اکیسویں صدی کے دو اہم ترین واقعات

اکیسویں صدی کے دو اہم ترین واقعات
اکیسویں صدی کے دو اہم ترین واقعات

  

اکیسویں صدی انتہائی سرعت سے گذر رہی ہے اور اب اپنی تیسری دہائی میں داخل ہوچکی ہے، دنیا کی تاریخ میں اکیسویں صدی یقیناً انتہائی اہمیت کی حامل ھے، اس صدی میں دنیا کی تیز رفتاری اپنی مثال آپ ہے جبکہ ٹیکنالوجی کے میدان میں دنیا کی ترقی بامِ عروج پر ھے. 

اکیسویں صدی کی ابتداء انتہائی دھوم دھڑکے سے ہوئی تھی، دنیا میں امن و امان اور سلامتی کی دعائیں بھی کی گئیں تھیں لیکن کسے معلوم تھا کہ اکیسویں صدی کی دنیا اپنی جدت کے ساتھ ساتھ خطرات سے بھرپور ہوگی. اس صدی کی گزشتہ دو دہائیوں میں دو انتہائی قابلِ ذکر واقعات رونما ہوئے. 

*9/11، پہلا اہم واقعہ اکیسویں صدی کی پہلی دہائی میں رونما ہوا*

اکیسویں صدی کی پہلی دہائی کے شروع ہی میں امریکہ میں سن 2001 میں رونما ہونیوالا نائن ایلیون 9/11 کا واقعہ تھا جب امریکہ پر چار مسافر بردار طیاروں کے ذریعے خودکش حملے کئے گئے جس کے نتیجے میں ہزاروں افراد لقمہ اجل بن گئے، امریکہ نے اس کا ذمہ دار القاعدہ کوٹھہرایا اور اپنے اتحادیوں کے ہمراہ جواباً دہشت گردی کے خلاف جنگ وار آن ٹیررازم کی ابتداء کرتے ہوئے القاعدہ کے ساتھ ساتھ القاعدہ کو پناہ دینے کے الزام میں طالبان کے زیرِ اقتدار افغانستان پر حملہ کردیا جس کے نتیجے میں لاکھوں افراد اس جنگ کی نذر ہوگئے. 

*طالبان کی پسپائی اور شمالی اتحاد کی حکمرانی*

افغانستان میں امریکہ اور اس کے اتحادیوں کی جانب سے جنگی آپریشن کی ابتداء میں ہی افغانستان پر حکمرانی کرنے والے طالبان پسپا ہوگئے اور افغانستان کی حکومت امریکہ اور اس کے اتحادیوں کے من پسند شمالی اتحاد کو مل گئی. 

*امریکہ کی کامیابی*

امریکہ کو ایک طویل عرصے بعد دہشت گردی کے خلاف جنگ میں القاعدہ کا تعاقب کرتے ہوئے اہم کامیابی اس وقت ملی جب 2011 میں پاکستان کے شہر ایبٹ آباد میں امریکہ نے ایک کاروائی کرتے ہوئے القاعدہ کے سربراہ اور نائن ایلیون کے مرکزی مطلوبہ ملزم اسامہ بن لادن کو ایک کمانڈو آپریشن میں ہلاک کر دیا. 

*افغانستان میں 20 سالہ جنگی آپریشن کا خاتمہ، امریکہ کی شکست نہیں*

حال ہی میں امریکہ نے افغانستان میں جاری 20 سالہ جنگی آپریشن ختم کرنے کا باقاعدہ اعلان کیا اور اب اس کی افواج امریکہ سے رخصت ہو رہی ہیں، امریکہ اور اس کے اتحادیوں کی جانب سے جنگی آپریشن کے خاتمے کو کئی ماہرین اسے امریکہ کی شکست قرار دے رہے ہیں لیکن ایسا ہرگز نہیں ہے کیونکہ امریکہ افغانستان پر حملہ آور ہوا، افغان حکومت کو تہس نہس کر ڈالا، افغانستان میں اپنی مرضی کی حکومت قائم کی اور پھر دو دہائیوں بعد اپنی مرضی سے وہاں سے رخصت ہوا. 

اس تناظر میں امریکہ کے افغانستان میں جنگی آپریشن کے خاتمے کو امریکہ کی شکست قرار دینا درست نہیں بلکہ مذکورہ ماہرین کو غور کرنا چاہئے کہ بدلتے وقت اور اس کے تقاضوں کے ساتھ امریکہ کے سامنے اب نئے اھداف ہیں.

*طالبان افسانہ نہیں حقیقت ہیں*

افغانستان میں موجود افغان طالبان کوئی افسانہ نہیں بلکہ حقیقت ہیں اور افغانستان کے مختلف متحارب گروپوں کی طرح وہ اپنی الگ شناخت رکھتے ہیں لیکن مختلف افغان متحارب گروپوں کی نسبت طالبان کو یہ فوقیت حاصل رہی ہے کہ وہ افغانستان میں روس کے انخلاء کے کئی سال بعد تک جاری خانہ جنگی کے بعد منظرِ عام پر ابھرے اور افغان دارالحکومت کابل سمیت افغانستان کے طول و عرض میں حکمرانی کرتے رہے تاآنکہ امریکہ ان پر حملہ آور ہوا اور ان سے  افغانستان کی حکمرانی چھن گئی. امریکی افواج کے رخصت ہوتے ہی طالبان بھرپور طریقے سے متحرک ہوچکے ہیں اور ایک بار پھر افغان دارالحکومت کابل کی جانب پیش قدمی کر رہے ہیں اس صورتحال میں افغانستان کو ایک بار پھر خانہ جنگی کا سامنا ھے اور اس کے پراثر خطرات پورے خطے کو اپنی لپیٹ میں لے سکتے ہیں. 

*افغان امن فارمولا*

افغان حکومت اور طالبان کے درمیان امن فارمولے پر بھی کام جاری ہے تاکہ سال ہا سال سے جنگ زدہ افغانستان میں امن و امان قائم ہوسکے. گزشتہ برس ستمبر 2020 میں بین الافغان امن معاہدہ قطر کے دارالحکومت دوحہ میں ہوا تھا، دوحہ معاہدے کے مطابق افغانستان میں القاعدہ اور داعش کے داخلے پر پابندی سمیت افغانستان سے امریکی افواج کا انخلاء دوحہ معاہدے کا حصہ تھا.

اس ضمن میں خطے کے اہم ترین اور افغانستان کے ہمسایہ ملک پاکستان سمیت دیگر کئی ممالک افغانستان کو  امن کا گہوارہ بنانے کے لئے پرعزم ہیں اور تمام فریقین کے درمیان قیامِ امن کے لئے سرگرم عمل ہیں.

حالیہ صورتحال کے تناظر میں افغان امن فارمولے میں تمام افغان فریقین کو آپس میں جلد سے جلد جنگ بندی کرنے اور امن کے لیے راہ ہموار کرنے پر زور دیا گیا ھے، اور ایک ایسی نگران حکومت بنانے کی تجویز دی گئی ہے جس میں طالبان بھی شامل ہوں. 

*کوویڈ19، اکیسویں صدی کا دوسرا اہم واقعہ دوسری دہائی میں پیش آیا*

اکیسویں صدی میں اب تک دوسرا اہم ترین واقعہ دوسری دہائی کے آخر میں کورونا وباء کی صورت میں سامنے آیا جس سے کرہ ارض مکمل طور پر متاثر ہوا. اس وباء سے دنیا بھر میں اب تک کروڑوں افراد اس وباء سے متاثر ہوئے جبکہ لاکھوں افراد جاں بحق ہوچکے ہیں اور اس کے نتیجے میں عالمی معیشت بھی بری طرح متاثر ہوچکی ہے.

*کورونا وائرس کی ابتداء*

دسمبر 2019 میں چین کے شہر ووہان سے منظر عام پر آنیوالے خوفناک کورونا وائرس نے کرہ ارض کو ہلا کر رکھ دیا. یہ خوفناک وائرس دیکھتے ہی دیکھتے عالمی وباء کی شکل اختیار کرگیا اور دنیا کی تاریخ میں پہلی بار دنیا کے تمام ممالک نے ذرائع آمدورفت معطل کر دئیے، دنیا بھر میں سفری اور سماجی پابندیاں عائد کر دی گئیں. 

*امریکہ اور چین کے ایکدوسرے پر الزامات*

امریکہ نے دنیا میں اس وائرس کے پھیلاؤ کا ذمہ دار چین کو قرار دیا، چین نے اس الزام کی تردید کی اور امریکہ کو اس وائرس کو چین کے اس علاقے تک پہنچانے کا ذمہ دار قرار دیا، دونوں ممالک کے ایک دوسرے پر الزامات کا سلسلہ جاری رہا جبکہ اقوام متحدہ کے عالمی صحت کے ادارے نے اس وائرس کو کسی خاص علاقے سے منسوب کرنے کو غلط قرار دیا، ماہرین نے اسے کئی برس پرانے نمودار ہونیوالے کورونا وائرس کی نئی شکل قرار دیتے کوویڈ 19 کا نام دیا. 

*کورونا ویکسین*

اس دوران کوویڈ 19 سے بچاؤ کی ویکسین دریافت کرلی گئی اور اب دنیا بھر میں ویکسینیشن کا عمل جاری ہے، ماہرین پرعزم ہیں کہ ویکسینیشن کے عمل سے وباء کی روک تھام موئثر ثابت ہوگی. 

*اکیسویں صدی کی تیسری دہائی*

اکیسویں صدی کی تیسری دہائی کے آغاز میں دنیا کوویڈ 19 سے نبرد آزما ھے اور افغانستان سے امریکہ اور اس کے اتحادی رخصت ہو رہے ہیں گویا اکیسویں صدی کی پہلی دو دہائیوں کے دو اہم واقعات اس تیسری دہائی میں ایک نئی شکل لے رہے ہیں اور دنیا کی ہنگامہ خیزی جاری ہے. 

ہماری دعاء ھے کہ دنیا کوویڈ 19 جیسی موذی وباء سے محفوظ ہوجائے اور دنیا میں امن کے پیامبروں کی کوششیں رنگ لے آئیں، ہماری اور آنیوالی نسل کو اس دنیا میں امن، سکون اور سلامتی نصیب ہو. 

۔

 نوٹ:یہ بلاگر کا ذاتی نقطہ نظر ہے جس سے ادارے کا متفق ہونا ضروری نہیں۔

۔

 اگرآپ بھی ڈیلی پاکستان کیساتھ بلاگ لکھنا چاہتے ہیں تو اپنی تحاریر ای میل ایڈریس ’zubair@dailypakistan.com.pk‘ یا واٹس ایپ "03009194327" پر بھیج دیں.   ‎

مزید :

بلاگ -