بچوں کے خلاف جنسی جرائم کا عذاب (آخری قسط)

بچوں کے خلاف جنسی جرائم کا عذاب (آخری قسط)

  

یہ امرواقعہ ہے کہ کسی بھی قسم کی جنسی زیادتی کے حوالے سے بچے مجرموں کا ایک آسان شکار ہوتے ہیں۔ پاکستان میں ہر سال بچوں کے ریپ، اور ریپ کے بعد قتل کے واقعات سامنے آتے ہیں۔ پاکستان میں زیادتی کا شکار ہونے والے زیادہ تر بچوں کی عمر اوسطاً 5سے 11 سال ہوتی ہے۔ اس گندے کھیل سے وابستہ لوگ بچوں کو بہلا پھسلا کر نہ صرف غلط تصاویر لیتے ہیں، بلکہ بچوں سے یہ بھی معلوم کرتے ہیں کہ ان کی رہایش کہاں ہے،والدین گھر میں موجود ہیں یا نہیں؟ وغیرہ وغیرہ۔

بچوں سے زیادتی کرنے والوں کی نفسیات کے حوالے سے بہت کچھ لکھا گیا ہے۔ امریکا کی دی نیویارک سوسائٹی فارچائلڈ ابیوز (NSCA) کی ڈائریکٹر ڈاکٹر میری ایل کہتی ہیں کہ بچوں کو جنسی زیادتی کا نشانہ بنانے والوں کی نفسیات کو حتمی طور پر بیان کرنا مشکل ہے۔ ایک جنسی حملہ آور کسی بھی وجہ سے متحرک ہوسکتا ہے۔ اس کی بایولوجیکل وجوہ بھی ہوتی ہیں، حملہ آور کی نفسیات منتشر ہوتی ہے، اسے بچوں کے چہرے متوجہ کرتے ہیں۔ ڈاکٹر میری ایل مزید بتاتی ہیں کہ بچپن میں جنسی حملے کا شکار بھی کسی دوسرے بچے کو شکار بنا سکتا ہے۔اور پھر اخلاق باختہ ویڈیوز دیکھنا بھی اس جانب متوجہ کرسکتا ہے۔ پھر نشے کے شکار افراد، معاشرے کے دھتکارے ہوئے لوگ انتقاماً اس چیز میں ملوث ہوسکتے ہیں، لیکن ان سب محرکات کے باوجود آپ کسی ایک بھی وجہ کو اہم یا بنیادی وجہ نہیں کہہ سکتے۔ بچوں پر اخلاق باختہ ویڈیو میں ملوث افراد بھی بچوں کے لیے ایک بڑا خطرہ ہیں۔ عمومی طور پر یہ لوگ مقامی لوگوں کے ساتھ مل کر کام کرتے ہیں اور بچے کے کسی واقف کار کو اکسا کر اس کام پر لگا دیتے ہیں۔

اب سوال یہ ہے کہ مغرب کے اس عطاکردہ عذاب سے بچنے کا علاج کیا ہے؟ جنسی تعلیم کو اس مسئلے کا حل قرار دیا جارہا ہے۔ کیا یہ علاج ہے یا جرائم کے اصل سبب سے فرار کا راستہ؟کیونکہ امریکا، لاطینی امریکا، اور یورپ وغیرہ میں جہاں جنسی تعلیم دی جاتی ہے، وہاں بھی بہت خوفناک صورتِ حال ہے،یعنی جہاں یہ تعلیم ہے، وہاں بچوں کا زیادہ استحصال ہے۔

وزیراعظم عمران خان ٹیلی فون کے ذریعے عوام کے سوالات کے جوابات دینے کے پروگرام میں دیہی سندھ سے ایک شہری نے وزیراعظم سے سوال کیا کہ آئے روز بچوں اور بچیوں کے ساتھ زیادتی کے واقعات ہورہے ہیں، آپ کی حکومت نے کون سا قانون بنایا ہے؟ اور آج تک کسی کو سرعام پھانسی ملتی نہیں دیکھی۔ اس پر وزیراعظم نے بتایاکہ زیادتی کے واقعات کی روک تھام کے لیے سخت آرڈیننس لائے ہیں، لیکن اس گھناؤنے رویے اور جرائم کی روک تھام کے لیے صرف آرڈیننس کافی نہیں، معاشرے کو بھی ذمہ داری نبھانی چاہیے۔ فیملی سسٹم کو بچانے کے لیے دین اسلام نے ہمیں پردے کا درس دیا۔ اسلام کے پردے کے نظریے کے پیچھے فیملی سسٹم بچانا اور خواتین کو تحفظ فراہم کرنا ہے۔ جب آپ معاشرے میں فحاشی پھیلائیں گے تو جنسی زیادتی کے واقعات میں اضافہ ہوگا۔ یورپ میں اب فیملی سسٹم تباہ ہوچکا ہے۔ ان چیزوں کو دیکھتے ہوئے میں نے صدرایردوان سے بات کی اور ترک ڈرامے کو یہاں لایا۔

وزیر اعظم کی بات بالکل درست ہے کہ محض آرڈیننس اور زینب الرٹ مسئلے کا حل نہیں ہے۔ اس سلسلے میں جہاں ایک عام آدمی کو اپنا کردار ادا کرنا ہے، وہیں سب سے بڑی ذمہ داری ریاست کی بنتی ہے۔ ریاست کی ناک کے نیچے گھناؤنے جرائم ہورہے ہیں، بین الاقوامی جرائم پیشہ افراد پاکستان میں کھل کھیل رہے ہیں۔ ہمارے بچے ان کے نشانے پر ہیں،فحش لٹریچر کی بھرمار ہے،فحش فلموں پر مشتمل سی ڈیز سرعام بکتی ہیں، انٹرنیٹ پر بھی فحش مواد بکثرت موجود ہے،اوران کی روک تھام کے لیے مجرموں پر ہاتھ ڈالنا اور انھیں سزا دلوانا ضروری ہے۔پھراس کے ساتھ بے لگام میڈیا پر ہاتھ ڈالنا اور فحش جنسی مواد کی روک تھام کرنا بھی ریاست کی ذمہ داری ہے۔دوسری طرف والدین کی بھی ذمہ داری ہے کہ اپنے بچوں کے قریب رہیں۔ ان کے دوست بنیں۔ ماں،باپ اور اولاد کے درمیان دوری ہوتی ہے تو جرائم پیشہ ان کے قریب ہوتے ہیں۔لہذا، یہ بات طے ہے کہ معاشرے میں اخلاقی بگاڑ اور جنسی جرائم کو ختم کرنے کے لیے ریاست اور معاشرے دونوں کو اپنا کردار ادا کرنا ہوگا۔

(بشکریہ:عالمی ترجمان القرآن، لاہور)

مزید :

رائے -کالم -