ہندوستان کی ہٹ دھرمی اور ڈھٹائی بر قرار،مذہبی عدم برداشت سے متعلق امریکی رپورٹ مسترد کردی

ہندوستان کی ہٹ دھرمی اور ڈھٹائی بر قرار،مذہبی عدم برداشت سے متعلق امریکی ...
ہندوستان کی ہٹ دھرمی اور ڈھٹائی بر قرار،مذہبی عدم برداشت سے متعلق امریکی رپورٹ مسترد کردی

  


نئی دلی (ڈیلی پاکستان  آن لائن)بھارت نے مذہبی عدم برداشت سے متعلق امریکی رپورٹ مسترد کرتے ہوئے ڈھٹائی اور  ہٹ دھرمی کی نئی مثال قائم کر دی ہے ،واضح رہے کہ حال ہی میں امریکا نے عالمی مذاہب کو حاصل مذہبی آزادی سے متعلق سالانہ رپورٹ 2018جاری کی ہے جس میں تصدیق کی گئی ہے کہ بھارت میں انتہاپسند ہندوؤں نے مسلمان اور ہندوؤں کی نچلی ذات  کے دلتوں کو دھمکیاں دیں، ہراساں کیا اور تشدد کا نشانہ بنایا۔

غیر ملکی میڈیا کے مطابق مذکورہ رپورٹ منظر عام پر آنے کے بعد بھارتی وزیراعظم نریندر مودی کی حکومت نے اعتراض اٹھایا کہ کسی بھی ملک کو ہمارے معاملات پر تنقید کرنے کا حق نہیں۔مذہبی آزادی سے متعلق امریکی رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ گائے کو تحفظ فراہم کرنے کے نام پر مسلمانوں اور دلت پر حملے کیے گئے۔رپورٹ میں انکشاف کیا گیا کہ 2014میں نریندر مودی کے برسر اقتدار آنے کے بعد میسح برادری کے پیرو کاروں کو بھی تبدیلی مذہب کے لیے زور دیا گیا۔امریکی رپورٹ میں کہا گیا کہ اس حقیقت کے باوجود کہ بھارتی اعداد وشمار میں واضح ہے کہ گذشتہ 2برسوں میں لسانی فسادات کی تعداد میں اضافہ ہوا لیکن نریندر مودی کی انتظامیہ نے مذکورہ مسئلے کے حل پر کبھی توجہ نہیں دی۔اس حوالے سے بھارتی وزیر خارجہ نے رپورٹ مسترد کرتے ہوئے کہا کہ کسی ملک کو ہمارے شہریوں کے بارے میں رائے قائم کرنے کا حق نہیں جہاں انہیں آئینی تحفظ حاصل ہے۔وزارت خارجہ کے ترجمان رویش کمار نے کہا کہ بھارت کو سیکولر ملک ہونے پر فخر ہے جہاں دنیا کی سب سے بڑی جمہوریت ہے۔انہوں نے اپنے اعلامیے میں کہا کہ بھارت اقلیتوں کو مکمل آئینی تحفظ فراہم کرتا ہے۔

مزید : بین الاقوامی