ایشیاءکا وہ جزیرہ جس پر داعش نے قبضہ کرلیا، انتہائی تشویشناک خبر آگئی

ایشیاءکا وہ جزیرہ جس پر داعش نے قبضہ کرلیا، انتہائی تشویشناک خبر آگئی
ایشیاءکا وہ جزیرہ جس پر داعش نے قبضہ کرلیا، انتہائی تشویشناک خبر آگئی

  

منیلا (نیوز ڈیسک) جرائم پیشہ مافیا کے خلاف سفاکانہ جنگ لڑنے کی شہرت رکھنے والے فلپائنی صدر راڈری گوڈوٹرٹے یہ جان کر ششدر رہ گئے ہیں کہ ان کے ملک کے ایک اہم جزیرے پر داعش سے منسلک مقامی دہشت گردوں نے قبضہ کر لیا ہے۔ بزنس انسائیڈر کی رپورٹ کے مطابق فلپائنی صدر نے جزیرے کا قبضہ چھڑوانے کے لئے دہشت گردوں کے خلاف فیصلہ کن کاروائی کا اعلان کر دیا ہے۔ اپنی مخصوص حکمت عملی کے مطابق انہوں نے ابوسیاف دہشتگرد گروپ کے سرکردہ رہنماﺅں کو زندہ پکڑنے یا ہلاک کرنے والوں کیلئے بھاری انعام کا اعلان بھی کردیا ہے۔ انہوں نے یہ اعلان بوحول جزیرے پر ابوسیاف گروپ کی تازہ ترین کارروائی کے بعد کیا، جس میں سیاحوں کو اغواءکرنے کی کوشش کی گئی تھی۔

جنگ کا خطرہ شدید ترین ہوگیا، وہ ملک جس کی سرحد پر روس نے اپنے جدید ترین میزائل پہنچادئیے، یہ کوئی عرب ملک نہیں بلکہ۔۔۔

اس سے پہلے ابوسیاف گروپ جولو، طوی طوی اور بسلان جزائر کے دور دراز علاقوں میں متحرک تھا ۔ اس گروپ کے وسطی فلپائن کے جزیرے پر قبضے نے صدر ڈوٹرٹے کو سخت مشتعل کردیا ہے۔ انہوں نے اپنے بیان میں کہا ”میں جولو جزیرے پر چڑھائی کروں گا۔ تمام فوج اور بحریہ وہاں جائے گی۔ اب جنگ ہوگی۔ وہ یہی چاہتے ہیں اور میں انہیں وہی دوں گا جو وہ چاہتے ہیں۔ میں ان سے کہوں گا کہ وہ اپنی جگہ موجود رہیں۔ میں نے بحریہ کو حکم دے دیا ہے کہ وہ انہیں بھسم کردے۔ مجھے کوئی ضرورت نہیں ہے کہ وہ ہتھیار ڈالیں۔ میں نے حکم دیا ہے کہ توپیں چلاﺅ اور انہیں ختم کردو۔“

یاد رہے کہ ابوسیاف گروپ فلپائن میں کئی دہائیوں سے متحرک ہے۔ حالیہ سالوں میں اس نے داعش سے بھی تعلقات قائم کرلئے ہیں۔ اس گروپ پر یہ الزام بھی ہے کہ یہ لوٹ مار اور اغوا کی وارداتوں میں بھی ملوث ہے۔ ماضی میں اس گروپ کی جانب سے تاوان نہ ملنے پر کئی سیاحوں کے سر قلم کرنے کے واقعات بھی پیش آچکے ہیں۔

صدر ڈوٹرٹے کا کہنا تھا کہ اب اس گروپ کا آخری وقت آگیا ہے۔ انہوں نے عوام سے اپیل کی کہ وہ اس کے سرکردہ رہنماﺅں کے سرکاٹ کر لائیں۔ ہر اہم رہنما کو مارنے کے بدلے 60 لاکھ پیسو (تقریباً سوا کروڑ پاکستانی روپے) انعام کا اعلان کیا گیا ہے ۔

مزید : بین الاقوامی