جنات کے چنگل میں پھنسے خاندان کی کہانی۔ ۔ ۔ قسط نمبر68

جنات کے چنگل میں پھنسے خاندان کی کہانی۔ ۔ ۔ قسط نمبر68
جنات کے چنگل میں پھنسے خاندان کی کہانی۔ ۔ ۔ قسط نمبر68

  

وکیل مخالف نے اپنی فیس حلال کرنے کی خاطر کچھ گواہان سے سوالات کئے بلکہ کافی بحث بھی کی لیکن کسی بھی طرح انہیں اپنے پہلے بیان سے نہ ہٹا سکا۔ جج کی ہمدردی میری حالت دیکھ کر ہی مجھے سے ہوگئی تھی۔ اس پرجب گواہان بھی مکرگئے تو اس نے خشمگیں نظروں سے دونوں، آن ڈیوٹی اور ریٹائر ڈی ایس پیز کو دیکھا۔ سب سے آخرمیں میرے وکیل نے سبین کو کٹہرے میں بلانے کی اجازت چاہی جس پر جج صاحب نے سبین کے وکیل کی طرف دیکھا اس نے کوئی اعتراض نہ کیا۔ سبین کو بلایا گیا۔ جب وہ کٹہرے میں آئی تو اس کا چہرہ ترو تازہ گلاب کی طرح کھلاہوا تھا۔ کسی طور وہ ایسی لڑکی نہ دکھائی دے رہی تھی جس کے ساتھ ایک روز قبل ایسا اندوہناک سانحہ گزارا ہوا۔ یہ بھی کالی داس کی جادوئی قوت کا کرشمہ تھا۔ جج صاحب کی آنکھوں میں حیرت تھی۔ کٹہرے میں آنے کے بعد میرا وکیل اس کے سامنے پہنچ گیا۔

’’آپ کا نام؟‘‘

’’جی میرا نام سبین امجد ہے امجدمیرے والد ہیں‘‘ اس نے واضح کیا۔

’’کٹہرے میں کھڑے صاحب کو آپ جانتی ہیں؟‘‘ وکیل نے میری طرف اشارہ کیا۔

جنات کے چنگل میں پھنسے خاندان کی کہانی۔ ۔ ۔ قسط نمبر67 پڑھنے کیلئے یہاں کلک کریں

’’جی ہاں جناب! یہ فاروق صاحب ہیں میرے باس‘‘ اس نے بڑے اطمینان سے جواب دیا۔ جج بڑی گہری نظروں سے سبین کی طرف دیکھ رہاتھا۔

’’کیاآپ عدالت کو بتانا پسندکریں گی کل آپ کے ساتھ کیا واقعہ پیش آیا تھا؟‘‘ وکیل نے اس کے چہرے پر نظر جما کر سوال کیا۔

ضرور پڑھیں: بے ادب بے مراد

’’ڈی ایس پی جمال قریشی میرے منہ بولے بھائی ہیں اور میرے ابوکے شاگرد بھی ۔ ان کا ہمارے گھر آناجانا ہے۔ تین چار دن پہلے شام کے وقت آئے اور کہنے لگے مجھے کچھ شاپنگ کرنا ہے میرے ساتھ بازار چلو‘‘ اس نے ایک نظر جمال قریشی پر ڈالی جو الجھی ہوئی نظروں سے اس کی طرف دیکھا رہا تھا پھر سلسلہ کلام جوڑا۔

’’میں ان کے ساتھ گاڑی میں بیٹھ کر بازار چلی گئی۔ انہوں نے کچھ شاپنگ اپنے لئے کی۔ ایک دو چھوٹی چھوٹی چیزیں مجھے لے کر دیں ۔اس کے بعد ہم ایک ہوٹل میں کھانا کھانے چلے گئے ۔ کھانے کے بعد انہوں نے مجھ سے کہا۔ میرا ریٹائرڈ ڈی ایس پی عمر حیات ایک بنگلہ خریدنا چاہتا ہے لیکن اس میں تمہارے باس فاروق خان رہائش پذیر ہیں۔ہم نے ان سے کئی بار درخواست کی ہے کہ اگر آپ کوئی دوسرا مکان تلاش کرلیں تو پروفیسرصاحب یہ بنگلہ ہمیں فروخت کرنے پر تیار ہیں لیکن وہ نہیں مانتے۔ اگر تم ہماری مدد کرو تویہ مسئلہ حل ہو سکتا ہے۔ میں نے کہا بھائی ! اس سلسلے میں میں آپ کی کیا ہیلپ کر سکتی ہوں؟ اس پر یہ کہنے لگے اگر تم ان سے کہو تو وہ ضرور مان جائیں گے۔ میں نے کہا یہ مناسب بات نہیں۔ ابھی مجھے بینک آئے دو روز ہوئے ہیں پھر میں کیسے ان سے یہ بات کہہ سکتی ہوں؟انہوں نے کہا اگر تمہارے کہنے پر بھی وہ نہ مانے تو میں اپنے دوست کو سمجھا لوں گا۔ میں نے کہا ٹھیک ہے ۔میں کل ان سے بات کرلوں گی۔ کہنے لگے کل ہم ان کے گھر چلے جائیں گے وہاں بیٹھ کراطمینان سے بات ہو جائے گی۔ مجھے حیرت تو ہوئی لیکن میں نے زیادہ بحث نہ کی۔ کل دوپہرکے قریب انہوں نے مجھے فون کیا کہ میں تھوڑی دیر کے لئے چھٹی لے کر آجاؤں۔ جب میں گھرپہنچی تو یہ ابو کے پاس بیٹھے تھے۔ مجھے دیکھتے ہی کہنے لگے چلوتمہارے افسر کے گھر چلیں۔ میں نے کہا لیکن وہ تو اس وقت ڈیوٹی پر ہیں۔ کہنے لگے تھوڑی دیر پہلے وہ گھر چلے گئے ہیں۔ میں ان کیساتھ چل پڑی پہلے ہم ان صاحب کے گھر گئے۔ ‘‘ سبین نے عمر حیات کی طرف اشارہ کیا جو حیرت سے منہ کھولے سن رہا تھا

’’ان کے ساتھ جو صاحب بیٹھے ہیں یہ بھی وہاں موجود تھے‘‘ اس بار سبین نے ساجدکی طرف اشارہ کیا۔

’’مجھ سے کہنے لگے تم فاروق سے بات کرنا کہ وہ یہ بنگلہ خالی کر دیں تاکہ ہم اسے خرید سکیں۔ مجھے ان کی بات کی سمجھ تونہ آئی لیکن جمال بھائی پر چونکہ مجھے اندھا اعتماد تھا اس لئے میں نے حامی بھر لی۔ ہم سب فاروق صاحب کے گھر پہنچے توانہوں نے کہا تم جاکربات کروہو سکتا ہے ہمیں دیکھ کر وہ نہ مانیں‘‘ اسنے ایک بارپھر عمر حیات کی طرف اشارہ کیا۔

’’دودنوں کی سروس میں میں نے سر فاروق کو اچھا اور سلجھا ہوا شخص پایاتھا اس لئے بے دھڑک اندر چلی گئی اسکے علاوہ مجھے یہ بھی معلوم نہ تھا کہ اس وقت گھرمیں تنہا ہیں۔ سر فاروق نے مجھے حیرت سے دیکھا؟ میں ابھی انہیں بتانے ہی لگی تھی کہ میں کس مقصد کے تحت آئی ہوں کہ اچانک جمال بھائی اور یہ دونوں (اسنے عمر حیات اور ساجد کی طرف اشارہ کیا) چند اور افرادکے ساتھ اندر آگئے۔ آتے ہی انہوں نے سر فاروق کو مارنا شروع کردیا اور اس درندے نے‘‘ اس نے ڈی ایس پی جمال قریشی کی طرف اشارہ کیا اسکی آواز بھرا گئی۔ کمرہ عدالت میں گہری خاموشی چھائی ہوئی تھی۔ سبین کی سسکیاں تیز ہوگئیں کچھ دیر بعد اسنے آنسوصاف کیے۔

’’جناب! اس درندے نے مجھے دوسرے کمرے میں لے جاکرمیری عزت لوٹ لی۔ ایک بھائی نے بہن کی عزت کو تارتار کر دیا۔‘‘ ایک بارپھر اسکی آواز رندھ گئی۔

’’میں نے منتیں کیں واسطے دیے لیکن یہ جانوربن چکاتھا‘‘ دونوں ڈی ایس پیز کے ساتھ ساجدبھی حواس باختہ نظر آرہا تھا۔ اتنا حیران وہ زندگی میں کبھی نہ ہوئے ہوں گے جتنے اس وقت نظر آرہے تھے۔

’’سبین! یہ کیا کہہ رہی ہو تم؟‘‘ جمال قریشی نے چیخ اٹھا۔ جج جو سبین کی باتوں سے آبدیدہ نظر آرہا تھا اسنے قہربارنظروں سے جمال قریشی کی طرف دیکھا اور انسپکٹر عادل کو حکم دیا کہ اسے گرفتار کرلے۔ جمال قریشی بری طرح بوکھلاگیا۔

’’سس۔۔۔سر۔۔۔یور آنر! یہ لڑکی جھوٹ بول رہی ہے‘‘ وہ گڑ بڑا کرچیخا۔

’’شٹ اپ۔۔۔تم نے اپنے مطلب کے لیے ایک شریف لڑکی کو استعمال کرکے معاشرے کے ایک باعزت فرد پرگھناؤنا الزام لگایا ۔ اس کے گھر میں گھس کر اسے زدوکوب کیا اور سب سے اہم بات یہ کہ تم نے ایک شریف لڑکی کی عزت لوٹی۔ ان الزامات کے تحت میں تمہاری گرفتاری کا حکم دیتاہوں۔‘‘ انسپکٹر عادل نے سپاہیوں کو حکم دیا ۔انہوں نے جلدی سے آگے بڑھ کر جمال قریشی کو گرفتارکرلیا۔ اسکا حشر دیکھتے ہوئے عمر حیات اور ساجد نے کھسکنے کی کوشش کی جس پر انہیں بھی گرفتار کرلیا گیا۔ تھوڑی دیر ہنگامہ رہا پھر جج صاحب کے کہنے پر لوگ پرسکون ہوگئے۔ دبی دبی سرگوشیاں اب بھی ہو رہی تھیں۔ سبین اطمینان سے کٹہرے میں کھڑی تھی۔ اس کے چہرے پر سکون تھا۔

کالی داس واقعی زبردست قوتوں کا مالک تھا۔ اس نے سارا معاملہ ایسے سلجھا دیا تھا کہ حیرت سے میری اپنی عقل گم تھی۔ ایک دوبارہ میرے ضمیر نے مجھے ملامت کیا کہ میں نے بے گناہ لوگوں کو پھنسا دیا اور خود بری ذمہ ہوگیا۔ لیکن یہ موقع ضمیر کی آواز پر کان دھرنے کانہ تھا۔ مجھے باعزت بری کردیاگیا۔ (جاری ہے )

جنات کے چنگل میں پھنسے خاندان کی کہانی۔ ۔ ۔ قسط نمبر69 پڑھنے کیلئے یہاں کلک کریں

مزید : رادھا