طلباء یونین کی بین الاقوامی اور قومی سطح پر اہمیت!

طلباء یونین کی بین الاقوامی اور قومی سطح پر اہمیت!

  



دنیا بھر میں کسی بھی معاشرے میں جب بھی جمہوریت کو مضبوط اور مستحکم بنانے اور معاشرے میں جمہوری روایات کو پروان چڑ ھانے کی بات کی جاتی ہے توسب سے پہلے ان معاشرتی عوامل کو اس بحث کا حصہ بنایا جاتا ہے جو بلا واسطہ یا بلواسطہ اس عمل پر اثر انداز ہوتے ہیں۔اقوام عالم کی جمہوری، معاشی، معاشرتی، سماجی ترقی میں براہ راست حصہ نوجوانوں بالخصوص طلبہ کا ہے۔ پاکستان اس لحاظ سے مالا مال ملک ہے کہ اس کی آبادی کا 60فیصد سے زائد حصہ نوجوانوں پر مشتمل ہے لیکن بدقسمتی سے یہاں جمہوریت سے وابستہ طبقہ نوجوانوں کے حقوق و موثر قانون سازی کی بات تو کرتا ہے مگر عملا اقتدار ملنے پر تمام کئے وعدے بھول جاتا ہے۔ پاکستان میں شفاف جمہوری استحکام کی راہ میں بڑی رکاوٹ گزشتہ 34سے طلبہ یونینز پر عائد جبری پابندی ہے۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ ملک کی تمام سیاسی جماعتیں طلبہ یونینز کو نوجوانوں کا انکا آئینی حق تسلیم کرتی ہیں لیکن حکومت بنانے کے بعد اس مسئلہ سے پہلو تہی سے کام لیتی نظر آتی ہیں۔9 فروری 1984ء کو پاکستان کے تعلیمی اداروں میں طلبہ یونینز پر عائد کی جانیوالی پابندی کیساتھ ہی تعلیمی اداروں میں طلباء کی نشو ونما، بہبود اور صحت مند مباحثے کا کلچر ختم ہوگیا۔اس غیر آئینی اقدام کے باعث ہم تعلیمی اداروں میں تعلیم کے ساتھ ساتھ تربیت اور نوجوانوں کی غیر تدریسی مثبت سرگرمیوں میں شمولیت سے محرومی کا بحیثیت قوم نقصان اٹھا رہے ہیں۔ڈکٹیٹر ضیاء الحق کی جانب سے لگائی جانیوالی پابندی کو جمہوریت کے چیمپیئن حکمرانوں نے وعدوں کے باوجود بھی ختم نہ کیا۔ 1970ء سے 1980ء کی دو دہائیوں میں طلباء یونینز کے پلیٹ فارم سے سیاست، سائنس، طب، انجینئر نگ، ادب، صحافت سمیت ہر شعبے میں ملک کو بہترین قیادت اور غیر معمولی لوگ میسر آئے۔طلبہ یونینز کی تربیت گاہوں سے نکلنے والے افراد نے دنیا بھر میں اپنی صلا حیتوں کا نہ صرف لوہا منوایا بلکہ ملک کے لئے گراں قدر خدمات بھی سر انجام دیں۔طلبہ یونینز پر محض سیاست کرنے کا الزام عائد کیا جا تاہے اور ان طلباء کی سیاست میں شمولیت مناسب نہیں سمجھی جاتی لیکن انہی یونینز کے پلیٹ فارم سے اپنے عہد کے سیاسی، فسلفیانہ اور سائنسی موضوعات اور نظریات پر صحت مندانہ مباحثے، آرٹ اورکھیلوں کے مقابلہ جات، ادبی مشاعرے منعقد ہوتے تھے الغرض طلباء اپنے عہد کی دانش سے جڑے رہتے تھے۔ انہیں ادراک ہوتا تھا کہ عالمی ممالک کے درمیان کیا تضادات اور اختلافات چل رہے ہیں۔علاقائی اور ملکی سیاست میں کیا صف بند ی ہے۔اپنے حقوق کے کیلئے کیسے آواز بلند کرنی ہے۔ان کے درمیان ہر وقت مقابلے کی صلاحیت اور قیادت کرنے کا جوہر مو جود ہوتا تھا۔ وہ اختلافات کو گفتگو کے کلچر سے با آسانی حل کرنے کا ہنر رکھتے تھے لیکن آج تعلیمی اداروں میں موجود طلبہ کی بڑی تعداد مذکورہ سرگرمیوں میں شامل نہیں ہیں۔تعلیمی اداروں میں طلبہ یونینز پر پابندی کے بعد تعلیمی ادارے بالخصوص جامعات کی فضا میں بے چینی، انتہاپسندی، عدم برداشت، لسانیت، صوبائیت پر مبنی پر تشدد رویوں نے جنم لیا۔ اب ایک طویل وقت گزرنے کے بعد انتہا پسندی دہشت گردی کی شکل اختیار کر گئی۔اس سے قبل دہشت گردی کو فروغ دینے میں دینی مدارس پر الزام عائد کیا جاتا تھا کہ دینی مدارس کے غریب طلباء چند رپوں کے عوض سفاکا نہ کارائیوں کیلئے بہترین انتخاب ہیں اور انکی برین واشنگ باآسانی کی جاسکتی ہے لیکن اب یہ فتنہ خوفنا ک طور پر دن بدن تعلیمی اداروں کو اپنی لپیٹ میں لے رہا ہے۔ دنیا بھر میں طلبہ یونینز تعلیمی اداروں میں مختلف ناموں سے کام کررہی ہیں جن میں طلبہ سینٹ، طلبہ یونین، طلبہ ایسوسی ایشن اور گورنمنٹ آف سٹوڈنٹ باڈی سر فہرست ہیں۔ہمسایہ ملک بھارت اور بنگلہ دیش میں طلبہ کو یونین سازی کا مکمل حق حاصل ہے۔ امریکہ میں طلبہ یونین کے سالانہ انتخابات سرکاری سطح پر منعقد کئے جاتے ہیں ان کاماننا ہے کہ یونینز طلبہ کے تعلیمی قومی وعلاقائی مسائل کا واحدحل ہیں۔آسٹر یلیا کی ہر بڑی جامعہ میں ہر شعبہ کی الگ الگ یونینز موجود ہیں۔ سیاسیات، معاشیات، وکالت او ر میڈیا کے شعبہ جات میں طلباء یونینز ذیادہ سرگرم اور فعال ہیں۔2011ء میں آسٹریلیا کی حکومت نے بل پاس کیا جامعات میں موجود طلباء یونینز ہر طالبعلم سے چندہ لیں تاکہ مختلف مسائل حل کرنے میں جو بجٹ خسارہ ہو اسے مکمل کیا جاسکے۔ چین میں طلباء یونینز سٹوڈنٹس لیگ کے نام سے فعال ہیں۔چائنہ میں زیادہ تر تنظیمیں کمیونسٹ یوتھ لیگ کے ماتحت ہیں کیونکہ کمیونسٹ پارٹی وہاں زیاد ہ اثر ورسوخ رکھتی ہے۔اسی طرح مصر،ہانگ کانگ، ملائیشیاء نیوزی لینڈ، فرانس، جرمنی، سری لنکا، یونان، آئر لینڈ، یورپ میں بھی طلبہ تنظیمیں کام کررہی ہیں۔ الغرض دنیا بھر میں جہاں بھی جمہوریت ہے وہاں طلبہ یونینز آذادانہ طور پر سرگرم ہیں۔ میاں نواز شریف نے بطور وزیر اعلی پنجاب 89ء میں آخری طلبہ یونین انتخابا ت منعقد کرائے۔ اپریل 1993ء میں چیف جسٹس افضل ظلہ نے طلبہ یونینز پر عائد پابندی ختم کرنے اور انتخابات کرانے کا فیصلہ جاری کی لیکن 26سال گزرنے کے باوجود سپریم کورٹ کے یونین انتخابات کے فیصلے پر عملدرآمد یقینی نہیں بنا یا جاسکا۔ جسٹس سید نسیم حسن شاہ سمیت اہم قانونی ماہرین نے بھی یونین پابندی کے فیصلے کو نا مناسب قرار دیا تھا۔ پیپلز پارٹی کے گزشتہ دور حکومت میں سابق وزیر اعظم سید یوسف رضا گیلانی نے حلف اٹھانے کے فوری بعد اسمبلی کے فلور پر طلبہ یونین کی بحالی کا اعلان کیا لیکن وہ وعدہ بھی وفا نہیں کیا جاسکا۔ گزشتہ دس برس سے جمہوری حکومتوں کی موجودگی میں طلبہ یونین کے انتخابات نہ ہونا آمریت کی مثال ہے۔ پاکستان کے چاروں صوبوں میں اقتدار پر قابض تین بڑی سیاسی جماعتوں کے طلبہ ونگز ہونے کے باوجود بھی اپنی اپنی سطح پر طلبہ کو انکے آئینی حق سے محروم رکھا جارہا ہے۔ سابق چیئرمین سینیٹ میاں رضا ربانی نے بھی سینٹ میں رولنگ دیتے ہوئے طلبہ یونینز پر پابندی کو 1973ء کے آئین اور بنیادی انسانی حقوق کی صریح خلاف ورزی قرار دیا تھا۔ اب دیکھنا یہ ہے کہ تبدیلی کا نعرہ لگا کر حال ہی نوجوانوں کے 60فیصد سے زائد ووٹوں پر سفر کر کے اقتدار میں آنیوالی پاکستان تحریک انصاف طلباء کو انکا آئینی و دیرینہ حق دیتی ہے یا پھر وہ بھی ماضی کی حکومتوں کی طرح محض ایک خواب ہی رہیگا۔ نئے پاکستان کے سو روزہ پلان میں پنجاب حکومت نے طلباء یونین کی بحالی کا فیصلہ فی الوقت موخر کیا ہے جبکہ وفاقی حکومت کی جانب سے بھی نئے پاکستان میں طلباء یونین کے انتخابات کا تاحال کوئی گرین سگنل نہیں دیا گیا۔پاکستان تحریک انصاف میں بھی ماضی کی طلباء سیاست کے بڑے نام شامل ہیں۔ اس امر میں بھی کوئی شک نہیں کہ ملک کی تاریخ میں پہلی بار بڑی تعداد میں نوجوان نسل نے تحریک انصاف کی کھلم کھلا سیاسی حمایت کا اعلان کیا۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ تحریک انصاف کی ذیلی طلبہ تنظیم انصاف سٹوڈنٹس فیڈریشن بھی اس مسئلہ پر اپنی ہی حکومت سے یونین بحالی کا مطالبہ کررہی ہے۔ نئے پاکستان کے میر کارواں وزیر اعظم پاکستان جناب عمران خان صاحب کو یہ تسلیم کرنا ہوگا کہ تعلیمی اداروں میں طلباء کی مثبت موثر سرگرمیوں میں شمولیت پر پابندی مسئلہ کاحل نہیں ہے۔تعلیمی اداروں میں پر لڑائی جھگڑوں کو بنیاد بناکر پابندی عائد کی گئی ہے تو سیاست کے ایوان بھی آئے روز میدان جنگ کا منظر پیش کرتے ہیں۔جامعات کی سطح پر جہاں اساتذہ کی تنظیمیں کام کررہی ہیں اور باقاعدہ طور پر سالانہ انتخابات منعقد کرتی ہیں وہیں طلبا ء کی تنظیموں کو بھی اپنے نمائندے منتخب کرنے کا حق دیا جانا چاہیے۔ طلبہ تنظیموں کو بھی ماضی کی غلطیوں کا اعتراف کرکے انکے تدارک کیلئے مل جل کر ایک ایسا فریم ورک تیا ر کرنا ہوگا جس سے تعلیمی اداروں میں امن، تحقیق، مذہبی ہم آہنگی، برداشت اور مباحثے کا کلچر عام ہوسکے اور طلبہ کے مسائل کے ساتھ ساتھ علاقائی، ملکی و ملی مسائل کا حل اور خطہ کی ترقی و استحکام کیلئے معاشرے کے اہم فرد کی حیثیت سے اپنا حصہ شامل ہو کیونکہ نئے پاکستان کا خواب کسی صورت نوجوان طبقہ کی حمایت اور موثر شمولیت کے بغیر شرمندہ تعبیر نہیں ہوسکتا۔

٭٭٭

مزید : ایڈیشن 1