بنگلہ دیش کے لیے انڈیا کا محبت بھرا پیغام

بنگلہ دیش کے لیے انڈیا کا محبت بھرا پیغام

انڈیا کے یو نین وزیر ہنس راج ا ہر نے حال ہی میں اپنے بیان میں فرمایا ہے کہ بنگلہ دیش انڈیا کا اس قدر ہی بڑا دشمن ہے جس قدر چین اور پاکستان ہیں۔یہ ایک ایسا کھلا اور واضح پیغام ہے جو بنگلہ دیشی پالیسی سازوں اور عوام کے لیے لمحہ فکریہ ہے لیکن حسینہ واجد کی حکومت کے لیے یہ ایک بہت بڑی ناکامی اور شرمندگی سے کم نہیں۔کیونکہ انہوں نے انڈیا سے جس اندھی محبت کا دوبارہ ا?غاز کیا تھا اس کے اندھے موڑوں کے بعد اب ایک گہری کھائی کا بھی انتظام ہو چکاہے ایسی ہی محبت میں ان کے والد بھی مبتلا تھے جس کی سزا ان کی قوم کو ا?ج تک مل رہی ہے ۔

انڈیا کی پالیسی کبھی بھی اپنے پڑوسیوں کے ساتھ اچھی نہیں ہو سکتی کیونکہ انڈیا کے سیاست دانوں اور نام نہاد تاریخ دانوں نے اپنی عوام کو یہی تاثر دیا ہے کہ اس سارے علاقے پر ان کا راج تھا جو ان سے مسلمانوں اور پھر انگریزوں نے ا? کر چھینا تھا لیکن حقیقت یہ ہے کہ ہندووں کبھی بھی سارے ہندوستان پر حکمران نہیں رہے اور ان علاقوں خصوصاً موجودہ سندھ،پنجاب،خیبرپختنواہ،بلوچستان کے کچھ علاقے،بنگال کی جانب کئی علاقے زیادہ تر مختلف حملہ ا?وروں کے قبضہ میں رہے ہیں۔مثلاً بنگال میں رومن اور یونانی حملہ ا?ور الگزیڈر کے دور میں ا?ئے تھے ،مسلمان حکمران بخیتار خلجی تو ۴۰۲۱ء4 میں ا?ئے،جبکہ محمدبن قاسم ۰۱۷ء4 ہجری میں اس علاقے میں ا?ئے جبکہ اس سے پہلے رومن،یونانی۔ایرانی اور حتی کہ ہلاکو خان بھی اس علاقہ میں ا?ئے اور سنیکڑوں سالوں تک ہندو ان علاقوں پر دوبارہ حکمران نہ بن سکے اسی لیے ان علاقوں کا رہن سہن کافی حد تک دیگر انڈین علاقوں سے مختلف ہے تھوڑا بہت رنگ اس لیے نظر ا?تا ہے کیونکہ انگریزوں نے تمام مسلمانوں کو ٹارگٹ کیا اور ان کی علیحدہ پہچان کو مٹانے کیلیے ہندووں کو استعمال کیا ہندو انگریزوں کے وفا دار تھے اسلیے ان اس بات کا یقین تھا کہ انگریز ان کو جاتے ہوئے سب کچھ سونپ جائے گا لیکن ان کے ا?ڑے قاید اعظم محمد علی جناح جیسا لیڈر ا?یا جو انگریزوں کو ان سے بہتر سمجھتے تھے۔اسی لیے اس دکھ کو وہ ا?ج تک بھول نہیں پائے اور کسی بھی طرح وہ پاکستان سے منسلک ہر شے کو نیچے دکھانے کے لیے کوشاں رہتے ہیں۔بنگلہ دیشی قوم حسینہ واجد کے ایجنڈے کو اگرچہ سمجھتی ہے لیکن جس طرح حسینہ واجد نے اپنے مخالفین کو چن چن ٹھاکنے لگانا شروع کیا اور ملک کے ا?ئین کو جس طرح تار تار کیااس کے بعد تمام ادارے اور سول سوسائیٹی مکمل طور پربے بس نظر ا?تی ہیں اور خصوصاً اس میں انڈین در اندازی کا پہلو بہت نمایاں ہے۔ پاکستان سے محبت اور الفت کے شک میں بھی لوگوں کو سزا ئے موت دی جارہی ہے اس وقت اگرچہ حسینہ واجد اپنی تیسری باری لے رہی ہیں لیکن ان پر لگے الزامات بہت سنگین ہیں۔ کرپشن،اور مخالفین کو غائیب کروا کرکے مروانے کے کئی الزامات ہیں لیکن انڈیا کی محبت میں سرشار حسینہ واجد ایک معمولی سٹیٹ مینسٹر کی اس للکار کا جواب تک نہیں دے پائی کیونکہ اپنے ملک کی افواج کو اس قدر کمزور کیا تاکہ اس کے اقتدار کو کوئی خطرہ نہ رہے ۔ بنگلہ دیشی افواج اس قابل نہیں کہ وہ انڈین افواج کو للکار سکیں۔اس وقت بنگلہ دیشی صرف انڈین پریشر کی ہاں میں ہاں ملا رہے ہیں اور اس کے باوجود دشمن کہلا رہے ہیں .

.

نوٹ: روزنامہ پاکستان میں شائع ہونے والے بلاگز لکھاری کا ذاتی نقطہ نظر ہیں۔ادارے کا متفق ہونا ضروری نہیں۔

مزید : بلاگ

لائیو ٹی وی نشریات دیکھنے کے لیے ویب سائٹ پر ”لائیو ٹی وی “ کے آپشن یا یہاں کلک کریں۔


loading...