آخری قسط۔۔۔ معلومات سفرنامہ

آخری قسط۔۔۔ معلومات سفرنامہ
آخری قسط۔۔۔ معلومات سفرنامہ

  

لوٹ کر جانا ہے

بینکاک شہر اور اس ملک میں بہت سی جگہیں ہیں جو قابل دید ہیں۔ لیکن بینکاک آکر طبیعت میں ایک نوع کاانقباض پیدا ہوگیا۔ میری طبیعت ہوٹل سے باہر نکلنے پر آمادہ نہ تھی۔ اس لیے میں زیادہ تر اہلیہ کا ساتھ دینے کے لیے باہر گیا۔ یہاں کے شاپنگ سنٹر دیکھے، بدھ مت کی رسومات دیکھیں، بنت حوا کو بکتا دیکھا۔ یہاں کے اس ماحول نے میرے شعور کی اس آنکھ پر شدید اثر ڈالا تھا جو دوران سفر بیدار ہوجاتی تھی۔ خدا کی دنیا بلاشبہ بہت حسین ہے، مگر اس دنیا کے اندر انسانوں نے اپنی جو دنیا تخلیق کی ہے اس میں مادیت، حیوانیت، شرک اور خدا فراموشی نے مل کر وہ آلودگی پیدا کردی ہے جس میں کسی خدا پرست کے لیے سانس لینا بھی دشوار ہوجاتا ہے۔ مگر بینکاک کیا یہ تو اب عالمی کلچر بنتا جارہا ہے۔ لیکن یہ کوئی سادہ معاملہ نہیں۔ یہ اس چیز کا اعلان ہے کہ خدا نے محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ذریعے سے توحید اور انسانیت پر مبنی جو عالمی انقلاب برپا کیا تھا وہ ختم ہورہا ہے۔ اس لیے اب وہ وقت آرہا ہے کہ دنیا کو ختم کردیا جائے۔ اس زمین کا انتظام انسانوں کے ہاتھوں سے لے کر فرشتوں کو دے دیا جائے۔

معلومات سفرنامہ ۔۔۔تینتالیسویں قسط پڑھنے کیلئے یہاں کلک کریں

یہ ہونے جارہا ہے۔ یہ ہونا شروع ہوگیا ہے۔ البتہ اس روز عدل کے آنے سے پہلے خدا اپنے عدل کے تقاضوں کے تحت انسانیت کو آخری دفعہ اپنا پیغام پہنچانا چاہتا ہے۔ مسلمانوں نے یہ کام نہیں کیا۔ وہ قومی لڑائیوں میں لگ گئے۔ لیکن خدا ان کا محتاج نہیں۔ اس نے انفارمیشن ایج کا آغاز کردیا۔ فاصلوں کو سمیٹ دیا۔ علم کی تجدید کردی۔ دینِ خالص کو واضح کردیا۔ اس کے ابلاغ کے ذرائع جنم دے دیے۔ اپنا کام کرنے والے پیدا کردیے۔ آج فیصلہ کن ابلاغ کا کام شروع ہوگیا ہے۔ خدا کا تعارف عام ہورہا ہے۔ اس سے ملاقات کی تنبیہ کی جارہی ہے۔ اس کے رسول اور آخرت کی حجت پوری کی جارہی ہے۔ جس روز یہ کام پایۂ تکمیل کو پہنچے گا اسرافیل اللہ اکبر کہہ کر صور پھونکیں گے۔ زلزلۂ قیامت برپا کردیا جائے گا۔ سمندر ابل پڑیں گے۔ آسمان پھٹ جائے گا۔ ستارے بکھیر دیے جائیں گے۔ سورج تاریک ہوجائے گا۔ پہاڑ کوٹ کوٹ کر برابر کردیے جائیں گے۔ شہر برباد ہوجائیں گے۔ بستیاں ویران ہوجائیں گی۔ انسانیت پر موت طاری ہوجائے گی۔ زندگی ختم ہوجائے گی۔۔۔ زندگی ختم ہوجائے گی۔

پھر صور پھونکا جائے گا۔ زندگی شروع ہوجائے گی۔ زمین کو دلہن کی طرح سجایا جائے گا۔ جہنم کو دہکایا جائے گا۔ شعلوں کو بھڑکایا جائے گا۔ انسانوں کو جمع کیا جائے گا۔ حشر کا دربار سجادیا جائے گا۔ میزان عدل نصب کیا جائے گا۔ حساب کتاب شروع ہوگا۔ فرد فرد کو بلایا جائے گا۔ لمحے لمحے کا حساب ہوگا۔ حکمرانوں کی پکڑ ہوگی۔ دولتمندوں کا حساب ہوگا۔ متکبروں کو گھسیٹ کر ذلیل کیا جائے گا۔ سرکشوں کو جہنم رسید کیا جائے گا۔ مفسدوں اور غافلوں کو ان کے انجام تک پہنچایا جائے گا۔ عمل کرنے والوں کو عمل کا بدلہ دیا جائے گا۔ صبر کرنے والوں کو صبر کا بدلہ دیاجائے گا۔ خدا والوں کو خدا کا قرب دیا جائے گا۔ ابدی بادشاہی شروع ہوگی۔ جنت کے محل آباد ہوں گے۔ حوروں کے خیمے شاداب ہوں گے۔ جنت کے بازاروں میں رونق ہوگی۔ فردوس کی بستی رنگ و نور کی بارش میں ڈوب جائے گی۔ اندھیرے ختم ہوجائیں گے۔ روشنی پھیل جائے گی۔ خواب ختم ہوجائیں گے۔ تعبیر سامنے آجائے گی۔ زندگی سامنے آجائے گی۔ زندگی شروع ہوجائے گی۔۔۔ زندگی شروع ہوجائے گی۔

بینکاک میں میں چار دن مردہ دلی کے عالم میں رہا۔ خواب دیکھتا رہا۔ اس لیے کہ خواب زندگی کی علامت ہے۔ انھی خوابوں کے ساتھ بینکاک سے زندگی کی امید لیے واپس اپنے ملک کی طرف روانہ ہوا۔ اس امید پر کہ کبھی اپنے حقیقی وطن کی طرف بھی زندگی کی امید پر لوٹ کر جانا ہوگا۔

ختم شد

مزید : کھول آنکھ، زمین دیکھ