شریف آدمی (حصہ سوم)

شریف آدمی (حصہ سوم)

  

غفور صاحب ہمیں بتانے لگے کہ آپ کو معلوم ہے ہمارا وزیراعظم پٹواری کے پاس پھنستا ہے۔ ہم نے پوچھا وہ کیسے؟ کہنے لگے انتقال پٹواری نے کرنا ہوتا ہے۔ یعنی پٹواری نے پراپرٹی کا انتقال کرنا ہوتا ہے۔ہم نے پوچھا انتقال کیا چیز ہے جو پٹواری کرسکتا ہے۔ کہنے لگے ہوتا ہے بھئی تم نہیں سمجھو گے۔ میں نے عرض کی میرا اندازہ یہ ہے کہ پٹواری صاحب کسی کاغذ پر متعلقہ متن کے مطابق عبارت لکھ کر اسے فائل میں ڈالتے ہوں گے اور اس کی ایک کاپی سائل کو دیتے ہوں گے۔ اس فرض کی ادائیگی میں موصوف کی پاور کہاں پر چھپی ہے؟ کہنے لگے بس ہے آپ نہیں جانتے؟ میں نے عرض کی جس الماری میں وہ فائل رکھتے ہیں اسکی چابی انکے پاس ہوتی ہوگی۔ چابی کا گچھہ اختیار ات کا سرچشمہ ہوتا ہے۔ پھر میں نے سوچا پٹواری صاحب کو ڈھونڈھنا بھی اس پاور گیم کا حصہ ہوتا ہوگا۔ یعنی وزیراعظم صاحب جب وزیراعظم نہیں ہوں گے تو اپنی متعلقہ فائل تک پہنچنے کے لیے شاید مشکل کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔

ہم پٹواری صاحب سے معذرت کے ساتھ یہ عرض کرنا چاہتے ہیں کہ چونکہ دنیا ساری آگے کی طرف چل رہی ہے۔ اور نظام نے بہتر سے بہتر ہونا ہے۔ یہی ایک راستہ ہے پانی میں سر باہر رکھنے کا۔ گلوبل ویلیج کا حصہ جو ہوے ہم۔ اس لیے تھوڑا سا بتانے کی کوشش کرتے ہیں کہ ترقی یافتہ دنیا میں یہ نظام کیسے کام کرتا ہے۔ اس پر کتنے ملازمین مامور ہوتے ہیں۔ انکی تربیت کا کیا اہتمام ہوتا ہے۔ اور اس نظام کو اپ ڈیٹ رکھنے پر کتنا بجٹ خرچ ہوتا ہے؟ ہم نے غفور صاحب سے عرض کی کہ وہ ترقی یافتہ نظام پٹواری کے اختیارات ختم کرنے کے لیے نہیں بنایا گیا بلکہ سٹیٹ کی بنیادیں مضبوط کرنے کے لیے بنایا گیا ہے۔

غفور صاحب پوچھنے لگے تو پھر انتقال کی فائل الماری میں بند نہیں ہوتی ہوگی۔ ہم نے کہا ہوتی ہے لیکن وہ ہارڈ کاپی ہوتی ہے۔ فائل کی ڈیجیٹیل کاپی ایک سرور پر ہوتی ہے جسے نیٹ ورک کا کوئی بھی اینڈ یوزر دو تین کلک سے سکرین پر لے آتا ہے۔ یہ محکمے یا ادارے کا جدید انفراسٹرکچر ہے جس تک ٹیکس اتھارٹی کی پہنچ ہوتی ہے۔ اگر سارے ملک کی ذمین کا ریکارڈ آپکی سکرین پر موجود ہوتو پراپرٹی میں ٹیکس اتھارٹی کو کیسے ڈاج دیا جاسکتا ہے؟ میں نے عرض کی کہ اگر وزارت مال مجھے کنسلٹنٹ لے اور ملین روپوں کی مد میں تنخواہ دے تو میں متعلقہ محکمے کی مدد کرسکتا ہوں۔ لیکن غفور صاحب ایسا ہوگا نہیں۔ اصل بات یہ ہے کہ اس کام کے لیے بھاری بجٹ اور کمٹمنٹ چاہیے۔ جو ہمارے ہاں حکومت کی فوری ترجیح نہیں ہے۔ فوری ترجیح میں عوام کو تقسیم رکھنا اور اپوزیشن کے ووٹ پر شب خون مارنا اور اپنے ووٹ بینک کو سنبھال کر رکھنا ہے۔ اور اگلا الیکشن جیت جانا ہے۔ ویسا ترقی یافتہ نظام کے بارے میں بتانا گستاخی ہی سہی۔ہماری تحریر کو کتنے لوگ پڑھیں گے؟ کتنے اسے مثبت انداز فکر کی کسوٹی پر پرکھیں گے؟ غفور صاحب کیا پتہ ہم اگر بیوروکریسی کا براہ راست حصہ ہوں یا سیاست کی فرنٹ لائن میں ہوں تو بڑی تبدیلی کی بات کرنے میں ہچکچائیں۔ کہنے لگے اس ملک میں بھی پڑھے لکھے اور لائق لوگ رہتے ہیں۔ باہر سے کورس بھی کر کہ آتے ہیں۔ ایسی کیا بات ہے؟

غفور صاحب کہنے لگے یہ جو بائیو میٹرک سسٹم آرہا ہے۔ اس کے بارے میں آپکا کیا خیال ہے؟ میں نے عرض کی کہ اچھی پیش رفت ہے۔ لیکن ہمیں ایک بات کی سمجھ نہیں آتی کہ جن علاقوں میں سٹیٹ کی پہنچ نہیں ہے یعنی روڈ بجلی اور انٹرٹیت کی سہولت ناقص ہے وہاں سٹیٹ کی رٹ کا کمزور ہونا قدرتی بات ہے۔ بائیومیٹرک سے متعلق انفراسٹرکچر میں کمیونیکیشن کے ذرایع یعنی روڈ بجلی اور انٹرنیٹ لازمی ہیں۔ ایک شہر کو دیہات سے کمپیئر نہیں کیا جاسکتا۔ ایک سرکاری ادارے کے ملازمین کو دفاتر تک پہنچنے کے لیے بآسانی ٹرانسپورٹ شہر میں تو آسانی سے مل جاتی ہے لیکن دور دراز دیہات میں ایک پرائیمری سکول تک پہنچنے کے لیے ایک معلم محترم کو دوتین میل پیدل مسافت بھی طے کرنا پڑتی ہے۔ کیا حکومتی ادارے اس پہلو کو نظر انداز کررہے ہیں؟اب سٹیٹ ہر سرکاری ادارے کے نزدیک ملازمین کے لیے رہائیشیں تعمیر کرنے سے تو رہی؟ چنانچہ اس پراجیکٹ میں غیر متوقع رکاوٹیں اور نقائص کا تخمینہ لگانے کے لیے بھی کوئی ٹیم تشکیل دی گئی ہوگی۔ہمارا نہیں خیال کہ حکومت سٹیٹ کے ملازمین کو ہراساں کرنا اپنی جاب سمجھتی ہے۔

ہم ناروے کے شہری ہیں۔تھوڑا سا وہاں کی اسمبلی کی مصروفیات کا تذکرہ کیے دیتے ہیں۔

ناروے کی پارلیمنٹ کے ممبران جدید تقاضوں کے مطابق نئے قوانین بنانے، پہلے سے بناے ہوے قوانین میں ضروری ترامیم کرنے میں اتنے مصروف رہتے ہیں کہ وہ بھی تنخواہ روزانہ آٹھ گنٹھے اپنی مصروفیات کی مد میں سے لیتے ہیں۔ انکے سارے قوانین ڈیجیٹیل فارم میں انٹرنیٹ پر موجود ہیں۔ اگر مجھے کسی معاملے میں کسی قانونی رہنمائی درکار ہے تو چند سیکنڈز میں متعلقہ قوانین تک رسائی ممکن ہے۔ یقیناً سارے ترقی یافتہ ممالک نے اپنے دستور اور قوانین کو ڈیجیٹیل فار م میں لایا ہوا ہے۔

اور جب قانون سب کے لیے یکساں ہے تو اسمبلی میں بھی بائیومیٹرک سسٹم لانا چاہیے۔ پورے دستور اور قانون کو ڈیجیٹیل فارم میں لانا چاہیے۔ قوانین میں جدید تقاضوں کے مطابق جدت لانا۔ جدید تقاضوں کے مطابق نئے قوانین بنانا۔ قانون سازی والوں کے پاس بہت کام ہے۔ انہیں بھی دفتر سویرے آنا ہوگا۔ ترقی یافتہ دنیا میں ایسے ہی ہوتا ہے۔ غفور صاحب آپ ہم سے ایک وعدہ کریں کہ آپ جیسے پڑھے لکھے لوگ بیوروکریسی اور سیاستدانوں کی نااہلی کو انکی طاقت سمجھنا ترک کردیں گے۔ کیا آپ ان بھولے بھالے عوام کو یہ بتانے سے گریزاں ہیں کہ ان کا حق ان تک نہیں پہنچتا تو پتہ کریں کہ کس کی نااہلی ہے اور کس کس کی ملی بھگت ہے؟

.

نوٹ:یہ بلاگر کا ذاتی نقطہ نظر ہے جس سے ادارے کا متفق ہونا ضروری نہیں۔

.

اگرآپ بھی ڈیلی پاکستان کیساتھ بلاگ لکھنا چاہتے ہیں تو اپنی تحاریر ای میل ایڈریس ’dailypak1k@gmail.com‘ پر بھیج دیں۔

مزید :

بلاگ -