جتھوں کے عزائم !!!

جتھوں کے عزائم !!!
جتھوں کے عزائم !!!

  



 مولانا فضل الرحمن کی جماعت جمعیت علمائے اسلام نے 27 اکتوبرکو ”آزادی مارچ “ کا اعلان کررکھا ہے۔ مولاناکی سنسنی خیز تیاریوں میں سب سے اہم کچھ دن پہلے لانچ کی گئی ڈنڈابردارنجی ملیشیاء ” انصارالاسلام “ ہے۔ جسے کالعدم قرار دینے کا حکومتی فیصلہ ملکی مفاد میں ہے ۔ یہ تنظیم ایک ایسے وقت پر سامنے آئی تھی جب آئندہ چند روز میں بھارتی لابی نے پاکستان کو  ایف اے ٹی ایف کی گرے لسٹ سے بلیک لسٹ میں شامل کروانے کےلیے پاکستان میں عسکریت پسند گروہوں کی موجودگی کا واویلاکرناتھا مگرہم دوست ممالک کی حمایت سے بھارتی چنگل میں پھنسنے سے بچ نکلے۔

مولانا کی تیاریاں غیرمعمولی ہیں جنہیں دیکھتے ہوئے کئی سوالات جنم لیتے ہیں۔ پہلا سوال یہ کہ کیا مولانا ڈنڈابردار جتھے لاکراسلام آباد پرچڑھائی کرناچاہتے ہیں ؟؟؟ یہ کون سی شریعت اور کون سا اسلام ہے جو کہ ایک مسلم ریاست کی عملداری کو چیلنج کرنے کی اجازت دیتا ہے؟؟؟ کیا ریاست کے خلاف نجی ملیشیاء تیارکرنا بغاوت نہیں ؟؟؟ احتجاج توپرامن ہوتے ہیں نہ کہ پرتشدد !!! تو پھریہ احتجاج کی تیاری ہے یا ریاست کے خلاف بغاوت کی ؟؟؟دوسراسوال یہ ہے کہ مولانا کے احتجاج کی فنڈنگ کہاں سے ہورہی ہے؟۔ بظاہرتو مسلم لیگ ن اور پیپلزپارٹی مولانا کے احتجاجی پروگرام میں شرکت کرنے یا نہ کرنے کے حوالے سے کافی کنفیوژن کا شکار دکھائی دیتی ہیں  مگردرحقیقت ایسا ہرگز نہیں ہے ،مولانا فضل الرحمن کو مسلم لیگ ن اور پیپلزپارٹی دونوں کی درپردہ مکمل حمایت حاصل ہے ، قادیانی کمیونٹی بھی مولانا کی حمایت میں سرگرم عمل ہے،اس کے علاوہ مولانا کے ” جمعیت العلمائے ہند “ کے مولانا محمود اے مدنی سے روابط کا بھی انکشاف ہوا ہے،یہ بھارت نواز دیوبندی بھی مولانا کی پشت پناہی کررہے ہیں ۔

اس وقت مولانا فضل الرحمن اور اجیت دوال کے درمیان روابط بھی زیربحث ہیں ،مولانا بتائیں کہ وہ اجیت دوال سے کب کیوں اور کہاں ملے تھے ؟؟؟بندہ مولانا سے یہ پوچھے کہ یہ اجیت دوال کی مدد سے دین اسلام کی کون سی خدمت مقصود تھی ؟؟؟اس کا جواب ڈھونڈنا زیادہ مشکل نہیں ہے ۔ یقیناََ اجیت دوال پاکستان کے خلاف بہت گہری سازش رچا چکاہے،اگردیکھاجائے تو جیسے جیسے مولانا کے احتجاجی پروگرام کے دن قریب آرہے ہیں , اس کے آس پاس بھارتی فوج ایل او سی کی خلاف ورزیاں یک دم بڑھ گئی ہیں ۔ بھارت کا دعوی ہے کہ وہ سرحدپار عسکری پسندوں کے کیمپس کے خلاف آپریشن کررہا ہے اوروہ اپنی پہلی کاروائی میں وادی نیلم کے علاقے میں عسکریت پسندوں کے مبینہ کیمپس تباہ کرنے کا جھوٹا اور بے بنیاد دعوی کررہا ہے جسے پاکستان نے مستردکردیا ہےمگر یہ سلسلہ ختم ہونے والا نہیں ہے۔ اس بات کا قوی امکان موجود ہے کہ مولانا کے ساتھ حکومتی مذاکرات کامیاب نہیں ہوں گےبلکہ مولانا کا آزادی مارچ دھرنے میں بھی بدل سکتا ہے۔

اگر مولانا کے کارکنان اسلام آباد میں داخل ہونے میں کامیاب ہوگئے تو یقیناََ خون خرابہ ہوگا اور وفاقی دارالحکومت میں بدامنی پھیلے گی  کیونکہ مولانا کے اسلام آباد میں کنٹینر کے مقاصد ماضی کے کنٹینرز سے بالکل مختلف ہیں ،اگرمولانا اسلام آباد میں افراتفری کا عالم برپا کرنے میں کامیاب ہوگئے تو احتساب کے ستائے مسلم لیگ ن اور پیپلزپارٹی کےراہنمامولانا سےسرعام ہاتھ ملانےمیں تاخیر نہیں کریں گے۔داخلی انتشار کی یہ کیفیت بھارتی فوج کےلیےایل اوسی پرمزید دباؤ بڑھانے کےلیے آئیڈیل ہوگی ،موقع کا فائدہ اٹھا کر بھارت بڑی فوجی کاروائی کرنا چاہے گا،مولانا خود کو عالم دین کہلواتے ہیں،بھلا بتائیے کہ کیا کسی نے آج تک مولانا کاکوئی ایک بھی دینی خطاب سنا یا اصلاحی کاوش دیکھی ہو ؟مولانا مذہب کو صرف سیاسی مقاصدکے حصول کےلیے استعمال کرتے ہیں ،مذہب کے نام پرسیاست کی یہ ایک بدترین مثال ہوگی ۔کتنے افسوس کی بات ہے کہ ہمارے اپنے مذہب کے نام پرازلی دشمن بھارت کے ہاتھوں استعمال ہورہے ہیں،اگرحزب اختلاف کی جماعتوں میں ذراسی بھی حب الوطنی اور اخلاقی جرات ہوتی تو وہ اقتدار کی حوس کا شکارمولانا کی بھرپور حوصلہ شکنی کرتےمگر کتنے افسوس کی بات ہے کہ یہاں سب ذاتی سیاسی مفادات بچانے میں لگے ہیں،کسی کو این آر او چائیے تو کسی کو اقتدار میں حصہ چائیے۔

نوٹ:یہ بلاگر کا ذاتی نقطہ نظر ہے جس سے ادارے کا متفق ہونا ضروری نہیں ۔

اگرآپ بھی ڈیلی پاکستان کیساتھ بلاگ لکھنا چاہتے ہیں تو اپنی تحاریر ای میل ایڈریس ’dailypak1k@gmail.com‘ یا واٹس ایپ "03009194327" پر بھیج دیں۔

مزید : بلاگ