’بچہ پید اکرنے کی کوشش میں 16 مرتبہ میرا حمل ضائع ہوا لیکن پھر ڈاکٹروں کو میرے پیٹ میں یہ چیز نظر آگئی جسے نکالتے ہی میں نے صحت مند بچے کو کامیابی سے جنم دے دیا‘

’بچہ پید اکرنے کی کوشش میں 16 مرتبہ میرا حمل ضائع ہوا لیکن پھر ڈاکٹروں کو میرے ...
’بچہ پید اکرنے کی کوشش میں 16 مرتبہ میرا حمل ضائع ہوا لیکن پھر ڈاکٹروں کو میرے پیٹ میں یہ چیز نظر آگئی جسے نکالتے ہی میں نے صحت مند بچے کو کامیابی سے جنم دے دیا‘

  



لندن (نیوز ڈیسک) اسقاط حمل کا دکھ کسی عورت کو ایک بار بھی جھیلنا پڑے تو عمر بھر وہ اس کا درد بھلا نہیں پاتی لیکن برطانوی لڑکی کیلی ووڈ کی بدقسمتی دیکھئے کہ انہیں اس دردناک تجربے سے 16 بار گزرنا پڑا۔ کیلی کے صبر اور ثابت قدمی کو بھی سراہنا پڑے گا کہ اس کے باوجود انہوں نے ہمت نہیں ہاری اور اولاد کیلئے پرامید رہیں۔ بالآخر قدرت نے ان کی آزمائش ختم کی اور گزشتہ سال اکتوبر میں ان کے ہاں ایک خوبصورت بیٹے کی پیدائش ہوئی۔

میل آن لائن کی رپورٹ کے مطابق کیمبرج شائر سے تعلق رکھنے والی 26 سالہ کیلی کا کہنا ہے کہ وہ پہلی بار 16 سال کی عمر میں حاملہ ہوئیں لیکن ان کا یہ حمل ضائع ہوگیا۔ اس کے بعد اگلے 10 سال کے دوران وہ بار بار حاملہ ہوئیں لیکن ہر بار نتیجہ اسقاط حمل کی صورت میں نکلا۔ وہ کہتی ہیں کہ جب 15ویں بار ان کا اسقاط حمل ہوا تو ان کی امید دم توڑنے لگی اور وہ سوچنے لگیں کہ شاید عمر بھر اولاد کی نعمت سے محروم رہیں گی۔ خوش قسمتی سے انہی دنوں ڈاکٹروں نے ان کے سنگین مسئلے کی اصل وجہ کا پتہ چلالیا۔ دراصل یہ اندرون رحم زخم تھے جن کی وجہ سے ان کا حمل برقرار نہیں رہتا تھا اور ہر ممکن احتیاط کے باوجود انہیں مایوسی کا سامنا کرنا پڑتا تھا۔ ڈاکٹروں نے فوری طورپر ان کے اندرونی زخموں کا علاج شروع کر دیا۔ زخم مندمل ہوتے ہی وہ 17ویں بار حاملہ ہوئیں اور حمل کی مدت بخیر و عافیت مکمل ہونے پر ان کے ہاں بیٹے نے جنم لیا، جس کا نام ریگی رکھا گیا ہے۔

پراسرار فون کال، پولیس والوں نے موقع پر پہنچ کر گھر کی تلاشی لی تو کموڈ سے نکلی ٹانگیں نظر آگئیں، اندر کون تھا اور یہ حالت کیسے ہوگئی؟ حقیقت دیکھ کر تمام پولیس اہلکار بھی کانپ اُٹھے

کیلی نے اپنی زندگی میں آنے والی انمول خوشی کے بارے اظہار خیال کرتے ہوئے کہا ”مجھے اولاد کی تمنا تھی اور میں اپنے بچوں کے پے در پے ضائع ہونے پر بہت رویا کرتی تھی لیکن جب بالآخر ریگی میری بانہوں میں آیا تو میرے سب غم ختم ہوگئے۔ یہ میری زندگی کا شاندار ترین لمحہ تھا اور اس نے گزشتہ 10 سال کی تمام تکلیفیں بھلادیں۔ میں رائل لندن ہسپتال کے ڈاکٹروں کی بھی شکر گزار ہوں جنہوں نے پتہ چلایا کہ میرے مسائل کی اصل وجہ اندرونی زخم تھے۔ یہ تو معلوم نہیں ہوسکا کہ یہ زخم کیوں بنے تھے لیکن بہرحال ڈاکٹروں نے انہیں ٹھیک کردیا۔ اس کے بعد بھی مجھے خدشات لاحق تھے لیکن قدرت نے میری مدد کی اور اس بار سب کچھ بخیر و عافیت ہوا۔ آخر میں ’ایمنی اوٹک فلوئیڈ‘ کا مسئلہ ضرور لاحق ہوا لیکن شکر ہے کہ ایمرجنسی آپریشن کے ذریعے میرے بچے کی پیدائش بحفاظت ہوگئی۔ وہ لمحہ جب میں نے اسے اپنی بانہوں میں تھاما ناقابل یقین تھا۔ میں خود کو بے حد خوش قسمت محسوس کرتی ہوں۔ میرا بیٹا بہت خوش مزاج ہے اور ہر وقت مسکراتا رہتا ہے۔ اس نے میری زندگی مکمل کردی ہے۔“

مزید : ڈیلی بائیٹس