لاہور میں پی ایس ایل میلہ

لاہور میں پی ایس ایل میلہ
لاہور میں پی ایس ایل میلہ

  

دبئی اور شارجہ میں پی ایس ایل کے ابتدائی میچ ختم ہوگئے ہیں ۔ اب یہ کرکٹ میلہ لاہور پہنچ گیا ہے جہا ں پہلا سیمی فائنل منگل کو ہوگیا اور آج دوسرا سیمی فائنل ہو رہا ہے اور 25 مارچ کو آخری فائنل میچ کے بعد پاکستان سپرلیگ کا یہ تیسرا ایڈیشن اختتام پذیر ہوجائے گا۔

تین سال سے جاری اس سپر لیگ کے مقابلوں سے کوئی خاطر خواہ کامیابی حاصل نہیں کی جا سکی۔ ابتدائی راؤنڈ کے تین میچ دبئی اور شارجہ میں کرائے گئے،جہاں شائقین کرکٹ بہت کم تعداد میں نظر آئے۔

امارات میں کرکٹ کا آغاز شارجہ میں عبدالرحمن بوخاطر نے کیا تھا،جہاں انہوں نے شارجہ کپ منعقد کرائے، چنانچہ شارجہ میں کر کٹ کو پذیرائی ملی، مگر دبئی میں شائقین کر کٹ بہت کم تعداد میں نظر آئے ۔ جمعرات اور جمعہ کو چھٹی ہوتی ہے ، ان دو دنوں میں میچوں میں کچھ شائقین نظر آئے ، باقی دنوں میں گراؤنڈز خالی ہی رہے۔

اس کرکٹ میلہ میں دلچسپی کی بڑی وجہ غیر ملکی کھلاڑیوں کی شرکت ہے ، مگر جب میچ پاکستان میں ہوتے ہیں تو بعض غیر ملکی کھلاڑی پاکستان میں کھیلنے سے گریزاں نظر آتے ہیں۔پی سی بی حکام ان کی منت سماجت کرتے رہتے ہیں ۔

اس تیسرے ایڈیشن میں بھی برطانوی اور آسٹریلوی کھلاڑی پاکستان آنے پر آمادہ نہیں ہوئے۔ صرف ویسٹ انڈیز، سری لنکا،بنگلہ دیش اور جنوبی افریقہ کے کھلاڑی شاید پاکستان میں سیمی فائنلز اور فائنل کیلئے کراچی آئیں، مگر حتمی طور پر کچھ نہیں کہا جا سکتا ۔

پاکستان میں دہشت گردی اب تقریباً ختم ہوچکی ہے ،رائیونڈ میں تبلیغی اجتماع کا واقعہ اسی سلسلے کی ایک کڑی ہے، ایسے موقع پر جب کچھ غیر ملکی کھلاڑی پاکستان آرہے ہیں ، ملک دشمن دوبارہ حرکت میں آئے اور تبلیغی مرکز رائیونڈ میں خودکش حملہ کیا گیا، مگر وہ اپنی مذموم کوششوں میں کامیاب نہیں ہوئے۔

پی سی بی کے چیئر مین جناب نجم سیٹھی سے گزارش ہے اگلے سال چوتھے ایڈیشن کے لئے بھا رت کی آئی پی ایل اور آئی سی ایل پر اچھی طرح غور کریں کرکٹ کو ویران میدانوں کی بجائے اپنے ملک کے کرکٹ سنٹر ز پر کرائیں ۔

کراچی اور لاہور بڑے شہرہیں ، ان کی بجائے ملک بھر کے ایسے کرکٹ سنٹرز کا انتخاب کریں جن کی سیکیورٹی آسان ہو ، اور ان اسٹیڈیم میں ہی کھلاڑیوں کی رہائش کا بندوبست بھی کیا جائے تاکہ ٹریفک کی روانی میں بھی خلل پید ا نہ ہو ۔

مثلاً شیخو پورہ یا گوجرانوالہ سٹیڈیم میں میچ کرائے جائیں ان شہروں میں بڑے اور محفوظ ہوٹل شاید نہ ہوں اس لئے انہیں لاہور یا فیصل آباد کے ہوٹلوں میں لانا اور لے جانا بہت مشکل ہو سکتا ہے ۔

تاہم پی سی بی اس پر غور کر ے ، ملتان ، بہاولپور ، پشاور حیدرآباد اور آزاد کشمیر میں میچ کرانے سے ملک میں کرکٹ واپس آ جائے گی اور صنعتی و تجارتی سرگرمیوں میں بھی اضافہ ہو گا۔

ملک بھر میں کرکٹ میلہ شروع ہوجائے گا تو دہشت گرد اپنی موت خود ہی مر جائیں گے۔ لاہور میں سپورٹس کا سامان بیچنے والوں نے لاہور میں دومیچوں کے پیشِ نظر دکانوں میں کھلاڑیوں کی تصا ویر کے بڑے بڑے جمبو سائز پوسٹرکے فلیکس تیار کر ائے ہیں ۔

انار کلی لاہور میں پاکستان سپورٹس اور سٹار سپورٹس کے مالکان نے انارکلی میں کرکٹ میلہ سجا ہوا ہے ۔

پاکستان سپورٹس کے چیئر مین احمد خاں صاحب نے اس تیسرے ایڈیشن کی تمام چھ ٹیموں کی یونیفار م تیار کرارکھی ہے جو پاکستان میں کرکٹ واپسی اور کرکٹ فروغ کے لئے انتہائی سستے داموں فروخت ہو رہی ہے۔ رات بارہ بجے تک انارکلی میں دن کا سماں ہوتا ہے۔

جناب احمد خاں اور ان کے بھائیوں کو تمام کھیلوں خصوصاً کرکٹ سے عشق ہے، انہیں کھیلوں اور صحت مندانہ سرگرمیوں کے فروغ سے بے حد دلچسپی ہے ۔

انہوں نے ایک ملاقات میں بتایا کہ اب تو ٹیلی ویژن پر براہ راست مقابلے دکھائے جاتے ہیں ، 1964ء سے پہلے جب ٹی وی کا ابھی آغاز نہیں ہواتھا صرف ریڈیو پر کرکٹ کی کمنٹری نشر ہوتی تھی ۔

1980ء تک کرکٹ کمنٹری صرف انگریزی میں ہوتی تھی، مگر لوگوں میں جوش و جذبہ اتنا تھا کہ اَن پڑ ھ لوگ بھی انگریزی کمنٹری کو سمجھتے تھے ، ریڑھیوں پر سبزیاں اور پھل بچنے والوں نے بھی ٹرانزسٹر ریڈیو رکھے ہوتے تھے اور رننگ کمنٹری سنتے رہتے تھے ۔

بڑے بڑے ہوٹلوں ، پان سگریٹ کی دکانوں پر بھی شائقین نے بڑے بڑے سکور بورڈ لگائے ہوتے تھے جس پر ہر کھلاڑی کی تصویر لگائی جاتی تھی اور آگے اس کے سکور کی تفصیل لکھی ہوتی تھی ۔

انہوں نے بتایا کہ لاہور میں سب سے بڑا سکور بورڈ دار لماہی چو ک بھاٹی گیٹ میں لگایا جاتا تھا سڑک پر سینکڑوں لو گ کمنٹری بھی سنتے جاتے تھے پاکستانی کھلاڑیوں کی شارٹس اور اپنے باؤلروں کی عمدہ کارکردگی پر زبردست تالیاں بجتی رہتی تھیں ۔

ریڈیو پر انگلش کمنٹری کرنے والے پاکستان کے پہلے کپتان اے ایچ کا ردار ، اسلم اظہر ، عمر قریشی اور افتخار احمد کی اعلیٰ انگریزی اور خوبصورت آواز ہر شخص کو اپنی جانب کھینچتی تھی۔

1980ء کے بعد کراچی کے منیر حسین نے اردو میں کمنٹری کا آغاز کیا، جس میں بعد ازاں حسن جلیل ، محمد ادریس اور اظہر خاں نے شہر ت حاصل کی ، مگر وقت کے ساتھ ساتھ ٹیلی ویژن اور ایل ای ڈی نے ریڈیو کو صرف چھوٹے شہروں اور قصبوں تک محدود کر دیا ہے۔

احمد خاں صاحب نے بتایا کہ کرکٹ کے بہت کم شائقین کو معلوم ہو گا کہ قذافی سٹیڈیم سے پہلے لاہور میں میچ تاریخی باغِ جناح کی گراؤنڈ میں ہوتے تھے ۔

گراؤنڈ اگرچہ چھوٹی تھی، لیکن پویلین اور گراؤنڈ بہت خوبصورت تھی، گراؤنڈ کے چاروں اطراف لکڑی کے سٹینڈ بنائے جاتے تھے ۔شاہراہ قائداعظم والا گیٹ جو چڑیا گھر کے ساتھ ہے وہاں گراؤنڈ کے ساتھ تمام الیون کی سینما گھروں کے بورڈ کی طرح تصاویر لگائی جاتی تھیں ۔

ان میں حفیظ کار دار ،فضل محمود ، امتیاز احمد حنیف محمد ، وزیر محمد ، مقصود احمد ،نذر محمد ،وقار حسن ، خان محمد، محمود حسین ،کرنل شجاع الدین اپنے وقت کے نامور کرکٹر شامل تھے ۔

اسی گراؤنڈ پر ویسٹ انڈیز کی ٹیم کے ساتھ پانچ روزہ ٹیسٹ میچ کھیلاگیا تھا جس میں مشتاق محمد نے چودہ سال کی عمر میں کم عمر ترین کھلاڑی ہونے کا عزاز حاصل کیا تھا، جبکہ ویسٹ انڈیز کی ٹیم میں گرفتھ جیسے خطرناک فاسٹ باؤلر بھی تھے ۔

کہنائی سر گیر ی سوبرز اور بوچر ز جیسے بیٹسمین بھی تھے اس سے زندہ دلان لاہور کے جذبے اور شوق کا انداز ہ لگایا جاسکتا ہے۔ پورے باغ جناح میں پانچ روزہ میچ نہیں ،بلکہ ایک میلہ ہوتا تھا ۔

شہر کی آبادی کے قریب ہونے کے باعث ہر شخص با آ سانی میچ دیکھنے چلا جاتا تھا۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان سپر لیگ کا چو تھا ایڈیشن پورے پا کستان میں کرانا چاہئے اس سے چھوٹے شہروں سے نیا ٹیلنٹ بھی نکلے گا اور تجارتی سر گرمیوں میں بھی اضافہ ہو گا ۔

مزید : رائے /کالم