والدانتقال کے بعد بیٹوں پر جعلی چیک کا مقدمہ درج نہیں کیا جاسکتا، ہائیکورٹ

 والدانتقال کے بعد بیٹوں پر جعلی چیک کا مقدمہ درج نہیں کیا جاسکتا، ہائیکورٹ

  

لاہور(نامہ نگارخصوصی)لاہورہائی کورٹ کے مسٹرجسٹس محمد شان گل نے قراردیاہے کہ والد کے انتقال کے بعد بیٹوں پر جعلی چیک کا مقدمہ درج نہیں کیا جاسکتا،آئین کا آرٹیکل 3 شہریوں کے استحصال اور ان پر ظلم سے روکتا ہے،فاضل جج نے ملزم فوت کے بعد اس کے بیٹوں کے خلاف مقدمہ درج کرنے کی درخواست بھی مسترد کردی،عدالت نے سعیداختر کی درخواست پر10صفحات پر مشتمل اپنے فیصلے میں مزید کہاہے کہ کوئی شہری کسی دوسرے کے جرم کا ذمہ دار نہیں ہے دنیا کے تمام قوانین میں صرف جرم کرنے والا مجرم تصور کیا جاتا ہے، کوئی کسی دوسرے کے جرم کی سزا نہیں بھگت سکتا، چاہے والدین ہوں، کسی ملزم کا جرم کے بعد انتقال ہو جائے تو ورثا ء جرم کے ذمہ دار نہیں ہوں گے،عدالت میں پولیس نے جسٹس آف پیس کے روبرو اپنی رپورٹ جمع کرائی،عدالتی فیصلے میں مزید کہا گیاہے کہ بینک اکاؤنٹ  والد کے نام پر ہے جو کہ انتقال کر چکا جسٹس آف پیس نے رپورٹ کا جائزہ لے کر مقدمہ درج کرنے کی استدعا مسترد کی  درخواست گزار نے جسٹس آف پیس کا فیصلہ لاہور ہائیکورٹ میں چیلنج کیا اصل چیک سے معلوم ہوتا ہے کہ چیک بیٹوں کے والد نے دستخط کیا تھا،درخواست گزار اور بیٹوں کے والد کے درمیان کوئی تحریری معاہدہ بھی نہیں،یہ بات طے ہے کہ مجرمانہ ذمہ داری قانونی ورثاء پر منتقل نہیں ہوتی، ملزمان والد کا کاروبار سنبھالنے کے باوجود اس کی مجرمانہ سرگرمیوں کے ذمہ دار نہیں، حقائق سے معلوم ہوتا ہے کہ بیٹوں نے کوئی چیک ایشو نہیں کیا،والد کے بعد بیٹے 489 ایف کی کارروائی کے ذمہ دار نہیں ہوسکتے، عدالت مقدمہ درج کرنے کی درخواست مسترد کرتی ہے،درخواست گزار نے چودھری زاہد اور خضر کے خلاف درخواست دائر کرتے ہوئے ان کے خلاف جعلی چیک کی بنیاد پر اندراج مقدمہ کی استدعا کی تھی اورموقف اختیارکیاتھا کہ محمد زاہد اقبال نے زرعی مشینری خریدی اور 11 لاکھ کا چیک دیا، زاہد اقبال کی جانب سے دیا گیا چیک باؤنس ہوگیا۔

فیصلہ 

مزید :

صفحہ آخر -