شہبازشریف کی گرفتاری؟

 شہبازشریف کی گرفتاری؟
 شہبازشریف کی گرفتاری؟

  

پاکستان مسلم لیگ (ن) کے صدر و اپوزیشن لیڈر محمد شہباز شریف کو آمدن سے زائد اثاثہ جات کیس میں گرفتار ہوئے 20 دن ہوگئے اس سے قبل 5 اکتوبر2018ء کو آشیانہ ہاؤسنگ سکیم اور بعد میں رمضان شوگر ملز کیس میں گرفتار کیا گیاتھااُن کو دونوں مقدمات میں لاہور ہائی کورٹ نے 17 فروری 2019ء کو ضمانت پر رہا کردیا تھا۔شہباز شریف کو ایک سال7 ماہ اور 13روزبعد دوبارہ گرفتار کیا گیا اُن کی دوسری مرتبہ گرفتاری سے یہ بات واضح ہوگئی کہ حکومت اپنے سیاسی مخالفین کو گرفتار کر رہی ہے، ایف آئی اے کے سابق ڈائریکٹر جنرل بشیر میمن کی سوشل میڈیا پر ویڈیو وائرل ہوچکی کہ اُنہیں حکومت کی اعلیٰ ترین شخصیت نے سابق وزیراعظم شاہد خاقان عباسی، مریم نواز اور خواجہ آصف کے خلاف غداری کے مقدمات قائم کرنے کا حکم دیا تھا، لیکن انہوں نے انکار کیا، حکومت نے بشیر میمن کی پنشن روک دی انہوں نے اسلام آباد ہائی کورٹ سے رجوع کیا اسلام آباد ہائی کورٹ نے اُنہیں پنشن دینے کا حکم جاری کیا۔

محمد شہباز شریف کو اپنے بڑے محمد نواز شریف کا ساتھ نہ چھوڑنے کی سزاد ی جارہی ہے اور ان کی خواتین کو بھی انتقام کا نشانہ بنایا جارہا ہے ایسے شخص کے خلاف انتقامی کارروائی کی جارہی ہیں، جس کی کارکردگی کا اعتراف دُنیا کر رہی ہے، جنہوں نے دن رات ایک کر کے عوام کی خدمت کی انرجی بحران کا خاتمہ کیا ترقیاتی کاموں کا جال بچھایاگڈگورننس قائم کی اپنی زندگی کو عوام کی خدمت کے لئے وقف کیا محمد شہباز شریف نے وزراتِ اعلیٰ کے دورن اربوں روپے کی بچت کی تھی اورنج لائن ٹرین میں 51ارب روپے بچائے، ٹیکسی سکیم میں 40 کروڑ روپے کی بچت کی، سیف سٹی کیمروں کے منصوبے میں قوم کے4 ارب روپے بچائے اسی طرح انہوں نے مختلف ترقیاتی پراجیکٹس میں 1 ہزار ارب روپے کی بچت کی جو سرکاری ریکارڈ پر موجود ہے تبدیلی کے دعویداروں نے پشاور بی آر ٹی کو 49 سے شروع کر کے  ایک کھرب میں مکمل کیا ناقص میٹریل کا استعمال کیا پشاور بی آر ٹی کے افتتاح کے ایک ماہ میں 4 بسوں میں آگ لگ چکی ہے اور بی آر ٹی سروس ایک ماہ کے بعد بند کردی گئی لاہور، اسلام آباد، پنڈی اور ملتان میٹرو بس کو شہباز شریف نے 90 ارب روپے میں مکمل کیا لاہور میٹرو کا افتتاح 2012 ء میں کیا تھا تینوں میٹرو بس کامیابی کے ساتھ چل رہی ہیں سوشل میڈیا پر مہم جاری ہے کہ محمد شہباز شریف  پنجاب کی ترقی پر گرفتار ہے اور عوام اُن کے ساتھ یکجہتی کا اظہار کر رہے ہیں۔

قیام پاکستان کے بعد سیاسی مخالفین کے خلاف انتقامی کاروائیاں شروع کی گئی تھیں صدر ایوب خان نے سیاسی مخالفین کو اسمبلیوں سے ایبڈو قانون کے تحت 7 سال کے لئے نااہل کیا تھا، انہوں نے اپنے اقتدار کو دوام بخشنے کے لئے قائداعظم محمد علی جناحؒ کی بہن فاطمہ جناح کو الیکشن میں دھاندلی کے ذریعے شکست دلائی اور سقوط ڈھاکہ کی بنیاد رکھی تھی ڈکٹیٹر پرویزمشرف نے بھی نیب کو اپنے سیاسی مخالفین کے خلاف استعمال کیا تھا نیب پرویز مشرف کابینہ کے وزیروں اور مشیروں کے خلاف فائلیں بند کردی تھیں۔پرویز مشرف کے 8 سالہ دور حکومت میں یہ کھیل جاری رہا، تاریخ گواہ ہے کہ ماضی میں سیاستدانوں کی آواز کو دبانے کے لئے جو انتقامی کاروائیاں کی جارہی تھیں موجودہ حکومت میں بھی یہ کھیل جاری ہے حکمرانوں کے خلاف آواز اُٹھانے والوں کو گرفتار کیا جاتا ہے۔

حکومتی وزراء و مشیروں اور اتحادیوں کو کلین چٹ دی گئی ہے قیام پاکستان کے 73سالوں میں پسند و ناپسند گُڈ اور بیڈ کے نام پر احتساب کا کھیل کھیلا جا رہا ہے۔اس سے ملک کا فائدہ کم اور نقصان زیادہ ہوا ہے۔ملک کی معیشت بیٹھ چکی ہے مہنگائی آسمان سے باتیں کرنے لگی، سرکاری ملازمین مزدور تاجر، صنعت کار اور سرمایہ کار سب پریشان ہیں، روزگار کے مواقع ختم ہو چکے ہیں۔ کارخانے بند ہو گئے ہیں۔لاکھوں لوگ بے روزگار ہو چکے ہیں، لیکن حکمران ماضی کے تلخ تجربات سے سبق نہیں سیکھتے دُنیا کی تاریخ اُٹھا کر دیکھ لیں پہلے اداروں کو مضبوط بنایا گیا۔احتساب بلا امتیاز یعنی سیاست دانوں، جرنیلوں، ججوں اور بیوروکریٹس کا کیا گیا،لیکن ہمارے ملک میں احتساب سیاسی مخالفین اور یک طرفہ کیا جا رہا ہے اور یہ کھیل گزشتہ 73سال سے جاری ہے جو رکنے کا نام ہی نہیں لے رہااور اس اقدام نے پاکستان اور اس کے عوام کو آگے جانے کے بجائے پیچھے دھکیل دیا ہے۔

مزید :

رائے -کالم -