پنجاب ہیلتھ فاﺅنڈیشن

پنجاب ہیلتھ فاﺅنڈیشن
پنجاب ہیلتھ فاﺅنڈیشن

  

پنجاب ہیلتھ فاﺅنڈیشن، پنجاب حکومت کا ایک ایسا ادارہ ہے،جو عوام کی بہتری کے لئے 1993ءسے کام کررہا ہے۔اس ادارے کا صدر دفتر لاہور میں ہے اور یہ ادارہ پنجاب ہیلتھ فاﺅنڈیشن ایکٹ 1992(xI)کے تحت قائم ہوا۔پرائیویٹ سیکٹر میں موجود ڈاکٹروں کی مالی امداد کے لئے قائم کیا گیا، تاکہ پرائیویٹ ڈاکٹر اپنے ذاتی کلینک، ہسپتال قائم کرکے سرکاری ہسپتالوں کابوجھ بانٹ سکیں، جس طرح پاکستان کی آبادی میں اضافہ ہو رہا ہے، سرکاری شعبے میں محکمہ صحت عوام کی ضروریات پوری کرنے سے قاصر ہے۔ پنجاب ہیلتھ فاﺅنڈیشن (PHF) کے کاموں میں مندرجہ ذیل امور قابل ذکر ہیں:

1۔پرائیویٹ سیکٹر میں صحت سے متعلق ادارے بنانا۔

2۔ان پرائیویٹ اداروں کو مالی وسائل مہیا کرنا۔

3۔ ڈاکٹروں کو کلینک ،ہسپتال بنانے اور میڈیکل مشینری کی خریداری کے لئے قرض دینا۔

4۔بغیر منافع کے کام کرنے والے صحت کے ادارے اور این جی اوز کو فنڈ مہیا کرنا۔

5۔پاپولیشن ویلفیئر کے اداروں کی مالی معاونت کرنا۔

اس ادارے (پی ایچ ایف) کی خصوصیت یہ ہے کہ ڈاکٹروں کو جو قرض دیا جاتا ہے، اس میں سود شامل نہیں ہوتا،یعنی بغیر سود کے قرض دیا جاتا ہے، جو ایک بہت بڑی خدمت ہے۔اس قرض کے دو حصے ہیں۔ایک ریگولر پیکیج ہے،جس کے تحت فی ڈاکٹر 15لاکھ روپے قرض دیا جاتا ہے ،دوسرا ینگ ڈاکٹروں کو فی ڈاکٹر 4لاکھ روپیہ۔اس قرض کی شرط یہ ہے کہ ڈاکٹر اپنی جیب سے بھی حصہ ڈالے، یعنی جو ڈاکٹر 15لاکھ قرض لے گا، اسے اپنی جیب سے ساڑھے سات لاکھ حصہ ڈالنا پڑے گا،یعنی ڈاکٹر جو مشینری یا بلڈنگ ساڑھے بائیس لاکھ روپے کی لے گا۔15لاکھ پی ایچ ایف اور ساڑھے سات لاکھ روپیہ متعلقہ ڈاکٹر، اس سے متعلقہ ڈاکٹر اپنا کام بڑے احسن طریقے سے چلا لیتا ہے اور کمیونٹی کی خدمت بھی ہو جاتی ہے۔ پنجاب ہیلتھ فاﺅنڈیشن قرض کی رقم کی نگرانی بھی کرتا ہے کہ رقم کا کہیں غلط استعمال تو نہیں ہورہا۔

پی ایچ ایف نے جو کام 1993ءسے شروع کیا،وہ 2012ءمیں بھی سست روی کا شکار ہے،جس کی بڑی وجہ افسر شاہی کی بے جا مداخلت اور ہیلتھ فاﺅنڈیشن کی قرض جاری کرنے کی سخت شرائط کے ساتھ ساتھ ادارے کی تشہیر نہ ہونے کے برابر ہے۔بہت سارے لوگوں کو اِس ادارے کے بارے میں معلومات نہ ہونے کے برابر ہیں۔پی ایچ ایف کے بورڈ آف ڈائریکٹرز میں منتخب حکومتی نمائندوں کے علاوہ افسر شاہی کے اعلیٰ نمائندے اور ڈاکٹر حضرات شامل ہیں۔پی ایچ ایف کی تنظیم /ادارے کا منتظم ایم ڈی ہے۔اس ادارے میں 9گزٹیڈ افسران اور 38اہلکار ہیں۔پی ایچ ایف کی مالی پوزیشن بہت مضبوط ہے۔1993ء میں جب اس ادارے نے کام شروع کیا تو اس کے پاس 35کروڑ روپیہ تھا،جو آج بڑھ کر ایک ارب روپے سے تجاوز کر گیا ہے، جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ اس ادارے میں ٹرانسپیرنسی موجود ہے۔1992-93ءسے تاحال پی ایچ ایف کی مالی پوزیشن کا اندازہ آپ مندرجہ ذیل اعدادوشمار سے لگا سکتے ہیں۔

1992-93ءمیں پنجاب حکومت نے پنجاب ہیلتھ فاﺅنڈیشن کو37کروڑ67لاکھ روپیہ دیا۔اب تک بنکوں سے سود کی مد میں پی ایچ ایف کے پاس ایک ارب سے زائد کا سرمایہ ہے۔اس عرصے میں پی ایچ ایف نے جتنے بھی قرض دیئے ،ان کی ریکوری 98.38فیصد رہی، جو ایک ریکارڈ ہے۔یہ بھی ادارے کے شفاف ہونے کی دلیل ہے۔اب تک اس ادارے نے 970افراد اور اداروں کو قرض دیا،جن میں 50کے قریب این جی اوز ہیں اور قرض کی واپسی تقریباً 99فیصد ہے ،جو ایک مثال ہے۔اس وقت اس ادارے کے 2/3کیس ایسے ہیں،جن میں ریکوری میں مشکل آرہی ہے۔ان کیسوں میں 2کیس لاہور اور ملتان ہائی کورٹ میں زیر سماعت ہیں اور ایک کیس لاہور کی ایک سول عدالت میں زیر سماعت ہے۔یہ ادارہ پنجاب حکومت کا ایک مثالی ادارہ ہے جو صحت کے شعبے میں نمایاں خدمات انجام دے رہا ہے۔یہ ادارہ محکمہ صحت کے لئے ،عوام کی فلاح و بہبود کے لئے پرائیویٹ سیکٹر میں بہت کچھ کرنا چاہتا ہے، اس کے پاس مالی وسائل بہت ہیں، لیکن اس ادارے کو نوکر شاہی کام نہیں کرنے دیتی اور بے شمار مسائل کھڑے کرتی ہے۔

اس ادارے کی ذیلی ضلعی کمیٹیاں (ڈسٹرکٹ ہیلتھ پروموشن کمیٹیاں) کام میں رکاوٹ ڈالتی ہیں یا تعاون نہیں کرتیں۔بورڈ آف ڈائریکٹرز میں ریٹائرڈ اور حاضر سروس اعلیٰ بیورو کریٹ کام میں رکاوٹ ڈالتے ہیں۔قرض لینے والوں کے لئے بے جا رکاوٹیں اور شرائط، بنک گارنٹی ،پراپرٹی کو رہن رکھنا وغیرہ وغیرہ ۔یہ وہ رکاوٹیں ہیں، جنہیں ینگ ڈاکٹر تو کیا پرانے ڈاکٹروں کے لئے بھی عبور کرنا مشکل مرحلہ ہوتا ہے، اسی لئے بہت سا فنڈ 1993ءسے تاحال استعمال میں ہی نہیں آ رہا اور بنک میں پڑا پڑا تین چار گنا ہوگیا ہے،اگرپی ایچ ایف قرضے کے لئے شرائط کچھ نرم کرے۔کم از کم تحصیل اور سب تحصیل لیول پر محکمے کے افسران پرائیویٹ ہسپتال وزٹ کریں۔وہاں موجود ڈاکٹروں کو لاہور بلانے کی بجائے موقع پر قرض جاری کریں اور اس شرط کے ساتھ کہ اگر کچھ عرصے بعد حالات بہتر نہ ہوئے تو قرض واپس لے لیا جائے گا۔جیسا کہ بہت سے پرائیویٹ سکولوں میں حکومت کررہی ہے۔

پی ایچ ایف کے افسران خود فیلڈ میں جا کر چھوٹے ہسپتالوں میں ڈاکٹروں کو آپریشن، ادویات اور میڈیکل مشینری کے لئے سبسڈی دیں، قرض دیں اور اپنے قرض اور سبسڈی کی رقم کی نگرانی کریں، تاکہ قرض اور سبسڈی کا غلط استعمال نہ ہو، اگر پی ایچ ایف اپنے محکمے کی پرنٹ اور الیکٹرانک میڈیا پر تشہیرکرے۔ایک تحصیل میں کام شروع کرے اور مثال بنائے ، اس کام کی دیکھا دیکھی چند سال میں پورے پنجاب کے عوام خصوصاً دیہی عوام اس صدقہ جاریہ سے بھرپور فائدہ اٹھا سکتے ہیں،کیونکہ حکومت تو سرکاری ہسپتالوں کے ذریعے عوام کو علاج معالجہ فراہم کرنے میں مکمل ناکام ہوگئی ہے، اس کی وجہ یہ ہے کہ حکومتی سیکٹر میں صحت کا بجٹ کل ملکی بجٹ کا ڈیڑھ فیصد ہے اور فی کس فی دن ایک آدمی کے حصے میں 2پیسے بھی نہیں آتے۔میری دعا ہے کہ خداوند تعالیٰ پنجاب ہیلتھ فاﺅنڈیشن کو مزید ہمت دے اور اسے بیورو کریسی کی مداخلت سے نجات دلوائے۔

مزید :

کالم -