زرعی سیکٹر کو سائنسی بنیادوں پرالتواء کیاجائے، خواجہ محمد یونس 

زرعی سیکٹر کو سائنسی بنیادوں پرالتواء کیاجائے، خواجہ محمد یونس 

  

 ملتان(نیوز رپورٹر)خواجہ محمد یونس چیئرمین آل پاکستان بیڈشیٹ اینڈ اپ ہو لسٹری مینو فیکچررز ایسوسی ایشن نے کہا کہ ویلیو  ایڈڈ سیکٹر ملکی  ٹیکسٹائل صنعت میں ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتا ہے۔ اور یہ زیادہ تر ملکی کپاس کی پیداوار پر انحصار کرتا ہے۔انہوں نے کہا کہ (بقیہ نمبر23صفحہ6پر)

ملک میں کپاس کی پیداوار کی کمی سے یہ شعبہ بری طرح متاثر ہو رہا ہے۔ انکے مطابق کاٹن یارن کی قیمتیں سپلائی کم ہونے کی وجہ سے روز بروز بڑھ رہی ہیں اور اس کا براہ راست اثر پیداواری لاگت پر پڑ رہا ہے۔ انہوں نے خدشہ ظاہر کیا کہ ٹیکسٹائل کا شعبہ ان حالات کا مقابلہ نہیں کر سکتا اور ملکی ضروریات کو پورا کرنے کے لئے برآمدی کپاس کا سہارا لیا جا رہا ہے جس سے کسی طور پر قیمتوں پر قابو نہیں پایا جا سکتا۔خواجہ محمد یونس نے کہا کہ آج بھی ہمارا ملک ٹیکسٹائل کی برآمدات پر انحصار کرتا ہے اور مجموعی ملکی برآمدات میں یہ شعبہ 54 فیصد حصہ دارہے۔ انہوں نے تشویش ظاہر کی کہ ملکی معیشت کے اس اہم شعبہ کی جانب ملکی پالیسی ساز اداروں کی جانب سے نہایت غفلت کا مظاہرہ کیا گیا ہے اور کپاس جیسی اہم فصل جو ہمارے قیمتی شعبہ کی اساس ہے اسے موقع پرستوں کے حوالے کر دیا ہے۔  چیئرمین APBUMAنے کہا کہ ہماری حکومتوں کی عدم سرپرستی کا اس سے بڑا کیا ثبوت ہو گا کہ ہمارے ملک میں کپاس کی پیداوار بمشکل 8.5ملین بیلز ہوئی ہیں جبکہ انڈیا تقریبا 40ملین بیلز پر پہنچ چکا ہے۔انہوں  نے بتایا کہ اعداد و شمار سے یہ بات صاف ظاہر ہے کہ سال 2004-05 میں ریکارڈ 14.3 ملین بیلز کے حصول  کے بعد ہر سال ملکی پیداوار میں کمی ہورہی ہے جبکہ انڈیا بہتر پالیسیز کی وجہ سے ہر سال پہلے سے بہتر پیداوار حاصل کر رہاہے۔خواجہ محمد یونس نے کہا کہ ملک کے ٹیکسٹائل سیکٹر میں ابھی بھی بے تحاشا گنجائش موجود ہے کہ ہم اپنی برآمدات کو 40 سے 50 ارب ڈالر تک لے جا سکتے ہیں لیکن اس کے لئے ٹھوس بنیادوں پر علم اور تحقیق پر مبنی کاشت کاری کو فروغ دینا ہوگا۔انہوں نے حکومت سے گزارش کی کہ CPECکے تحت چائنا کے ساتھ زرعی میدان میں تعاون کو فروغ دیا جائے اور زرعی ٹیکنالوجی کے ٹرانسفر سے ہمارے زراعت کے شعبہ کو سائنسی بنیادوں پر استوار کیا جائے۔انہوں نے کہا ملک میں برآمدات کے فروغ کے لئے ایک مربوط پالیسی تشکیل دینے کی ضرورت ہے جس میں کپاس کی پیداوار بڑھانے، صنعتی شعبہ کی استعداد میں اضافہ، قانونی موشگا فیوں اورپیچیدگیوں کا خاتمہ، ارزاں نرخوں پر توانائی کی فراہمی، حکومت کے ذمہ واجب الادا بقایات کی ادائیگی اور کاروبار کے لئے آسانیاں پیدا کرنے جیسے عوامل کا احاطہ کیا جائے۔خواجہ محمد یونس نے حکومت سے گزاراش کی کہ ملک میں کپاس سمیت تمام فصلوں کی پیداوار بڑھانے کے لئے جنگی بنیادوں پر کام کیا جائے تاکہ ملک کی معاشی اور  فوڈ سیکورٹی کو مستحکم کیا جائے۔

خواجہ یونس

مزید :

ملتان صفحہ آخر -