تضادات کے بھنور

تضادات کے بھنور
 تضادات کے بھنور

  

پاکستان میں کچھ عرصہ سے چند بلاگرز پراسرار طور پر غائب ہیں۔ میڈیا میں ان پر تبصرے ہو رہے ہیں‘ خبریں دی جا رہی ہیں۔ قیاس آرائیاں کی جا رہی ہیں۔ یہ معاملہ خاصا سیریس نظر آتا ہے وہاں جذبات کو آگ لگا دینے والی افواہوں کا راج ہے، ان بلاگرز پر مقدمات درج کرنے کی خبریں دی جا رہی ہیں۔ وزیرداخلہ چوہدری نثار علی خان نے بھی ان خبروں اور قیاس آرائیوں کا نوٹس لیا ہے ۔ وزارت داخلہ کے ترجمان کا کہنا ہے کہ ان بلاگرز پر مقدمات قائم کرنے کی خبروں میں کوئی صداقت نہیں ہے اور ان کی بازیابی کے لئے کوششیں کی جا رہی ہیں۔ ان بلاگرز کے حق اور مخالفت میں مظاہرے بھی ہو رہے ہیں۔ ان پر الزام لگایا جا رہا ہے کہ یہ اسلام اور پاکستان کے خلاف زہریلا مواد تخلیق کرتے تھے اور اسے سوشل میڈیا کے ذریعے پھیلاتے تھے۔ اس کے نتیجے میں یہ خطرہ پیدا ہو گیا ہے کہ اگر یہ واپس آتے ہیں تو یہ کچھ انتہاپسند انہیں نقصان پہنچا سکتے ہیں۔ ان کے حوالے سے پاکستان میں سیکولرازم کی ایسی تصویر بنائی جا رہی ہے کہ سیکولرازم کا مطلب لادینیت ہے اور اس سے وابستہ افراد کے لئے لازم ہے کہ وہ اسلام کا مذاق اڑائیں۔ اس صورت حال سے ہمیں بھارت کے اردوکے معروف شاعر مجاز یاد آ رہے ہیں جن سے کسی نے دریافت کیا کہ بھارت میں انقلاب کیوں نہیں آتا، جبکہ یہاں انتہائی غربت ہے‘ طبقاتی امتیاز ہے‘ ظلم ہے‘ زیادتی ہے اور تقریباً وہ تمام عوامل پوری طرح سے موجود ہیں جو انقلاب کے لئے ضروری ہوتے ہیں۔ اس پر مجاز نے برجستہ کہا کہ بھارت میں کمیونسٹ حلقے انقلاب نہیں آنے دیتے۔

پاکستان میں سیکولرازم کے دعویدار سیکولرازم کے فروغ میں سب سے بڑی رکاوٹ ہیں۔ سیکولرازم تحمل اور برداشت کے کلچر پر زور دیتا ہے، مگر ہمارے ہاں عام طور پر سیکولرازم کے علمبردار دوسروں کے تحمل اور برداشت کو آزماتے ہیں اور جب کسی نہ کسی صورت میں یہ تحمل اور برداشت جواب دے دیتا ہے تو پھر اس پر سوال کھڑے کرتے ہیں۔ عالمی ادارے عمل کو نظرانداز کر دیتے ہیں اور ردعمل کو خبر بنا لیتے ہیں۔ وطن عزیز میں اسلام اور پاکستان کے خلاف ایسے لوگ بھی آوازیں بلند کرتے ہیں جن کا مقصد صرف اور صرف امریکہ یا یورپ میں سیاسی پناہ حاصل کرنا ہوتا ہے۔ ایسے افراد کے وکلاء اپنے موکلوں کو ایسا مواد تخلیق کرنے کا مشورہ دیتے ہیں ،جن کی بنیاد پر یہ ثابت کرنا ممکن ہوتا ہے کہ ان صاحب نے اپنا آزادی رائے کا حق استعمال کیا اور اسے اپنے ملک میں ایسے حالات کا سامنا ہے کہ اس کا وہاں رہنا ممکن نہیں ہے۔ جو لوگ یہ کام کرتے ہیں وہ دیارِ غیر کی شہریت تو حاصل کر لیتے ہیں، مگر ملک و قوم کے لئے بڑی بدنامی کی وجہ بن جاتے ہیں۔ گمشدہ افراد کے اہل خانہ نے میڈیا پر آکر واشگاف الفاظ میں اپنے اور گمشدہ عزیزوں کے پختہ مسلمان اور محب الوطن ہونے کا اعلان کیا ہے۔ اس اعلان پر یقین کرنا چاہیے اور اگر کسی فرد یا ادارے کے پاس ان افراد کے خلاف کوئی شکایت یا ثبوت ہے تو اسے متعلقہ اداروں کو فراہم کرنے کا موقع ملنا چاہیے۔ قانون اپنے ہاتھ میں لینا خود بہت بڑا جرم ہے۔ کسی طرح کی انتہاپسندی ملک و ملت کے لئے انتہائی خطرناک ثابت ہوسکتی ہے۔

1960 ء کے عشرے میں دنیا میں کمیونزم تیزی سے پھیل رہا تھا اس وقت یہ انکشاف ہوا تھا کہ سی آئی اے نے دنیا کے بہت سے ممالک میں اپنے ایجنٹوں کو کمیونسٹ بننے کا ٹاسک دیا ہے۔ یہ جعلی کمیونسٹ اصلی کمیونسٹوں سے بھی بڑھ چڑھ کر کمیونزم کے ساتھ اپنی وابستگی کا اظہار کرتے تھے، مگر ان کی حرکات دیکھ کر اصلی کمیونسٹ بھی کمیونزم سے تائب ہو جاتے تھے۔ ان جعلی کمیونسٹوں نے دنیا میں کمیونزم کو ناکام بنانے میں انتہائی اہم کردار ادا کیا۔ مجاز سچ ہی کہہ رہے تھے کہ بھارت میں کمیونسٹ حلقے انقلاب نہیں آنے دیتے۔

پاکستان کے دیہی علاقوں میں کہا جاتا ہے کہ مولوی جو کہے وہ تو کر لیں، مگر وہ جو کرتا ہوا نظر آئے وہ نہ کریں۔ ہمارے ہاں مولوی حضرات کے حوالے سے خاصے لطیفے مشہور ہیں۔ ایک زمانے میں ایسے فتوؤں کا بڑا تذکرہ رہا ہے جن میں بعض افعال کے نتیجے میں نکاح ٹوٹ جاتے تھے۔ کچھ عرصہ قبل اترپردیش سے خبر آئی تھی کہ وہاں ایک معتبرقسم کے مسلمان فوت ہو گئے۔ ان کی نماز جنازہ میں شرکت کے لئے دوردراز سے بڑی تعداد میں لوگ آئے۔ بیرون شہر سے آنے والے ایک مولوی صاحب نے ان کی نماز جنازہ پڑھائی۔ تدفین کے بعد پتہ چلا کہ نماز جنازہ پڑھانے والے مولوی صاحب دوسرے مسلک سے تعلق رکھتے تھے۔ اس پر بحث مباحثہ شروع ہو گیا اور پھر یہ معاملہ متعلقہ فقہ کے مفتی صاحب کے سامنے پیش کیا گیا جنہوں نے یہ فتویٰ دیا کہ ایک تو نماز جنازہ نہیں ہوئی دوسرا اس نماز جنازہ میں شرکت کرنے والے تمام افراد کے نکاح ٹوٹ گئے ہیں اور ان کے لئے ازسرنو نکاح کراناضروری ہے۔ یوں سینکڑوں افراد نے دوبارہ نکاح کرائے۔ اس واقعہ کو بھارت میں خوب اچھالا گیا اور اس سے مسلمانوں اور اسلام کی جو تصویر پیش کی گئی اس پر کسی تبصرے کی ضرورت نہیں ہے۔ برصغیر میں کوئی ایسا بڑا سیاسی لیڈر نہیں ہے جس پر کفر کا فتویٰ نہ لگایا گیا ہو۔ سرسید‘ علامہ اقبال اور قائد اعظم پر خاصے فتوے لگائے گئے۔ پاکستان میں مذہبی سیاسی جماعتیں اسلام کے نفاذ کا مطالبہ کرتی رہتی ہیں، مگر ان کا باہمی اختلاف اسلام کے نفاذ میں سب سے بڑی رکاوٹ ہے۔ تمام علمائے کرام اسلام کی کسی ایک تشریح پر متفق نہیں ہیں۔ مذہبی جماعتیں انتخابات میں بھی حصہ لیتی رہتی ہیں، مگر عوام نے انہیں کبھی زیادہ پذیرائی نہیں بخشی۔ جنرل پرویزمشرف کے دور حکومت میں صوبہ خیبرپختونخواہ میں مذہبی جماعتوں کی حکومت قائم ہوئی تھی۔ اس حکومت میں شامل وزرا اور دوسرے اکابرین نے بھی تقریباً وہی حرکتیں کی تھیں جو گناہ گار قسم کے سیاستدان کرتے نظر آتے ہیں۔ اگلے انتخابات میں عوام نے انہیں مسترد کر دیا۔ ایک بڑے مذہبی رہنما کے متعلق ایک اہم کالم نگار نے انکشاف کیا تھا کہ وہ ہمیسہ سچ بولنے کا اہتمام کرتے ہیں۔ انہوں نے اپنے ادارے کے متعدد کمروں پر پاکستان کے اہم شہروں کراچی‘ اسلام آباد اور لاہور کی تختیاں لٹکا رکھی ہیں۔ جب اس محترم مذہبی شخصیت کا کسی سے ملنے کو دل نہیں چاہتا تو وہ ان میں سے کسی کمرے میں چلے جاتے ہیں اور ان سے ملنے کے لئے آنے والے کو بتایا جاتا ہے کہ حضرت صاحب تو اسلام آباد، لاہور یا کراچی گئے ہوئے ہیں۔ حضرت صاحب کے نائبین سچ بول رہے ہوتے ہیں کیونکہ حضرت صاحب اس وقت متعلقہ شہر سے منسوب کمرے میں ہوتے ہیں۔

پاکستان میں سیاستدان جمہوریت کو رخصت کرنے کے لئے کردار ادا کرتے رہے ہیں اور آمریت کے نفاذ پر مٹھائیاں بانٹنے والے بھی نظر آتے رہے ہیں۔ کامریڈ ماسکو میں برف باری ہونے پر جون میں لاہور میں بھی اوورکوٹ پہن لیتے تھے، مگر ان کے مقامی لیڈر سرمایہ دار یا جاگیر دار ہوتے تھے۔ اپنی ہر تقریر میں امریکہ کے خلاف تقریریں کرنے والے محترم علماء کرام اپنے صاحبزادوں کو تعلیم کے لئے امریکہ بھجواتے ہیں۔ اس سے ہمیں فیض احمد فیض یاد آتے ہیں، جن سے کسی نے کہا تھا کہ ملکی صورت حال خاصی خراب ہو رہی ہے نظام چلتا ہوا نظر نہیں آتا۔ اس پر فیض احمد فیض نے کہا تھا کہ مجھے یہ تشویش ہے کہ یہ نظام ایسے ہی چلتا رہے گا۔ پاکستان میں اسے تبدیل کرانے کے نعرے بلند ہوتے رہتے ہیں، مگر ہم اپنے آپ کو تبدیل کرنے سے متعلق سوچنے سے بھی گریز کرتے ہیں۔ قول و فعل کا تضاد قوموں کو کیسے کیسے خطرات سے دوچار کرتا ہے۔ اپنی مختصر قومی تاریخ میں متعدد بار اس کا تجربہ کر چکے ہیں، مگر ہم اﷲ کے ساتھ ساتھ شیطان کو خوش رکھنے کی پالیسی سے چھٹکارا حاصل نہیں کرتے۔ ایسا لگتا ہے کہ ہمیں تضادات کے بھنور میں زندہ رہنے کی عادت سی ہو گئی ہے۔

مزید : کالم