جہاز اڑا کر ہر کامیابی حاصل کرنے والے ناکام نظر آئے۔ متحدہ اور اتحادی ناراض!

جہاز اڑا کر ہر کامیابی حاصل کرنے والے ناکام نظر آئے۔ متحدہ اور اتحادی ناراض!

  



ڈائری۔ کراچی۔مبشر میر

تحریک انصاف نے اکثریتی پارٹی کی حیثیت سے جب 2018 کے الیکشن میں کامیابی حاصل کی تھی، اور اس وقت عمران خان کے قریبی ساتھی جہانگیر ترین اپنے جہاز پر پورے ملک کا چکر کاٹ رہے تھے تو بظاہر یہ تاثر ابھرا کہ جہانگیر ترین ہی وہ شخص ہے جو بے لوث انداز سے عمران خان کے لیے وزیراعظم بننے کے مطلوبہ ووٹ جمع کررہا ہے۔اب جہانگیر ترین کو ایم کیو ایم کے ساتھ مذاکرات کے بعد ناکام لوٹتے دیکھا تو حیرت ہوئی کہ یا اللہ کیا یہ وہی شخص ہے جس کا کوئی چکر ناکام نہیں تھا اور اب وہ چکر پہ چکر لگارہا ہے۔ حکومت وزارتیں دے بھی رہی ہے کراچی میں ایم کیو ایم کے اراکین اسمبلی مزے سے اپنے ہاتھ سیدھے کررہے ہیں، گھر بسارہے ہیں اور ناراضگی ہے کہ ختم ہونے کا نام نہیں لے رہی۔ عوام کو بتایا جارہا ہے کہ کراچی کے عوام کے مسائل حل نہیں ہورہے۔ ایم کیو ایم نے توپوں کا رُخ بلاول ہاؤس سے ہٹا کر بنی گالا کی جانب موڑ دیا ہے۔ اتحادی حکومتوں کا مستقبل تابناک نہیں ہوتا۔ وفاق میں موجودہ اتحادی حکومت کے پاؤں سے زمین اس وقت سرکنے لگی جب پارلیمنٹ نے سروسز ایکٹ ترمیمی بل پاس کرلیا اور یہ تاثر پختہ ہوتا گیا کہ مقتدر قوتوں نے مسلم لیگ ن اور پیپلز پارٹی سے تعلقات استوار کرلیے ہیں۔ الیکشن 2018 سے چند دن پہلے سندھ کے شہر نواب شاہ میں ہونے والی اہم ملاقات نے کم از کم سندھ میں نتائج کا رُخ بدل دیا تھا، اور 2019 کی آخری سہ ماہی میں کوٹ لکھپت میں دو اہم شخصیات کے درمیان دو مرتبہ اہم ترین اور طویل ملاقات ہوئی۔ اس کا ایجنڈا کیا تھا اس کے بعد آنے والے واقعات نے واضح کردیا۔ میاں نواز شریف اور میاں شہباز شریف لندن میں ہیں۔ مریم نواز کے ٹویٹ خاموش ہیں۔ میڈیا سیل لگتا ہے سیل(Seal) کردیا گیا ہے۔

پارلیمنٹ میں نظر آنے والا اتحاد مصنوعی ثابت ہوا۔ اور فیصل واوڈا ایک فوجی بوٹ لے کر ٹاک شو میں پہنچ گئے۔ انہوں نے یہ تاثر دیا کہ مسلم لیگ ن اور پیپلز پارٹی، مقتدر قوتوں کے لیے قبول صورت کا درجہ پانے میں ایک مرتبہ پھر کامیاب ہوگئی ہیں۔ دونوں نے احتساب کے سخت آغاز سے لے کر سروسز ایکٹ بل کے پاس ہونے سے پہلے تک اینٹی اسٹیبلشمنٹ کردار اپنائے رکھا اور اب ان کی طرف بڑھایا گیا صلح کیلئے ہاتھ ان کے لیے ریلیف کا پروانہ ثابت ہوا۔ایسی صورت میں حکومت کی اتحادی جماعتوں نے بھی کروٹ لی اور ا ن کو یہ بھنک پڑنی شروع ہوگئی کہ شاید پھر کوئی تبدیلی کا اشارہ ہے۔ پہلے کامیاب اور اب ناکام جہانگیر ترین کے پیچھے جو قوت کارفرما تھی اور ہے، گویا اس نے ہی اپنا نیا کردار ادا کرنے کی کوشش شروع کردی ہے۔

سیاست کے طالب علموں کو وہ وقت یاد ہوگا جب صدر آصف علی زرداری بیماری کی صورت میں دبئی کے ہسپتال میں کئی ہفتے گذار کر پاکستان واپس عجب انداز سے آئے تھے، کراچی ماڑی پور پر ان کا جہاز لینڈ ہوا تھا اور فوراً کلفٹن میں بلاول ہاؤس میں شفٹ ہوئے تھے۔ پوری تسلی کے بعد اسلام آباد روانہ ہوئے، پیپلز پارٹی مقتدر قوتوں کے ساتھ پیدا ہونے والی غلط فہمیاں دور کرنے میں اپنی سیاسی مہارت سے کامیاب ہوئی۔ دیکھنا یہ ہے کہ تحریک انصاف اور خاص طور پر عمران خان اس پیدا شدہ صورتحال میں جب ملک کے اندر مافیا کبھی ٹماٹر اور کبھی کوئی بحران جنم دے رہا ہے۔ اپوزیشن ان کو ٹف ٹائم دے رہی ہے۔ مقتدر قوتوں سے تعلقات میں تبدیلی کے اشارے بھی ہیں، تو وہ اس صورتحال کو اپنے حق میں رکھنے میں کس طرح کامیاب ہوتے ہیں۔

سال کے آ غاز سے ہی یہ سوال پوری قوت کے ساتھ ابھررہا ہے کہ یہ سال الیکشن کا ہوسکتا ہے، لگتا ہے جو جیل سے ہو کر آتا ہے ا سے الہام بھی شروع ہوجاتا ہے۔ جو ملک سے باہر ہیں وہ ان ہاؤس تبدیلی کی بات کررہے ہیں۔ حکومت کے اتحادی ایم کیو ایم اور ق لیگ اپنی بارگیننگ قوت کا مظاہرہ کررہے ہیں۔ یوں دکھائی دیتا ہے کہ اب وہ لاتعلق ہوگئے ہیں جن کی ایماء یا خواہش یا درپردہ کوشش سے اس اتحاد نے جنم لیا تھا۔ وفاقی حکومت کا طرز حکومت ابھی تک اس کیلئے سکھ کے دن لانے میں ناکام ہے۔ سندھ اور بلوچستان سے اسے ٹھنڈی ہوا آنا تو دور کی بات ہے، آزاد کشمیر اور گلگت بلتستان سے وزیراعظم عمران خان لاتعلق ہیں۔ حد تو یہ ہے کہ سوالات پنجاب اور پختونخواہ کے طرز حکومت پر اٹھ رہے ہیں۔

معیشت میں بہتری واضح طور پر آتی دکھائی دے رہی ہے۔ پاکستان کو سیاحت کیلئے بہترین ملکوں میں شامل کر لیا گیا ہے۔ اکنامک ریٹنگ بہتر ہورہی ہے، بھارت ایک سے ایک مشکل سے دوچار ہورہا ہے۔ کرتارپور راہداری سے عمران خان نے چھکا لگایا۔ لیکن وفاقی حکومت کے میڈیا منیجرز حکمت عملی سے اچھی خبروں کو اپنے حق میں استعمال کرنے میں کامیاب نہیں ہو رہے۔ وزیراعظم عمران خان کا طرز خطابت اور الفاظ کا چناؤ ان کے لیے مشکلات کا باعث بھی بنا ہوا ہے۔ حکومت کی کوئی شخصیت یہ ماننے کو تیار نہیں کہ وہ دن بدن غیرمقبول ہورہے ہیں۔ اس صورتحال سے نکلنے کے راستے موجود ہیں لیکن میڈیا ٹیم کے پاس آئیڈیاز کی کمی دکھائی دیتی ہے۔

کراچی میں آ ٹے کے بحران کے حوالے سے میں نے مارکیٹ سروے کیا تو پتہ چلا کہ فلورملز مالکان نے آ ٹے کی قیمت خود بڑھائی اور کسی اعلان کے بغیر نئی قیمت وصول کرنی شروع کردی۔ اسی طرح سوئی گیس کی قیمتوں میں اضافہ اور گیس کی لوڈ شیڈنگ بھی ساتھ ساتھ ہے اب بھی بہت سے نان بائیوں نے روٹی کی قیمت میں ابھی اضافہ نہیں کیا۔اصل وجہ جاننے کی بجائے سیاسی راہنماؤں نے ایک دوسرے پر الزامات کا سلسلہ شروع کررکھا ہے۔ سیاسی پوائنٹ اسکورنگ مسائل کو حل کرنے میں ہمیشہ ناکامی رہتی ہے اور اب بھی ایسا ہی ہوتا دکھائی دے رہا ہے۔

مزید : ایڈیشن 1