پاکستان پر چینی کرنسی کے اثرات کیا ہوں گے ؟

پاکستان پر چینی کرنسی کے اثرات کیا ہوں گے ؟
پاکستان پر چینی کرنسی کے اثرات کیا ہوں گے ؟

  

چینی کرنسی کو اکتوبر2016 میں عالمی مالیاتی فنڈ نے عالمی کرنسی باسکٹ میں شامل کیا تھا یہ باسکٹ1969 ء میں ترتیب دی گئی تھی جس کا مقصد عالمی کساد بازاری کی صورتحال میں ایسی مدد فراہم کرنا ہے جو معاشی بہاؤ میں فنڈز کی کمی پر قابو پا سکے۔عالمی مالیاتی فنڈ ہر پانچ سال بعد تمام ممالک کی کرنسیوں کا جائزہ لیتا ہے اور اگر کسی کرنسی کو شامل کرنا ہو تو اس پر فیصلہ لیا جاتا ہے ۔اس فنڈ کا حجم 209 ارب ڈالر ہے ۔جس میں امریکہ کا حصہ41 فیصد ،یورو کا حصہ 31فیصد ، جاپان کا حصہ 9 فیصد جبکہ برطانیہ کا حصہ 8 فیصد ہے اب چین کا حصہ 11 فیصد رکھا گیا ہے۔چین کی کرنسی یوان ہے جو دنیا میں سب سے زیادہ عالمی ادائیگی میں استعمال ہونے والی پانچویں کرنسی بن چکی ہے۔یوآن دوسری بڑی تجارتی کرنسی بن چکی ہے۔عالمی مارکیٹ میں کرنسی کا سب سے زیادہ لین دین ڈالر کے بعدیوآن میں ہوتا ہے۔کرنسی کے تبادلہ کے معاہدات 30ممالک سے کئے جا چکے ہیں جن کی مالیت 25کھرب یوآن ہے۔

گوادر جہاں صرف چینی کرنسی کے استعمال کا مطالبہ چین کی طرف سے آیا تھا اسے کچھ تحقیق کے زمرے میں لائے بغیر تھوڑے سے لیت و لعل کے بعد منظور کر نے کا عندیہ دے دیا گیاہے ۔جو کہ عجلت میں کیا ہوا فیصلہ محسوس ہوتا ہے۔ پاکستان چینی کرنسی کو پہلے ہی ملک کی تجارتی کرنسیوں میں شامل کر چکاہے ۔چین پاکستان کا عظیم دوست ملک ہے جس کی دوستی پر پاکستان کو ہمیشہ ناز رہا ہے اور چین نے بھی کئی موقعوں پا کستان کا بہت ساتھ دیا ہے لیکن ایک ہی ملک میں دو متوازی کرنسیوں کا مطلب ہے کہ مضبوط کرنسی کمزور کرنسی کو تکنیکی طور پر زیر کر لے گی اور لوگ یقیناً مضبوط کرنسی کی طرف ہی رجوع کریں گے۔پاکستانی کرنسی پہلے ہی اپنی قدر بہت کم کر بیٹھی ہے اور پاکستانی روپے دن بدن بہت کمزور پوزیشن پر کھڑا ہے۔اگلے سال میں ادائیگیوں کا بوجھ مزید بڑھ جائے گا جس کے باعث غیر ملکی زرمبادلہ درکار ہو گا اور ادائیگیوں کا بحران پیدا ہونے کا اندیشہ ہے۔

لائیو ٹی وی پروگرامز، اپنی پسند کے ٹی وی چینل کی نشریات ابھی لائیو دیکھنے کے لیے یہاں کلک کریں۔

اس میں کچھ شک نہیں کہ پاکستان کی 81 فیصد امپورٹ چین سے ہوتی ہے جو 2015/16 میں تقریباً 14ارب ڈالر تھی .پاکستان کا توازن ادائیگی چین سے خراب ہی رہتا ہے کیونکہ پاکستان سے چین کے لئے ایکسپورٹ کی سطح کم ہے۔ پاکستان نے چینی کرنسی کے ساتھ تبادلہ کے معاہدہ سے 2013ء میں اپنی ادائیگیوں کو بہت بہتر بھی بنایا تھا، ایسی ہی مدد ارجنٹائن بھی چین سے لے چکاہے۔پاکستان کو اپنے تجارتی خسارہ کو پورا کرنے کے لیے کافی تگ و دو کرنا پڑتی ہے۔اس وقت پاکستان کو سی پیک منصوبے سے ہی زیادہ امید ہے ،تاکہ ملک میں تجارت میں اضافہ ہو لیکن بعض ماہر اقتصادیات کا خیال ہے کہ اس سے ملک ایک تجارتی منڈی بن جائے گا اور ملکی صنعت مزید کمزور ہو جائے گی۔ایسی ہی صورتحال کرنسی کی بھی ہے اگر پاکستان یوآن کرنسی کو باہمی ادائیگی تک رکھے تو بہت بہتر ہوگا ورگرنہ پاکستانی روپیہ غیر اہم ہو کر رہ جائے گا۔

پاکستان کی معیشت اس وقت کافی دباؤ کا شکار ہے ایک طرف ا?ئی ایم ایف کے قرضوں کا دباو ہے تو دوسری طرف ملکی کاروباری حالات کافی خراب نظر ا?رہے ہیں ۔عالمی معاشی قوتیں بھی کرنسی کے اس سلسلے میں شامل نظر ا?تی ہیں کیونکہ امریکہ پہلے ہی چین کو دبانے کی کوشش میں ہے چین نے برکس کانفرنس میں بھی ممبر ممالک کی کرنسی کا خیال پیش کیا تھا جسے انڈیا نے مسترد کر دیا تھا روس بھی عالمی سطح پر ڈالر کے بے جا استعمال پر بہت تنقید کی تھی ۔پاکستان کو بھی ڈالر کے اثر سے نکلنا چاہیے اور یوا?ن جیسی مضبوط کرنسی ہی اس سلسلے میں مددگار ثابت ہو سکتی ہے لیکن اس کرنسی کا ملکی کرنسی کے ساتھ ساتھ چلنا مناسب نہیں ۔

۔

نوٹ: روزنامہ پاکستان میں شائع ہونے والے بلاگز لکھاری کا ذاتی نقطہ نظر ہیں۔ادارے کا متفق ہونا ضروری نہیں۔

مزید :

بلاگ -