قائداعظم محمد علی جناحؒ اور مادرِ جمہوریت بیگم نصرت بھٹو

قائداعظم محمد علی جناحؒ اور مادرِ جمہوریت بیگم نصرت بھٹو

  



بانی پاکستان قائداعظم محمد علی جناح نے بیگم نصرت بھٹو کے بارے میں کہا تھا

’’چاہے کیسی بھی مشکلات ہوں۔ کیسے ہی چیلنج ہوں وہ اس قوم کو شکست نہیں دے سکتے جس میں نصرت خانم جیسی نوجوان خواتین موجود ہوں۔‘‘

قائداعظم محمدعلی جناحؒ کو نصرت خانم نیشنل گارڈ کے پلیٹ فارم سے دن رات مہاجرین کی خدمت میں کوشاں پر فخر تھا

’’ بیگم نصرت بھٹو بچپن سے بے پناہ ترس کھانے والی، حوصلہ مند، نڈر، پُرعزم اور باہمت خاتون ثابت ہوئیں۔ اس کی ایک مثال ان کا وہ کردار ہے جو پاکستان بننے کے بعد ہندوستان سے آنے والے لٹے پٹے مہاجروں کی دن رات خدمت کے دوران نمودار ہوا۔ انسانی ذات کے لئے ان کے پیارنے اس نوجوان خاتون میں ڈھال دیا۔ وہ یک ایسے وقت میں جب ہر طرف چیلنج تھے۔ تونہ گبھرائی اور نہ ہی تھکن کا شکار ہوئی جیسے ہی ہندوستان سے لُٹے پُٹے مہاجروں سے بھری ٹرینیں کراچی پہنچتیں تو نصرت اصفہانی ان کی خدمت کے لئے سب سے آگے ہوتی تھیں۔ اس وقت محترمہ فاطمہ جناح نے وومن نیشنل گارڈ بنائی۔نصرت اصفہانی نیشنل گارڈ کے پلیٹ فارم سے دن رات ان مہاجرین کی خدمت میں کوشاں رہیں۔

نصرت اصفہانی وومن نیشنل گارڈ کی ایک بے غرض اور مخلص کارکن کی حیثیت سے ہندوستان سے لُٹ کر آنے والے لاکھوں مہاجرین کے لئے شروع کی گئی امدادی کارروائیوں میں تن من دھن سے حصہ لیتی رہیں۔ ان امدادی کارروائیوں کے ذریعہ ان مہاجرین کو کھانااور پناہ فراہم کرنے کا فرض بجا لایا جارہا تھا۔ اس وقت نہ صرف کراچی بلکہ سارے پاکستان میں نہ مطلوبہ وسائل تھے نہ کسی نظام کا کوئی بنیادی ڈھانچہ تھا نہ مناسب انتظامی سیٹ اپ تھا نہ ٹھہرنے کے لئے گھر تھے اورنہ ہزاروں بیمار لوگوں کے لئے علاج کا بندوبست تھا۔ سوائے اس کے کہ نصرت خانم کی طرح بے لوث عوامی خدمت گار دن رات ان پریشان حال لوگوں کی خدمت کرنے کے لئے متحرک تھے۔

اس بحرانی دور میں نصرت اصفہانی ایک قدآور شخصیت کی حیثیت میں ان لوگوں کی خدمت کے لئے ہروقت موجود تھیں۔ انہوں نے قیادت اور بے لوث خدمت کی غیر معمولی صلاحیتوں کا مظاہرہ کیا۔ اس حقیقت کو بانی پاکستان قائداعظم محمد علی جناح کی بہن محترمہ فاطمہ جناح اور پاکستان کے پہلے وزیراعظم نوابزادہ لیاقت علی خان کی بیگم رعنا لیاقت علی خان نے بھی تسلیم کیا اور اس جذبہ کی تعریف کی۔ ساتھ ہی قائداعظم محمد علی جناح کو بھی ان خدمات پر فخر تھا۔ جو نصرت خانم اور ایسی دوسری خواتین نے سرانجام دیں ان عظیم الشان خدمات کو قائداعظم نے سراہا‘‘

یہ طویل اقتباس جناب جی این مغل کی تصنیف مادرِ جمہوریت بیگم نصرت بھٹو سے لیا گیا ہے اس سے اندازہ ہوتا ہے کہ بیگم نصرت بھٹو ابتدا سے ہی انسانی اقدار کی علمبردار تھیں۔ ان کے دل میں غریب اور نادار لوگوں کے لئے بے پناہ محبت اور ہمدردی تھی۔ یہی وجہ ہے کہ خاتون اول بننے کے بعد انہوں نے وزیراعظم ہاؤس کے دروازے عام غریب لوگوں کے لئے کھول دئیے تھے اور ان کے مسائل حل کرنے میں حتی المقدور کوشش کرتی تھیں۔ ان کا سٹاف نوجوان مستعدد لڑکیوں پر مشتمل تھا۔ ان میں بطور خاص محترمہ شمع اسلم اور مس عفت اسی جذبہ سے ان کی معاونت کرتی تھیں اور یہ کارکردگی عام کارکن کی نظر میں بیگم صاحبہ کی عزت و تکریم کی صورت میں ڈھل گئی تھی۔

بیگم صاحبہ نے ہلال احمر کی چیئرمین کی حیثیت سے بھی گراں قدر خدمات انجام دیں اور مستحق افراد کو سہولتیں فراہم کیں۔ سیلاب کے دنوں میں وہ اپنی نگرانی میں اشیاء کی تقسیم کرتی تھیں۔ ان اقدامات سے انہوں نے اپنے شوہر وزیراعظم ذوالفقار علی بھٹو کی حکومت میں کلیدی کردار ادا کیا۔ مزید براں پاکستان پیپلزپارٹی شعبہ خواتین کی سربراہ کے طور پر پاکستانی خواتین کو متحرک اور فعال کرکے ان میں سماجی شعور بیدار کیا اور یوں پاکستانی خواتین میں اپنے حقوق سے آشنائی وجود میں آئی۔

جنرل ضیاء کے مارشل لاء کے بدترین دور میں بیگم صاحبہ کا بہادرانہ کردارایک شاندار باب ہے۔ انہوں نے ہر قسم کا تشدد، جبر، اذیت اور مظالم برداشت کئے، مگر حوصلہ اور ہمت نہیں ہاری جس سے پاکستان پیپلزپارٹی کے کارکنوں کی ہمت اور حوصلہ کو جلا بخشی۔ کارکنوں نے بھی زبردست مزاحمت سے تشدد برداشت کیا اور جنرل ضیاء کے مذموم عزائم کی راہ میں حائل رہے۔

یہ حقیقت ہے کہ بیگم صاحبہ غیر جمہوری قوتوں کے خلاف مزاحمت کی علامت اور عزم و استقلال کا پیکر بن کر سامنے آئیں۔ جنرل ضیاء کے بدترین اور وحشیانہ مظالم کا جرأت و بہادری سے مقابلہ کرتے ہوئے یہ اعلان کیا کہ ہم پاکستان کے لئے نسل در نسل لڑیں گے۔

جنرل ضیاء کے مارشل لاء کے طویل تاریک دور میں قید و بند کی تکالیف کی وجہ سے ان کی صحت بگڑ گئی اور کینسر جیسا موذی مرض لاحق ہوا۔ اپنے علاج کے لئے بصد مشکل انہیں ملک سے باہر جانے کی اجازت ملی۔ ورنہ جنرل ضیاء کی کوشش تھی کہ وہ اس سے جانبر نہ ہوسکیں۔ لیکن عالمی دباؤ کی وجہ سے چار و ناچار انہیں اجازت دینی پڑی۔

بیگم صاحبہ 24 نومبر 1982ء کو جرمنی کے شہر میونخ پہنچیں تھیں تو میں بیگم صاحبہ کی عیادت اور ملاقات کے لئے لندن سے وہاں گیا۔ بیگم صاحبہ کی ملاقات کا منظر تشویشناک تھا۔ ان کی صحت دیکھ کر دل سے یہ دعا نکلی کہ اللہ تعالیٰ انہیں جلد صحت یاب کرے۔

قائد عوام ذوالفقار علی بھٹو کی شہادت اور ان سالوں میں ظلم کی جو آندھی چلی تھی وہ بیگم صاحبہ کے چہرے سے عیاں تھی۔ اس کے باوجود ان کے وقار اور عظمت ان کے چہرے سے عیاں تھا۔ وہ واقعی ہمت کا پیکر تھیںیہ کہنا بجا ہوگا کہ اگر وہ جنرل ضیاء کی آمریت کے خلاف سینہ سپر نہ ہوتیں تو پاکستان پیپلزپارٹی کا مستقبل مخدوش ہوسکتا تھا۔ انہی کی دلیرانہ قیادت کی بدولت پارٹی کارکنوں میں جوش و خروش کا جذبہ موجزن ہوا اور انہوں نے آمریت کے آگے جھکنے سے انکار کردیا۔

میری ملاقات میں ان کی ہمشیرہ بہجت ہریری بھی موجود تھیں۔ بیگم صاحبہ نے خوشدلی سے کہا کہ پانچ سال بعد مل رہے ہیں اور ان پانچ سالوں کے دامن میں بہت سے دکھ اور مصائب شامل ہیں۔مجھے خوشی ہے آپ لندن میں مساوات کے ذریعہ ان ظلم و ستم کے خلاف ایک طرح سے مجاہدانہ کردار ادا کررہے ہیں۔ اور جنرل ضیاء کی بدعنوانیوں کو بے نقاب کررہے ہیں۔ میں نے مساوات ویکلی کے چند شمارے ان کی خدمت میں پیش کئے۔’’ہمارے سر کٹ سکتے ہیں جھک نہیں سکتے‘‘۔

مادرِجمہوریت کی 90 ویں سالگرہ پر ان کے لئے سب سے بڑا خراج عقیدت یہی ہے کہ انہوں نے جنرل ضیاء کی بدترین آمریت کے خلاف مجاہدانہ مزاحمت سے جمہوری جدوجہد کی نئی تاریخ رقم کی ہے۔

بانی پاکستان قائداعظم محمد علی جناح کا یہ خراج تحسین جس قوم میں نصرت خانم جیسی نوجوان خواتین موجود ہوں اس قوم کو شکست نہیں ہوسکتی۔‘‘ مادرجمہوریت نے قائداعظم کے ان الفاظ کی حُرمت کا پرچم بلند رکھا اور پاکستان کے عوام نے بالعموم اورپارٹی کارکنوں کے لئے بالخصوص یہ امر باعث افتخار ہے۔

90 ویں سالگرہ مبارک!

مزید : رائے /کالم