انسانی سمگلنگ ۔۔۔ خوفناک حقائق ... قسط نمبر 67

انسانی سمگلنگ ۔۔۔ خوفناک حقائق ... قسط نمبر 67
انسانی سمگلنگ ۔۔۔ خوفناک حقائق ... قسط نمبر 67

  

کونسل آف یورپ

3 مئی 2005ء کو کمیٹی آف منسٹر ز نے انسانی سمگلنگ کے خلاف کاروئی کے لیے’’ کونسل آف یورپ کنونشن ‘‘کی تشکیل کی ۔ اس کنونشن پر دستخط کرنے کے لیے 16 مئی 2005ء کا دن مقر ر کیا گیا جو کو نسل آف یورپ کے ریاستی اور حکومتی سر براہو ں کی تیسری ، سمٹ ، کا موقع تھا ۔ 24 اکتوبر 2007ء کو کنونشن نے اپنی 10ویں منظوری حاصل کی اور اسے یکم فرور ی 2008ء کو نا فذ کر دیا گیا ۔ اس کنونشن میں یورپی کونسل کے 34 ممالک باقاعدہ ارکان بن چکے ہیں جبکہ 9ممالک ایسے ہیں جنہوں نے دستخط تو کردئیے ہیں لیکن اس کی تصدیق نہیں کی ۔ اس حوالے سے دیگر بین الاقوامی عوامل تو پہلے ہی سے ’کونسل آف یورپ کنونشن ‘کے پاس تھے جس میں ملکی قانون اور بین الاقوامی حمایت شا مل ہے لیکن یہ اس نوعیت کا پہلا یورپی معاہدہ تھا جس میں سمگل شدہ افراد کے تحفظ پر خاص طو رپر توجہ مر کوز کی گئی ۔ اس معاہدہ میں سمگلنگ کو روکنے اور سمگلرز کے خلاف کارروائی کرنے پر بھی زور دیا گیا ۔مزید یہ کہ اس کنونشن کے ذریعے ایک خود مختار اور مو ثرمانیٹرنگ نظام العمل بھی تشکیل دیا گیا جس سے کنونشن میں مذکورذمہ داریوں اور فرائض کو پورا کرنے کے عمل کی نگرانی کی جاسکتی ہو۔ اس کنونشن میں کونسل آف یورپ کے رکن ممالک ، اس کے رکن نہ ہونے والے ممالک اور یورپی یونین کے فریق بننے میں کوئی رکاوٹ نہیں ہے۔

انسانی سمگلنگ ۔۔۔ خوفناک حقائق ... قسط نمبر 66 پڑھنے کیلئے یہاں کلک کریں

کنونشن نے انسانی سمگلنگ کے خلاف کارروائی کرنے کے لیے ماہرین کا ایک گروپ قائم کیا جو ملکی رپورٹس کی روشنی میں اس کے فیصلوں کے نفاذ کی نگرانی کرتا ہے۔ اس نے 1مارچ 2012 ء کو 9 ممالک کی رپورٹس شائع کرکے ثابت کیاکہ کنونشن میں مذکور تمام شقوں پر باقاعدگی سے عمل ہورہا ہے ۔ بچوں کو جنسی بد سلوکی اور جنسی استحصال سے محفوظ رکھنے کے لیے کونسل آف یورپ کنونشن کے ذریعے یقینی بنایا گیا ۔ سٹراسبرگ میں کونسل آف یورپ کی انسانی حقوق کی یورپین عدالت نے انسانی سمگلنگ کے مقدمات میں فیصلے دیے جو اس کنونشن کے تحت انسانی حقوق کے زمرے میں آتے تھے ۔ان مقدمات میں 26جولائی 2005ء کا صلادین بنام فرانس اور 7جنوری 2010ء کا راستیوبنام سائپرس اورروس قابل ذکر ہیں ۔

پروٹوکول کنونشن 2000ء جس کا پہلے ذکر کیا گیا ہے میں ہر ملک کو اس جرم کی زیادہ سے زیادہ مقرر کرنے پر زور دیا گیا ۔ اس کے کچھ رکن ممالک نے انسانی سمگلنگ کے متعلقہ قوانین میں ترمیم کرکے ان کو نافذ کردیا ، اقوام متحدہ ، امریکہ ، یورپی یونین ، کونسل آف یورپ اور دیگر براعظموں اور ممالک نے اپنے طور پر قوانین کی تجدید کی اور اس جرم پر قابو پانے کے لیے بین الاقوامی اداروں کو یقین دہانی کرادی ۔ ان کوششوں کے باوجود انسانی سمگلنگ کا جرم رکا نہیں ۔ کچھ دانشوروں اور صحافیوں نے انسانی سمگلنگ کے پر چار اور اس کے خلاف کی جانے والی کاروائیوں، دونوں پر سخت تنقید کی ہے۔ انہوں نے اس ایشو کے تین اہم نکات کو اپنی تنقید کا نشانہ بنایاہے ۔ i) ( اس مسئلہ کے متعلق پائے جانے والے اعداد و شمار اور حقائق (ii)اس کے تصور (iii) اس پر قابو پانے کے لیے اٹھائے گئے اقدامات ۔ اعدادو شمار کے متعلق اپنی رائے کا اظہار کرتے ہوئے ان کا کہنا ہے کہ بہت سی غیر سرکاری تنظیمیں اور حکومتی ادارے انسانی سمگلنگ کے حقیقی شکار ہونے والے افراد کی تعداد کے متعلق اندازو ں پر مبنی رپورٹس شائع کرتے ہیں ۔ ناقدین کا موقف ہے کہ ایسے اعدادو شمار جمع کرنے کے ذرئع کے قابل اعتبار ہونے یا شفاف طریقہ کا ر اپنائے جانے کے متعلق و ثوق سے کچھ نہیں کہا جاسکتا۔ سروے اور تجزیاتی رپورٹس کی زیادہ تعداد محض اندازوں پر مبنی ہوتی ہے ۔ علاوہ ازیں قابل یقین اعدادوشمار کا حاصل کرنا ہی نا ممکن ہے اور یہ اسی حقیقت کا نتیجہ ہے کہ مبینہ طو ر پر غیر قانونی اور خفیہ سرگرمیا ں اس کمزور معیشت میں رونما ہو رہی ہیں ۔ انسانی سمگلنگ کے تصور پر رائے زنی کرتے ہوئے ان دانشوروں کے ایک حصے کا کا کہنا ہے کہ ’’اس اصطلاح کا پیش کردہ تصور ہی بنیا دی طور پر گمراہ کن اور مضحکہ خیز ہے۔ ‘‘اس پر رائے دی جا چکی ہے کہ انسانی سمگلنگ کا جُر م ہمہ گیر ہے ۔ جبکہ حقیقت میں یہ ایک غیر قانونی تر ک وطن کا عمل ہے جس میں مختلف عوامل ملوث ہوتے ہیں ۔ ممکن ہے ان میں کچھ افعال بے ہودہ ہوں یا جرم کے زمرے میں آتے ہوں ۔ لیکن متعدد واقعات میں سمگل ہونے والوں کی مرضی شامل ہوتی ہے اور وہ قانون کے مطابق ہوتے ہیں ۔ لاورا آگسٹن کا کہنا ہے کہ اس عمل میں جو چیز بے ہودہ یا جبراًوقوع پذیر ہوتی ہے ضروری نہیں کہ ترک وطن کرنے والے کا اسے یونہی اداکرنے کا ارادہ ہو۔ وہ مثال کے ذریعے اسے یوں بیان کرتی ہے کہ عام طور پر دیکھا گیا ہے کہ مسافرثالثوں سے مدد کا تقا ضا کرتے ہیں ۔جو اطلاعات ،معلوما ت ، خدمات اور دستاویزات فرو خت کرتے ہیں ۔ جب مسافر ان چیزوں کو خریدنے کی استطاعت نہیں رکھتے تو ان کو مجبوراًقرض لینا پڑ تا ہے۔ ایک دانشور کا کہنا ہے کہ ایسے قر ضہ جات جب مشکل صورت حال اختیا ر کرلیتے ہیں تو اس کا نتیجہ خطرے کی صورت میں نکلتا ہے۔ انسانی سمگلنگ کے متعلق پائے جانے والے موجودہ خیالات پر تنقید کرنے والو ں کا مزید کہنا ہے کہ تشدد اور استحصال جس کا سامنا غیر قانونی تارکین وطن کو کرنا پڑتا ہے دراصل ان غیر قانونی ترک وطن کے عمل سے جڑاہوتا ہے نہ کہ سمگلنگ کے غیر قانونی نیٹ ورکس اس کا سبب بنتے ہیں ۔ تارا کارمک کے مطابق ، انسانی سمگلنگ کے متعلق تما م بحث اور پروپیگنڈہ کا مطلب تار کین وطن کے مفادات کو تقو یت دینا ہے کیونکہ یہ ان کو کسی اور ادارے کو تسلیم نہ کرنے یا ترک وطن کے بحث و مبا حثے کو سیا سی رنگ دینے سے روکتا ہے۔ انسداد انسانی سمگلنگ کے لیے کیے گئے اقدامات کو موردالزام ٹھر اتے ہوئے ان کے متعلق نا قدین کامو قف ہے کہ ایمنسٹی انٹر نیشنل کی طرح کے ادارے اس جرم کی روک تھا م کیلیے ناکافی یاغیر موثر سرکاری اقدامات کے حوالے سے مشکل کا سامنا کرتے ہیں ۔ ان کا کہنا ہے کہ انسانی سمگلنگ کے مسئلہ کو سمجھنے کا فقدان، اس کے شکار افراد کی شناخت کا کمزور نظام اور انسداد سمگلنگ کے اہم عوامل کے حصول کے لیے ذرائع کا نہ ہونا (جس میں شناخت ، حفاظت ، روک تھام اور عدالتی کا روائی شامل ہے) اس میں بڑی رکاوٹ ہیں ۔ مثلاًایمنسٹی انٹر نیشنل ، بر طانوی حکومت کی طرف سے انسداد سمگلنگ کے نئے اقدامات کو غیر موزوں قرار دے چکی ہے۔ تنقید کرنے والوں نے اس طرح کی سینکڑ وں مثالیں دیکر ان بین الاقوامی کو ششوں کو مسترد کردیا جواس جرم کی روک تھام کے لیے گذشتہ ڈیڑھ عشرے سے عالمی سطح پر متفقہ طور پر کی جا رہی ہیں ۔ لاورا آگٹسن نے اس مسئلہ کو سلجھاتے ہوئے بیان کیا ہے کہ کچھ واقعات میں ’’اینٹی سمگلر ز‘‘ان تارکین کو ،جو یہ جانتے ہوئے کہ وہ جسم فروشی کریں گے سرحد عبور کرنے کا سوچ سمجھ کر فیصلہ کرتے ہیں، بھی سمگلنگ کے شکار افراد کا درجہ دیتے ہیں ۔ ایسے افراد اپنے آپ کو سمگلنگ کا شکار تصو ر نہیں کرتے ہیں ۔ ا یسی مثالیں بھی موجود ہیں کہ جن میں مبینہ متاثر ہ فرد نے سر کای یا غیر سرکار ی تحفظ قبول کرنے سے انکار کر دیا یا وہ انسداد سمگلنگ کے مراکز سے فرار ہوگئے ۔ ایسے افراد کو اس جرم کا شکار قرار نہیں دیا جاسکتا۔(جاری ہے )

انسانی سمگلنگ ۔۔۔ خوفناک حقائق ... آخری قسط  پڑھنے کیلئے یہاں کلک کریں

مزید : کتابیں /انسانی سمگلنگ