں خسارہ نہیں ہوسکتا۔

٭٭٭

اللہ والوں کے قصّے... قسط نمبر 152 پڑھنے کیلئے یہاں کلک کریں

ایک مرتبہ موضع منڈیا کے نمبردار نے حضرت شاہ حسینؒ اور آپ کے ساتھیوں کو ایک کمرے میں بند کردیا اور کہا جب تک بارش نہ ہوگی، رہائی ناممکن ہے۔

آپ نے نمبردار سے فرمایا کہ اچھی بات ہے لیکن نان اور مرغ کھلاﺅ پھر دعا کریں گے۔ نمبردار نے آپ کے ارشاد کی تعمیل کی۔ پھر نان اور مرغ کھانے کے بعد آپ نے آسمان کی طرف دیکھ کر کہا ”اب کیا دیر ہے؟“

آپ کا یہ کہنا تھا کہ اَبر گھر کر آیا اور خوب بارش ہوئی۔

٭٭٭

حضرت ذوالنون مصریؒ فرماتے ہیں کہ مَیں ساحل سمندر پر سے گزررہا تھا۔ کیا دیکھتا ہوں کہ ایک لڑکی کھلے سرزرد چہرہ چلی آرہی ہے۔

میں نے کہا ”اے لڑکی! اپنے سر پر دوپٹہ اوڑھ لے۔“

اس نے جواب دیا ”میں ایسے منہ پر دوپٹہ اوڑھوں جس پر ذلت پرستی ہے۔ دوپٹہ کی کیا ضروری ہے۔“ پھر کہا ”اے بے ہودہ! میرے پاس سے ہٹ جا۔ گزشتہ شب میں نے جام محبت نوش کیا ہے۔ جس سے رات بھر طرب میں گزری اور اس کی مستی میں مَیں نے صبح کی ہے۔“

میں نے کہا”اے لڑکی! مجھے کچھ نصیحت کر۔“

اس نے کہا ”اے ذوالنون ! خاموشی گوشہ نشینی اور قوت الایموت پر رضا مندی اختیار کرو۔ یہاں تک کہ موت آجائے۔“

٭٭٭

ایک شخص نے ایک عورت کو پکڑ رکھا تھا اور چھری نکال رکھی تھی اور کسی کو اس کے سامنے آنے کی ہمت نہ پڑتی تھی۔ اُدھر عورت بچاری اس کے تشد دسے چیخ رہی تھی۔

نگاہ حضرت بشر حافیؒ کا گذر ادھر سے ہوا۔ اس شخص کے بالکل قریب کندھے سے کندھا ملا کر کھڑے ہوگئے۔ دفعتاً وہ شخص بے ہوش ہوکر زمین پر گرپڑا اور عورت کو اس کے چنگل سے رہائی مل گئی۔

جب اس کی آنکھ کھلی تو لوگوں نے پوچھا ”تجھے یکا یک کیا ہوگیا تھا؟“

وہ بولا ”مجھے تو اتنا ہی یاد ہے کہ کسی نے آکر میرے جسم سے جسم ملاتے ہوئے بس یہ کہا تھا کہ اوفلا نے ! اللہ تعالیٰ تجھے دیکھ رہا ہے کہ تو کہاں ہے اور کیا کرہا ہے؟ اس کا یہ کہنا تھا کہ میرے دل پر ایک ہیبت سی طاری ہوئی اور میں بے ہوش ہوگیا۔“

لوگوں نے بتایا ”وہ حضرت بشر حافی تھے۔“

اس نے کہا ”آہ! اس ندامت اور خجالت کے ساتھ کس منہ سے ان کی زیارت کو جاﺅں او ریہ کہتے کہتے اسے ایسا تپ چڑھا کہ ایک ہفتہ کے اندر پیغام اجل آپہنچا۔

٭٭٭

حضرت اوزاعیؒ نے حضرت ابراہیمؒ ادھم کو دیکھا کہ ایندھن کا ایک گٹھا سر پر اُٹھائے چلے جارہے ہیں۔

آپ نے کہا ”آپ کب تک اس کسب کا بار اُٹھائے رہیں گے؟ آخر تو آپ کے بھائی بھی اس محنت و مشقت میں آپ کا ساتھ دینے کو تیار ہیں۔“

حضرت ابراہیم ادھمؒ نے فرمایا ”یس چپ رہئیے۔ حدیث شریف میں ارشاد ہوا ہے کہ بہشت اس شخص پر واجب ہوجاتی ہے جو اپنی محنت و مزدوری پر قائم رہتا ہے اور مشقت کی ذلت برداشت کرتا ہے۔“(جاری ہے)

اللہ والوں کے قصّے... قسط نمبر 154 پڑھنے کیلئے یہاں کلک کریں

مزید : کتابیں /اللہ والوں کے قصے