پرویز مشرف کی آمد، سیکیورٹی درخواست، ان کی جماعت میں تضاد بیانی

پرویز مشرف کی آمد، سیکیورٹی درخواست، ان کی جماعت میں تضاد بیانی

وفاقی دارالحکومت ااسلام آباد کے سیاسی حلقوں میں سابق صدرپرویز مشرف کی وطن واپسی، قومی و صوبائی اسمبلیوں کے حلقوں کیلئے ہونیوالی حلقہ بندیوں اور انسداد دہشت گردی کی عدالت کی جانب سے تحریک لبیک کے خادم حسین رضوی اور پیر افضل قادری کو گرفتار کرنے کا حکم موضوع بحث بنے ہوئے ہیں ، سابق صدرپرویز مشرف واپس آتے ہیں یا نہیں، حکومت جو سکیورٹی فراہم کرنے کاوعدہ کررہی ہے اس پروہ مطمئن ہیں یا نہیں یہ وہ سوالات ہیں جو اسلام آباد کے سیاسی حلقوں میں زیربحث ہیں، جبکہ دوسری جانب آل پاکستان مسلم لیگ کے صدر ڈاکٹر محمد امجد نے کہا ہے کہ پرویز مشرف مکمل صحتیاب ہو چکے، آج بدھ کو پاکستان واپسی کی تاریخ کا اعلان کریں گے،وزارت دفاع کو سیکیورٹی کیلئے درخواست نہیں دی، پرویزمشرف ہر صورت واپس آئیں گے اور عدالتوں کا سامنا کریں گے، پرویز مشرف کی قیادت میں آئندہ انتخابات میں بھرپور حصہ لیں گے، حکومت فول پروف سیکورٹی یقینی بنائے اور انہیں نقل و حرکت، اظہار رائے کی آزادی دے،نواز شریف عدلیہ اور فوج کو بدنام کر نے کی بجائے اپیل میں جائیں ، پرویز مشرف ملکی اداروں کی بجائے وطن دشمنوں کو للکاریں گے، بھارت بلوچستان کے حوالے سے پاکستان کا نام بیرون ملک بد نام کرنے کی کوشش کر رہا ہے، بلوچستان سے چیئرمین سینیٹ منتخب ہونا مودی کے منہ پرطمانچہ ہے، پرویز مشرف کی بیرون ملک روانگی میں کسی نے معاونت کی نہ واپسی میں کسی کا کردار ہے ، وہ نگران حکومت سے پہلے وطن میں ہوں گے،انکا کہنا تھا پرویز مشرف صحیح معنوں میں پاکستان کے قائد ہیں،پرویز مشرف واپس آتے ہیں یانہیں اس سے قطع نظر یہ بات زیادہ اہمیت کی حامل ہے کہ ان کی واپسی کی صورت میں سیاسی میدان میں کتنی ہل چل مچتی ہے۔

فیض آباد میں ہونیوالا تحریک لبیک کادھرنا ابھی تک جڑواں شہروں راولپنڈی اسلام آباد کے عوام نہیں بھولے، جبکہ اس حوالے سے سپریم کورٹ نے فیض آباد دھرنے سے متعلق خفیہ ایجنسی کی رپورٹ مسترد کر دی ہے اور2ہفتوں میں نئی رپورٹ عدالت میں جمع کرانے کا حکم دیدیا ہے، انسداد دہشت گردی کی عدالت نے فیض آباد دھرنا کیس میں تحریک لبیک کے خادم حسین رضوی اور پیر افضل قادری کو گرفتار کرنے کا حکم دیتے ہوئے کہا ہے کہ 4اپریل تک ملزمان کے خلاف مقدمے کا حتمی چالان جمع کرایا جائے۔ عدالت کی جانب سے چالان پیش کرنے کے حکم کے باوجود پولیس حتمی چالان پیش نہ کرسکی جس پر عدالت نے شدید برہمی کا اظہار کیا،عدالت نے بار بار طلبی اور مفرور قرار دیئے جانے کے بعد بھی پیش نہ ہونے پر تحریک لبیک کے خادم حسین رضوی اورافضل قادری کو گرفتار کرکے پیش کرنے کا حکم جاری کیا۔عدالت نے خادم حسین رضوی اور پیر افضل قادری کا مفرور ملزم کا اسٹیٹس بھی برقرار رکھا ہے۔ عدالت کو بتایا گیا کہ اٹارنی جنرل امریکا میں ہیں جس پرعدالت نے ڈپٹی اٹارنی جنرل کو ہدایت کی کہ جو بھی پیش کرنا ہے اٹارنی جنرل آفس کے ذریعہ پیش کریں۔

قومی انتخابات 2018ء کے انعقاد میں چندماہ ہی باقی رہ گئے ایسے میں ہونیوالی حلقہ بندیوں پر اعتراضات اٹھائے جارہے ہیں، راولپنڈی کے حلقوں میں بھی ردوبدل ہوا ہے کئی یونین کونسلیں ایک حلقے سے نکل کردوسرے حلقے میں چلی گئی ہیں اسی طرح اسلام آباد میں بھی ایک حلقے کااضافہ ہوا ہے جس کی ابھی تک لوگوں کو سمجھ نہیں آرہی کہ وہ قومی اسمبلی کے کس حلقے میں ہیں، قومی اسمبلی کی حلقہ بندیوں کے حوالے سے قائم خصوصی کمیٹی کے ورکنگ گروپ نے بھی حلقہ بندیوں کے نقشوں پر اعتراض اٹھا دیا ،اجلاس میں فافن حکام نے حلقہ بندیوں آبادی کے تناسب میں تبدیلی کے حوالے سے اپنی رپورٹ پر بریفنگ دی ۔ حکام نے کہا کہ تقریباًقومی اسمبلی کے 72حلقے ہیں جہاں پر آبادی کے تناسب میں 10فیصد سے زیادہ کا فرق ہے ۔ اسلام آبا دکے حلقہ این اے 53اور54میں کچھ شہری علاقوں کے ساتھ دیہی علاقے بھی شامل کئے گئے ہیں، اس پر ایڈیشنل سیکرٹری الیکشن کمیشن نے کہا کہ ہم فافن کی رپورٹ پر بات نہیں کریں گے ، آبادی کے تناسب میں فرق پراعتراض داخل کیے جائیں، یہاں ہم بحث کرنے نہیں بیٹھے ۔ فافن نے جو طریقہ کار رکھا ہے وہ ہمارا نہیں ہے ۔کنوینر کمیٹی دانیال عزیز کاکہناتھاکہ رولز الیکشن کمیشن نے خود بنائے ہیں اسمبلی نے نہیں بنائے ، رولز اور قانون میں تحصیل اور قانون گوئی کا ذکر نہیں ، ایبٹ آباد کے حلقہ این اے15میں حلقہ بندیوں کیلئے قانون گوئی لی گئی ہے جبکہ باقی ہر ضلع میں تحصیل لی گئی ہے ، ایبٹ آباد کے ایک ایم این اے کے حلقہ میں تین ایم پی اے دے رہے ہیں ، جس کو تین ایم پی اے ملے ہیں اس کی طاقت ہوگی ،جس ضلع میں شمال کو تبدیل کیا گیا ہے تو وہاں اگر پانچ ایم پی اے ہیں تو چار ایک ایم این اے کے پاس آگئے ہیں، الیکشن کمیشن حلقہ بندیوں میں غلطیوں کاجائزہ لیکرنشاندہی کرئے، رکن کمیٹی محمود خان اچکزئی کاکہناتھا کہ ہم الیکشن کمیشن کو اور طاقت ور بنانا چاہتے ہیں اور تمام حلقوں کی خرابیاں آپ کے سامنے رکھ رہے ہیں، اسے مداخلت نہ سمجھیں، الیکشن کمیشن میں کسی کی بھی مداخلت نہیں ہونی چاہیے ، رکن کمیٹی نعیمہ کشور نے کہا الیکشن کمیشن کے نقشے میں میرا گاؤں این اے 22میں ہے جبکہ نوٹیفکیشن میں این اے 21میں ہے، رکن قومی اسمبلی عالیہ کامران نے کہا الیکشن کمیشن نے حلقہ بندیوں کے جو نقشے ویب سائٹ پر ڈالے ہیں وہ بھی غلط ہیں۔ ایڈیشنل سیکرٹری الیکشن کمیشن نے کہا کہ حلقہ بندیوں کا ڈرافٹ اس لئے شائع کیا ہے تا کہ غلطیوں کی نشاندہی کی جائے، یہ نقشے صوبائی حکومت سے لئے گئے ہیں الیکشن کمیشن نے نہیں بنائے جس پر عالیہ کامران نے کہا کہ اگر نقشے صوبے نے فراہم کئے ہیں تو پھر آپ پیسے کس مد میں لے رہے ہیں جس پر ایڈیشنل سیکرٹری الیکشن کمیشن نے کہا کہ یہ پیسے خزانے میں جمع ہو رہے ہیں اس سے الیکشن کمیشن کی کوئی آمدنی نہیں ہے۔

مزید : ایڈیشن 1