کیا حکومت دباؤ میں فیصلے کر رہی ہے؟

کیا حکومت دباؤ میں فیصلے کر رہی ہے؟
کیا حکومت دباؤ میں فیصلے کر رہی ہے؟

  

بازار سے گھر آتے ہوئے مغرب کی نماز کا وقت ہوا تو ایک مسجد دیکھ کر مَیں نے گاڑی روکی اور تین فرض پڑھنے کی نیت سے مسجد میں داخل ہوا۔ لگ بھگ تیس پینتیس نمازی موجود ہوں گے۔ کچھ وضو کر رہے تھے اور کچھ نماز کے انتظار میں کھڑے یا بیٹھے تھے۔ مَیں پہلی بار اس مسجد میں نماز پڑھنے گیا تھا۔ مجھے کسی نے نہیں پوچھا آپ کہاں سے آئے ہیں نہ ہی یہ کہا کہ آپ کی عمر 50 سال سے زائد ہے، آپ گھر نماز پڑھیں۔ نماز کے لئے صف بندی ہوئی تو سب کندھے سے کندھا ملا کر کھڑے ہو گئے۔ مسجد میں اتنی گنجائش ہی نہیں تھی کہ صفوں میں چھ فٹ اور نمازیوں میں تین فٹ کا وہ فاصلہ رکھا جا سکتا، جو اس بیس نکاتی معاہدے میں تسلیم کیا گیا، جو حکومت اور علماء کے درمیان طے پایا ہے۔ امام مسجد نے اس بارے میں کوئی گفتگو کی اور نہ ہی مسجد کی کوئی انتظامیہ اگر تھی تو سامنے آئی کہ اس معاہدے کی شقوں پر عملدرآمد کا جائزہ لے سکے۔ خیر نماز ہو گئی اور مَیں باہر نکل آیا۔ مسجد میں چٹائیاں اور دریاں بچھی ہوئی تھیں اور ان کی حالت بھی صفائی ستھرائی کے لحاظ سے کچھ زیادہ اچھی نہیں تھی۔ مَیں گھر آتے ہوئے یہ سوچتا رہا کہ حکومت نے علماء کے ساتھ یہ کس قسم کا معاہدہ کیا ہے ایک ایسا معاہدہ کہ جس کا کوئی والی وارث ہی نہیں، جس میں کسی نے بیس نکات پر عملدرآمد کی ذمہ داری قبول کی ہے اور نہ مانیٹرنگ کا کوئی نظام وضع کیا گیا ہے۔ اکثر مساجد میں میری طرح کے راہ چلتے لوگ بھی نماز کی ادائیگی کے لئے رُک جاتے ہیں۔ اب اگر خدانخواستہ اُن میں کوئی کورونا پازیٹو کیس ہے تو وہ کندھے سے کندھا ملی ہوئی صفوں میں کھڑے ہو کر پوری مسجد کے نمازیوں کو متاثر کر سکتا ہے۔ اس طرح اگر یہ وبا مساجد سے پھیلی تو دُنیا بھر میں کیا پیغام جائے گا۔ایسا مبہم معاہدہ کرنے کی کیا ضرورت تھی، جس پر عملدرآمد ہی نہ ہو سکے۔ مجھے یقین ہے کہ سوائے چند بڑی مسجدوں کے گلی محلوں اور بڑی سڑکوں کے کنارے واقع مساجد میں یہ احتیاطی تدابیر اختیار نہیں کی جا رہی ہوں گی، جن کا بیس نکاتی معاہدے میں ذکر کیا گیا ہے۔

کیا یہ بات سچ ہے کہ حکومت دباؤ میں فیصلے کر رہی ہے۔ کورونا وائرس کا عفریت ایک طرف سانپ کی طرح پھنکار رہا ہے، تیزی سے بڑھ رہا ہے۔ دوسری طرف پوری دُنیا میں پاکستان ایک واحد اسلامی ملک ہے جس نے اپنی مساجد کھول دی ہیں، مساجد ہی نہیں بارگاہیں اور مذہبی پیشواؤں کے ڈیرے بھی کھول دیئے گئے ہیں۔ سعودی عرب، اردن، ترکی، کویت، متحدہ عرب امارات، ایران اور دیگر ممالک نے مفتیانِ وقت کے فتوؤں کے ساتھ فیصلے کئے ہیں کہ مساجد میں باجماعت نماز اور تراویح نہیں پڑھائی جائیں گی۔ کیا ہم اُن سے بڑھے مسلمان ہیں یا پھر ہمارے ہاں کورونا پھیلا ہی نہیں، آج ہمارے ہاں اموات 200 کی طرف بڑھ چکی ہیں، جبکہ متاثر مریضوں کی تعداد دس ہزار کا ہندشہ چھونے کو ہے۔ کیا جان کی حفاظت اسلام میں ممنوع ہے، کیا عبادات کو اس صورت میں بھی جاری رکھنے کو کہا گیا ہے، جب بڑے پیمانے پر ہلاکتوں کا خدشہ ہے۔ آج ہر عالم دین یہ کہہ کر اپنی جان چھڑا رہا ہے کہ حکومت سے کئے گئے معاہدے پر مکمل عملدرآمد کیا جائے گا، کیسے کیا جائے گا؟ کون کرائے گا؟ کون ذمہ داری اٹھائے گا، اس پر کوئی بات نہیں ہو رہی۔

ہاں البتہ یہ ضرور کہا جا رہا ہے کہ اگر وبا پھیلی تو حکومت کو اختیار ہے کہ وہ یہ معاہدہ ختم کر دے، تو گویا ہم اُسی وقت ہوش میں آئیں گے جب وبا پھیل چکی ہو گی،کیا دُنیا نے جو احتیاطی تدابیر ختیار کی ہیں وہ کوئی اہمیت نہیں رکھتیں، ابھی تو ماہِ رمضان نے شروع ہونا ہے اِس ماہِ مقدس میں عبادات کا سلسلہ بڑھ جاتا ہے، تو کیا اس ڈھیلے ڈھالے معاہدے پر ماہِ رمضان کے دوران عمل ہو سکے گا، کیا نمازِ تراویح کے لئے جب مسجدیں بھری ہوں گی، کندھے سے کندھا ملا ہو گا تو علاقے کا ایس ایچ او موقع پر آ کر نمازیوں کو گھر بھیج سکے گا۔کیا عشاء سمیت 37 رکعت نماز اکٹھے پڑھنے والے نمازی اس فاصلے کو برقرار رکھ سکیں گے، جو کورونا وائرس کا پھیلاؤ روکنے کے لئے ضروری ہے، کیا مساجد کی انتظامیہ میں اتنی ہمت اور توفیق ہے کہ وہ نماز کے لئے آنے والے افراد کو یہ کہہ کر گھر واپس بھیج سکیں کہ جگہ نہیں ہے، میرے نزدیک ساری کمزوری حکومت کی ہے۔ اب اس معاہدے کی مختلف تاویلیں پیش کی جا رہی ہیں۔ حقیقت یہ ہے کہ مساجد میں باجماعت نماز کی اجازت سے کورونا وائرس کے پھیلاؤ کا خطرہ دو چند ہو گیا ہے۔

ایک معاہدہ کر کے جان چھڑا لینے کے بعد اب حکومت کو ایک دوسرے پر دباؤ کا سامنا تاجروں کی طرف سے ہے، سب اپنا اپنا دنیاوی فائدہ دیکھ رہے ہیں،حالانکہ دُنیا بھر میں سب سے اولیت انسانی جانوں کو بچانے پر دی جا رہی ہے، پہلے ہی حکومتوں نے لاک ڈاؤن میں نرمی کر کے کورونا وائرس کے کیسوں کی تعداد میں اضافہ کی راہ ہموار کر دی ہے،اب مکمل لاک ڈاؤن کا خاتمہ کیا دن دکھائے گا، یہ سوچ کر ہی خوف آتا ہے۔ اس وقت تاجر حکومت کی ہر بات ماننے کو تیار ہیں، سوائے دکانیں بند رکھنے کے، مگر یہ بھی سچ ہے کہ حکومت جو شرائط بھی دکانیں کھولنے کے لئے عائد کرے گی، اُن پر کبھی عملدرآمد نہیں ہو گا، نہ ہی یہ ممکن ہے اور نہ حکومت کے پاس اتنی نفری ہے کہ ایک ایک دکان کی نگرانی کر سکے۔ دُنیا میں کہیں آدھا تیتر آدھا بٹیر والے فیصلے نہیں کئے گئے مگر ہماری حکومتیں چونکہ کوئی ایسا نظام وضع نہیں کر سکیں کہ لاک ڈاؤن کے بعد لوگوں کو زندہ رہنے کے لئے سامان فراہم کر سکیں، اِس لئے وہ دباؤ میں آ کر کمزور فیصلے کر رہی ہیں۔ ذرا سوچئے کہ اس وقت کورونا وائرس کے پھیلاؤ میں ہر روز تیزی نظر آ رہی ہے تو جب پابندیاں ہٹا دی جائیں گی، تب کیا حشر ہو گا، ہمارے ارباب اختیار اِس بات پر خوش ہو رہے ہیں کہ ہم نے کورونا مریضوں کو رکھنے کی گنجائش بڑھا لی ہے یا زیادہ کرونا ٹیسٹ کرنے کی صلاحیت حاصل کر لی ہے، حالانکہ ہمیں یہ تلخ حقیقت یاد رکھنے کی ضرورت ہے کہ جب یورپ اور امریکہ میں یہ وبا پھوٹی تھی تو سارے اندازے اور انتظامات دھرے کے دھرے رہ گئے تھے۔

ہم اِس بات پر خوش ہیں کہ ہمارے ہاں کورونا وائرس کے مریضوں کی تعداد زیادہ نہیں، تو کیا اس خوشی میں ہمیں تمام احتیاطی تدابیر کو بالائے طاق رکھ کر اس وبا کو پھیلانے کے تمام دروازے کھول دینے چاہئیں۔ کیا ہم خدانخواستہ یہ چاہتے ہیں کہ ہماری عید ایسے گذرے کہ ہر گلی محلے سے کرونا کیسز سامنے آ رہے ہوں۔قوم نے گزشتہ ایک ماہ بڑے صبر و ضبط کے ساتھ گذارا ہے۔ بڑی قربانی دی ہے۔ صرف اِس لئے کہ ملک کو کورونا وبا کے پھیلاؤ سے بچایا جا سکے۔ اب بھی لوگ اس مقصد کے لئے مزید قربانی دینے کو تیار ہیں،کیونکہ کورونا کے خوف اور اُس کی تباہ کاری سے وہ بچنا چاہتے ہیں۔اگر مرکزی و صوبائی حکومتیں کسی دباؤ کی وجہ سے ایسے فیصلے کرتی ہیں،جو عوام کی ایک ماہ سے زائد کی قربانیوں پر پانی پھیر دے تو یہ بہت بڑا ظلم ہو گا۔ آفات کے دِنوں میں اگر فیصلہ کرنے کی قوت تقسیم ہو جائے تو تباہی کے امکانات بھی زیادہ ہو جاتے ہیں۔اِس وقت واحد ایجنڈا کورونا وائرس کو روکنا ہونا چاہئے۔ اس کے سوا باقی سب باتیں موخر کی جا سکتی ہیں، دیکھنے میں یہ آ رہا ہے کہ اس ایجنڈے پر حکومتوں کی توجہ کمزور پڑتی جا رہی ہے اور وہ دباؤ کے تحت دیگر مسائل کو پیش ِ نظر رکھ کر فیصلے کر رہی ہیں۔ یہ صورتِ حال خدانخواستہ ہمیں کسی بڑے امتحان سے دوچار کر سکتی ہے۔

مزید :

رائے -کالم -