منو بھائی کی یادیں اور باتیں 

منو بھائی کی یادیں اور باتیں 
منو بھائی کی یادیں اور باتیں 

  

منوبھائی کو ہم سے بچھڑے چاربرس بیت گئے ہیں۔یہ انیس فروری کادن تھاجب ان کے انتقال کی منحوس خبر موصول ہوئی۔ منوبھائی سے جب کو ئی ان کا سن پیدائش پو چھتا تو اکثر مذاقاً ہٹلر کے جرمنی میں بر اسراقتدار آنے کے واقعے کے سا تھ ملا کر 1933ء بتا یا کر تے تھے۔ عہد سا ز صحا فی، نامور پنجا بی شا عر، مقبول ڈرامہ نگا ر اور بائیں با زو کے اس عظیم دانشور کی موت کا دکھ اس لئے بھی بہت زیادہ ہے کہ اب اس جیسا کو ئی دوسرا نظر نہیں آرہا، جس منیر احمد قریشی کانام احمد ندیم قاسمی نے منو بھائی رکھا تھا وہ چھ دہائیا ں صحافت میں بھر پور طریقے سے سر گرم عمل رہے، مگر ان کے بدترین دشمن بھی ان کی دیا نت کی گواہی دیتے تھے۔ نظر یا تی مخالفین بھی اس اصول پر ست شخصیت کے با رے میں کہتے ہیں کہ طویل صحا فتی کیئر ئیر میں انہوں نے کبھی اپنے نظریا ت کی قیمت وصول نہیں کی۔ قلم کی حرمت کو پامال نہیں ہو نے دیا۔ تمام زندگی منو بھائی نے اپنے قلم کو غریبوں کے حقوق اور کمزوروں کی حمایت کے لئے استعمال کیا۔ بے کسوں، مسکینوں اور لا چا رو نادارلو گوں سے ان کو خصو صی محبت تھی۔ تمام زندگی اس مجبور ومحکوم طبقے کے لئے وہ قلمی جہاد کر تے رہے۔ چھ فروری 1933 ء کو وزیر آبا دمیں اسٹیشن ما سٹر کے ہا ں پیدا ہو نے والے اس شخص کی وفا ت کے سا تھ ہی اردو صحا فت کا ایک درخشاں عہد اپنے اختتام کو پہنچا۔ 

میری خوش قسمتی ہے کہ میرا ان کے ساتھ کافی وقت گزرا۔ان کے ساتھ عقیدت مندی کا سلسلہ زمانہ طالب علمی سے شروع ہو گیا تھا۔ اسی نیاز مند ی کا اظہا ر ہم دو ستوں نے ”منو بھائی فین کلب“ کے قیا م کی صورت میں کیا، اس کا نام انہوں نے خو د تبدیل کر کے ”منو بھائی فرینڈز کلب“رکھ دیا۔ متعدد با ر میری دعوت پر میاں چنوں تشریف لا ئے اور مشاعروں میں شرکت بھی کر تے رہے۔ میرے لئے یہ اعزاز کی بات ہے کہ میں نے منو بھائی پر بہت سارا تخلیقی کام کیا ہے۔سوشلسٹ ہونے کے سبب انہیں معیشت اور سرمائے کی منصفانہ تقسیم کے موضو ع سے خصوصی دلچسپی تھی۔میں نے ان کے معیشت کے موضوع پر تحریرکردہ کالمزاورمضامین کو ان کی نگرانی میں اکٹھا کیا۔مرزاغالب کے مصرعے ”باغ سے بازار تک“کے نام سے یہ کتابی شکل میں یکجا ہوئے۔جب میں نے ان کے اخباری کالمزکاانتخاب اوران پر تحقیق و ترتیب کا کام کرنے کی خواہش کا اظہا ر کیا تو کہنے لگے! پہلے قیصر زیدی نے یہ کام شروع کیا تھا۔ مگر اس نوجوان صحافی کی اچا نک رحلت کی وجہ سے یہ کام رک گیا تھا۔ پھر ایک طالب علم نے دو بار ہ یہ ترتیب و تحقیق کاکام شروع کیا اور وہ بھی بدقسمتی سے وفا ت پا گیا۔ اب میں کسی تیسرے نو جوان کی جان نہیں لینا چا ہتا ہو ں۔ یہ خیران کی بزلہ سنجی اور شگفتہ طبیعت کا حصہّ تھا، میں ذرا سخت جان ثا بت ہوا اور معاشی کا لمز ”باغ سے بازار تک“ کی صورت میں جمع ہو گئے۔

منو بھائی ایک درد مند دل رکھتے تھے۔ بہت حسا س، ہمدرد اور محبت بھرے آدمی تھے۔ مرنے والوں کی یا د میں ان کے تحریر کر دہ کالمز ”جنگل اداس ہے“ کے نام سے شا ئع ہو ئے جوکہ ادب کا شاہکار ہیں۔ مجھ سے بہر حال انہوں نے اس خواہش کا اظہار کیا تھا کہ وہ اس کتاب کا نام تبدیل کر نا چا ہتے ہیں، ان کے بقول یہ اے۔ حمید کے کسی ناول کا نام بھی شا ید پہلے سے تھا۔ پنجابی شا عری کی کتا ب ”اجے قیا مت نئیں آئی“ کے نام سے چند سال پہلے شائع ہو ئی، جس میں صرف نظمیں ہی ہیں۔ میں نے اس کے متعلق ان سے استفسار کیا تو کہنے لگے کہ غزل اردو زبان میں زیادہ ارتقا ء پذیر ہو چکی ہے اور نظم ارتقائی اعتبار سے پنجا بی میں زیادہ آگے ہے۔ اس لئے میں نے نظم کی صنف کو ہی چنا ہے۔ ڈرامہ نگاری کی با ت کریں تو ”سونا چا ندی“ ایساشا ہکار ہے، جو کہ ہمیشہ پاکستانی ڈرامے کی تا ریخ کے ما تھے کا جھو مر رہے گا۔

 منو بھائی کے ڈرامے کے کردار عام زندگی کے عوامی کر دار ہوتے تھے۔ ہندوستانی ڈراموں پر تنقید کرتے ہو ئے کہا کر تے تھے کہ یہ کس طرح کے کر دار ہیں؟ ارب پتی بیگم صاحبہ، گھر میں سونے کے زیورات سے لدی، پھندی بیٹھی ہیں مگر اسی گھرمیں ڈرائیور کا کوئی کر دار نہیں اور بیگما ت گا ڑی خو د چلا تی ہیں۔ نو سو کر وڑ کے کا روبار کی با ت ہو رہی ہے اور گھر میں با ورچی نظر نہیں آرہا، یہ کس طرح کا ڈرامہ ہے؟آخری عمر میں انہوں نے ڈرامے لکھنا ترک کر دیا تھا۔ میں نے وجہ پو چھی تو کہنے لگے کہ یار اب میں کوکا کو لا اور نیسلے کے لئے تو ڈرامہ نہیں لکھ سکتا۔یہ ایک تلخ حقیقت ہے کہ آج پاکستان میں ملٹی نیشنل کمپنیاں ٹی وی ڈراموں کامواد بھی ڈکٹیٹ کرواتی ہیں۔

جمہو ریت میں ان کاکامل ایمان تھا۔ ضیا ء الحق کے آمرانہ دور میں بڑے مشکل حالات سے گزرے مگر کلمہ حق بلندکر تے رہے۔ بھٹو خاندان کے سا تھ ان کی خصو صی محبت تھی، اس کی وجہ شخصی نہیں نظریا تی تھی، کیونکہ بھٹو صا حب نے پیپلز پا رٹی کا جو بنیادی منشور پیش کیا، اس کے مطا بق انہوں نے ”سو شلزم ہماری معیشت ہے  کا نعرہ دیا تھا“۔ منو بھائی راسخ العقیدہ سو شلسٹ ہو نے کے سا تھ ساتھ سیدھے، سا دھے مسلمان بھی تھے۔ وہ شکوہ کرتے تھے کہ روس کے کیمو نسٹو ں نے مذہب کو ہدف تنقید بنا کر برا کیا تھا، کمیو نزم تو ایک خالصتا ًمعا شی مو ضو ع ہے، پھر مذہب کے خلاف بکواس کر نے کی بھلا کیا ضرورت تھی۔ وہ ایک ترقی یا فتہ اور جدید پا کستان چاہتے تھے جہا ں عدالتی انصاف کے علاوہ معاشی انصا ف بھی موجو د ہو۔ ہمیشہ مسکراتے رہتے تھے، حالات چا ہے جتنے بھی مشکل کیو ں نہ ہوں۔ پہا ڑ جیسا حو صلہ چا ہیے ایسی مسکراہٹ برقرار رکھنے کے لئے، اورپھرمسکراہٹیں بکھیرنے کی کو شش بھی کر تے۔ بیما ر بچو ں کے چہروں پر مسکراہٹ دیکھ کر وہ بہت خو ش ہو تے۔ سندس فاؤنڈیشن کے سا تھ ان کی جذبا تی وابستگی تھی۔ تھیلیسمیاکے مریض بچوں کی وہ ہمیشہ خصو صی دلچسپی لے کر مدد کر تے اور تمام دو ست احباب کو بھی مدد کر نے پر ابھا رتے تھے۔ عمران خان کی دعوت پر اکثر شوکت خانم ہسپتال جا تے اور کینسر کے مریض بچوں کے لئے کتا بوں کا تحفہ سا تھ لے جاتے۔ ان بچوں کے پاس بیٹھ کر انہیں کہانیا ں سنا تے تھے۔ میری عمران خان سے پہلی ملا قات بھی منو بھائی کی بیٹی کی شا دی میں ہی ہو ئی تھی۔ مجھے یہاں ایک گواہی بھی دینی ہے۔ پرویز مشر ف جب پا کستان کے صدر تھے تو وہ شوکت خانم ہسپتا ل آئے تھے۔ میری موجو دگی میں عمران خان کا منو بھائی کو ٹیلی فون آیا اور انہوں نے پرویز مشرف کے لئے تقریر لکھنے کی فرما ئش کی جوکہ صدرمشرف نے لا ہور کے کینسر ہسپتا ل میں فرما نا تھی، منو بھائی نے صا ف انکار کر دیا۔ فون بند کر نے کے بعد مجھ سے کہنے لگے کہ مجھے کیا پتا اس پا گل آدمی نے کیا با ت کر نی ہے؟ 

منو بھائی کے ارد گرد بہت سے صحافی اور ان سے کئی جو نئیر قلم کار حکمرانوں سے مفادات اُٹھا کر ارب پتی بن گئے مگر انہوں نے کبھی اپنے ضمیر کا سودا نہیں کیا چا ہے اس کی قیمت انہیں جو بھی چکا نا پڑی، ریواز گا رڈن لا ہو ر کے جس گھر سے ان کا جنا زہ اٹھا یا گیا، اس مکان کے با ہر انہیں پلستر کر وانے کے لئے بیس سال کا عرصہ انتظار کر نا پڑا۔ اس رہا ئش گاہ کے علاوہ انہوں نے چھ دہا ئیوں پر محیط اپنے فنی کیریئر میں کو ئی جا ئیداد نہیں خریدی۔ ایک دن دورانِ گفتگو کہنے لگے کہ قیا مت کی نشا نیوں میں سے ایک نشا نی یہ ہے کہ کتابوں میں سے لفظ اٹھا لئے جا ئیں گے۔ منو بھائی کہنے لگے کہ اس سے مراد لفظوں کی تا ثیر ہے، الفاظ غیر مو ثر ہو جا ئیں گے، ان کا اثر ختم ہو جا ئے گا۔ وہ خو ش قسمت رہے کہ مالک کا ئنات نے تامرگ ان کی تحریر کی تا ثیر برقرار رکھی۔ ان کے لکھے ہو ئے لفظ تادمِ آخر پر تا ثیر رہے۔ منو بھائی پاکستانی صحافت کا ضمیر اور ادب کی شان تھے۔ دل ما نتا ہی نہیں کہ وہ مر د قلندر دنیا چھو ڑ گیا۔ لگتا ہے ہما رے منو بھائی جو کہ جذبا تی بھی بہت واقع ہو ئے ہیں ہم سے ذرا سا رو ٹھ گئے ہیں، مان جا ئیں گے، پھر واپس آجا ئیں گے۔

مزید :

رائے -کالم -