پنشنرز کے حقوق دیئے جائیں

پنشنرز کے حقوق دیئے جائیں

  



ایک انتہائی اہم معاملہ ارباب اقتدارکے نوٹس میں لاناچاہتے ہیں کہ جمہوری دورحکومت اور آزادعدلیہ کے ہوتے ہوئے بوڑھے پنشنرکے جائز قانونی حقوق سلب کرلیے گئے جبکہ برطانیہ اور دیگرملکوں میں پنشنرکے جائزحقوق پر زیادہ توجہ دی جاتی ہے۔ مگر شاید ان سینئر سیٹزن بوڑھے پنشنرز پاکستان میں جینے کا کوئی حق نہیں۔ وفاقی حکومت کی جانب سے ہرسال پراشوب مہنگائی کے پیش نظرپنشنرزکی مشکلات کم کرنے ابور ان کی اشک شوئی کےلئے پنشن میں اضافہ کا اعلان کیاجاتاہے۔ جس پرحکومت کے تمام ادارے من وعن عمل کرتے ہوئے پنشنرکی پنشن میں اضافہ کردیتے ہیں۔ مگر ستم درستم یکم جولائی 2010ءسے پی ٹی ای ٹی (PTET)پنشن ٹرسٹ انتظامیہ اور پی ٹی سی ایل کی غیرملکی انتظامیہ پنشنرزکی پنشن اضافہ میں 50فیصد غیرقانونی کٹوتی کا سلسلہ جاری رکھے ہوئے ہے۔ جبکہ یہ وہ ملازمین ہیں جن کو ٹی اینڈ ٹی (T&T)ڈیپارٹمنٹ گورنمنٹ آف پاکستان کے قوانین کے تحت بھرتی کیا گیا تھا۔

 ان ملازمین /پنشنرزکوری آرگنائزیشن ایکٹ1996کے تحت حکومت ان کی ملازمت کے تحفظ بشمول ، پنشن بینیفٹس کی قانون کی روح سے گارنٹر یعنی (ضامن) بھی ہے اس کے علاوہ پنشن ٹرسٹ ایکٹ 1882 کے تحت کسی بھی حکومتی ادارہ کو پنشنرزسے پیشگی رائے لیے بغیر پنشن قوانین میں تبدیلی کاکوئی اختیارحاصل ہی نہیں ہے۔ یہاں یہ بات بھی قابل غور ہے کہ پی ٹی سی ایل ری آرگنائزیشن ایکٹ1996کوکہ پارلیمنٹ آف پاکستان سے باقاعدہ منظورشدہ ہے۔ اس ایکٹ1996کے تحت جوملازمین 31.12.1995تک بھرتی ہوئے تھے انہیں ٹرانسفرڈ ایمپلائی قراردیتے ہوئے گورنمنٹ ملازم کا درجہ دیاگیا۔ یہی وجہ ہے کہ ان واضح قوانین کے پیش نظر اسلام آباد ہائی کورٹ کے سنگل بینچ، ڈبل بینچ اور پشاور ہائی کورٹ کے ڈبل بینچ نے پنشنرزکے حق میں تفصیلی فیصلہ دیتے ہوئے حکم جاری کیا کہ تمام PTCLپنشنرزکو فوری پنشن اضافہ مع بقایا جات دیاجائے۔

 مگر PTCLنے اعلیٰ عدلیہ کے فیصلوں پر عملدرآمدنہ کرکے جہاں پنشنرزکو آج تک انصاف سے محروم رکھا ہواہے وہیں اعلیٰ عدلیہ کی حرمت اور تقدس کو بھی پامال کیاجارہاہے۔ ایسالگتا ہے کہ جیسے اس ملک میں جنگل کا قانون ہے پی ٹی سی ایل کی غیرملکی کمپنی اتصالات کو کوئی بھی پوچھنے والا نہیں۔ بوڑھے پنشنرزکے ساتھ مزید ستم ظریفی یہ ہے کہ وفاقی وزیرانفارمیشن ٹیکنالوجی، وفاقی سیکرٹری، انفارمیشن ٹیکنالوجی اور MDپنشن ٹرسٹ نے اس سال بجٹ میں کیے گئے 10فیصد پنشن اضافہ کی ادائیگی کو ناصرف روک رکھاہے بلکہ PTCLانتظامیہ کی جانب سے غیرقانونی ، غیرآئینی اقدامات کی مکمل حمایت اور سرپرستی کی پالیسی پر عمل پیرا ہیں۔ ہم وزیراعظم پاکستان اور چیف جسٹس سپریم کورٹ آف پاکستان سے اپیل کرتے ہیں کہ 40ہزار بوڑھے پنشنرز اور 12ہزار فیملی پنشن لینے والی بیواﺅں یتیم بچوں کے ساتھ ہونے والے ظلم ناانصافی اور حق تلفی کا نوٹس لیتے ہوئے پنشنرزکواعلیٰ عدلیہ کے فیصلوں کے مطابق مکمل پنشن اضافہ مع بقایا جات دلائے جانے کے احکامات جاری کریں۔ تاکہ ہزاروں مظلوم پنشنروں ، بیواﺅں اور یتیموں کی دادرسی ہوسکے۔

مزید : کالم