کتنے قاسم ، کتنے ٹیپو، بچپن ہی میں مر جاتے ہیں

کتنے قاسم ، کتنے ٹیپو، بچپن ہی میں مر جاتے ہیں
کتنے قاسم ، کتنے ٹیپو، بچپن ہی میں مر جاتے ہیں

  

چند دن پہلے جب ملک میں پانامہ کے فیصلے کا انتظار کیا جا رہا تھا داتا کی نگری لاہور میں ایک ماں نے محض غربت کی وجہ سے اپنی دو خوبصورت معصوم کلیوں کو مسل دیا ، وہ سارا منظر دیکھ کر مجھے ایڈ منسٹریشن کی کائنات کے شہنشاہ حضرت عمر فاروقؓ کا وہ جملہ یاد آگیا کہ ’’اگر دریائے فرات کے کنارے کوئی بھوکا کتا بھی پیاسا مرگیا تو بروزِ محشر عمر سے پوچھ گچھ ہو گی ‘‘اور آج نہ جانے کتنے معصوم لوگ بھوک سے خود کشیاں کر رہے ہیں مگر ہمارے حکمران ’’مذاکرات ، مذاکرات ‘‘ کا کھیل ۔۔۔۔کھیل رہے ہیں ۔۔۔۔ نہ جانے ہمارے گلستان کا کیا حال ہوگا جس کی ہر شاخ پر اُلوؤں نے ڈیرہ ڈالا ہوا ہے ، ایسے حالات میں تو حکمرانوں کو بروزِ محشر اُلٹا لٹکا کر ایک ایک غریب کی خود کشی کا حساب لیا جائے گا 

دوسال پہلے مجھے انٹر نیشنل سروے ادارہ ’’گیلپ ‘‘ کے ڈائیریکٹر جنابِ عاصم جاویدنے کچھ فکری اور انقلابی شاعری ایس ایم ایس کے ذریعے بھیجی اور حُکم بھی دیا کہ اِسے سُپردِ قرطاس کیا جائے تاکہ معلوم ہو سکے کہ عوام کے دِل میں ابھی بھی اُمید کی کرن باقی ہے اور عوام کی خواہش ہے کہ ہمارے ’’راہنمایانِ قوم ‘‘ملک کو ترقی یافتہ ملک بنا سکیں گے لیجئے آج ہم نثر کے کوچے سے نکال کر شاعری کی وادی میں لیے چلتے ہیں تاکہ قارئین کا ذائقہ تبدیل کیا جاسکے اسلامی جمہوریہ پاکستان کی سرزمین ابھی اتنی بانجھ نہیں ہوئی کہ اس کی کوکھ سے کچھ پیدا نہ ہو سکے۔ اللہ تعالی ٰ نے اپنی انقلابی اور آفاقی کتاب قرآن مجیدمیں سورۃ رحمنٰ میں ستائیس نعمتوں کا ذکر فر مایا ہے اور یہ ستائیس کی ستائیس نعمتیں رب تعالیٰ نے کشور حسین ، پاک سرزمین اسلامی جمہوریہ پاکستان کو عطا کر رکھی ہیں اس لیے لُٹیروں اور فصلی بٹیروں کی تمام تر لُو ٹ مار کے با وجود اُمید ابھی باقی ہے

اُمید ابھی کچھ باقی ہے

اِک بستی بسنے والی ہے

جس بستی میں کوئی ظلم نہ ہو

اور جینا کوئی جرم نہ ہو

وہاں پھول خوشی کے کھِلتے ہوں

اور موسم سارے ملتے ہوں

بس رنگ اور نور برستے ہوں

اور سارے ہنستے بستے ہوں

اُمید ہے ایسی بستی کی

جہاں جھوٹ کا کاروبار نہ ہو

دہشت کا بازار نہ ہو

جینا بھی دشوار نہ ہو

مرنا بھی آزار نہ ہو

یہ بستی کاش تمہاری ہو

یہ بستی کاش ہماری ہو

وہاں خون کی ہولی عام نہ ہو

اُس آنگن میں غم کی شام نہ ہو

جہاں منصف سے انصاف ملے

دل سب کا سب سے صاف ملے

اِک آس ہے ایسی بستی ہو

جہاں روٹی زہر سے سستی ہو

غریب کے منہ سے روٹی ، سر سے چھت اور جسم سے لباس اُتار نے والے ہمارے موجودہ ’’راہنمایانِ قوم ‘‘سے یہ اُمید عبث ہے کہ وہ سو سائٹی میں کچھ ایسا انقلاب لا سکتے ہیں جہاں حالات اِس سٹیج پر پہنچ جائیں کہ

جب باپ کی عزت کھو جائے

جب قوم کی غیرت سو جائے

جب بھائی کلب میں جاتے ہوں

اور بہن کا حق کھاتے ہوں

جب ماں کی نظریں جھُک جائیں

الفاظ لبوں تک رُک جائیں

جب گھر گھرمیں سُر تال چلے

اور عورت ننگے بال چلے

جب رشوت سر چڑھ کے بولے

اور تاجر جان کے کم تولے

پھر جب یہ سب کچھ ہوتا ہے

رب غافل ہے نہ سوتا ہے

جب اُس کا قہر برستا ہے

قارون زمین میں دھنستا ہے

پھر جب وہ پکڑ میں آتا ہے

فرعون بھی جوتے کھاتا ہے

قومِ عاد بھی زیرو زبر ہوئی

قرآن میں اُس کی خبر ہوئی

یہ سب عبرت کو ہیں کافی

اب مانگ لو اللہ سے معافی

اب مانگ لو اللہ سے معافی

اِس کے با وجود اُمید ابھی باقی ہے ، ہمارے ہی شہر کے ایک جمہوریت پسند اور انقلابی ذہن رکھنے والے شاعر جنابِ عقیل احمد رشید نے بہت خوبصورت بات کی ہے

ہے کام دلوں کی ترجمانی کرنا

ہو ظلم جہاں بیاں کہانی کرنا

ایوانِ یزیدیت میں حق کہتا ہوں

ظلمات کی ختم حکمرانی کرنا

ہاتھوں میں مرے قلم ہے کشکول نہیں

انسان ہے انمول کوئی مول نہیں

دن رات ہے حُرمتِ قلم پیشِ نظر

ہوں حق گو نگارش میں کہیں جھول نہیں

ایک اور جگہ لکھتے ہیں اور یقیناََ ضلع لیہ کے ایسے اہلِ صحافت کی نمائندگی کرتے ہیں جنہوں نے ہمیشہ قلم کی حُرمت کو پیشِ نظر رکھا ہے اور اپنے دامن کو ’’دیہاڑی کی صحافت ‘‘ سے آلودہ نہیں ہو نے دیا اور حقیقی معنوں میں سوسائٹی میں شعوری کلچر کو عام کیاوطن عزیزمیں دیہاڑی کلچر عام ہے ، ایسے نام نہاد لوگوں کو بھی دیکھا ہے جو گلے میں کسی ڈمی اخبار کا کارڈ لٹکائے سارا دن دفتروں میں دیہاڑی کے چکر میں خجل خوار و ذلت کی تصویر بنے آوارہ لوگوں کی طرح پھرتے رہتے ہیں رباعی ملاحظہ کیجئے

معاشرے کو صحافی شعور دیتے ہیں

چراغِ طور جلاتے ہیں نور دیتے ہیں

نئی سحر کا وطن کو ظہور دیتے ہیں

سُنا کے پیار کے نغمے سرور دیتے ہیں

ہمارے معاشرے کے جو حالات ہیں درج ذیل ایک اور نظم پڑھ کر سب کچھ آشکار ہو جائے گا کہ لا الہ الا اللہ محمد رسول اللہ کے آفاقی اور کائناتی نظریے کی بنیاد پر معرضِ وجود مملکت میں جاگیر دار ، سرمایہ دار ، زردار اور زور دار کے پالتو کُتوں اور گھوڑوں کو توٹھنڈے مخملیں بیڈ اور مُربے’’نصیب ‘‘ ہو رہے ہیں مگر دوسری طرف اُسی جاگیر دار کے ووٹرز کا بچہ دودھ کے چند قطروں کو ترس رہا ہے میری اپنی نظم ملاحظہ کیجئے !

بھوک افلاس کے عفریتوں کو

دیکھتے ہیں اور ڈر جاتے ہیں

کتنے قاسم ، کتنے ٹیپو

بچپن ہی میں مر جاتے ہیں

ماں کی جھولی خالی کر کے

قبروں کے منہ بھر جاتے ہیں

فاقوں کی اِک ناؤ بنا کر

دریا پار اُتر جاتے ہیں

یہاں کُتوں کو ملتا ہے سب کچھ

بچے بھوک سے مر جاتے ہیں

.

نوٹ: روزنامہ پاکستان میں شائع ہونے والے بلاگز لکھاری کا ذاتی نقطہ نظر ہیں۔ادارے کا متفق ہونا ضروری نہیں۔

مزید : بلاگ