امریکی سپریم کورٹ نے اسقاطِ حمل کا حق منسوخ کردیا

امریکی سپریم کورٹ نے اسقاطِ حمل کا حق منسوخ کردیا
امریکی سپریم کورٹ نے اسقاطِ حمل کا حق منسوخ کردیا
سورس: Twitter

  

واشنگٹن (ڈیلی پاکستان آن لائن) امریکی سپریم کورٹ نے خواتین کا  اسقاطِ حمل  کا حق منسوخ کردیا جس کے بعد ریاستیں اپنے طور پر اس حوالے سے قانون سازی کرسکیں گی۔

غیر ملکی میڈیا کے مطابق سپریم کورٹ کے نو رکنی بینچ نے اسقاطِ حمل کے حوالے سے 6-3 سے فیصلہ سنایا ہے۔ جن چھ ججوں نے اسقاطِ حمل کے خلاف فیصلہ دیا ہے انہیں قدامت پسند تصور کیا جاتا ہے۔ سپریم کورٹ نے سنہ 1973 کے رو بمقابلہ ویڈ کیس کے فیصلے کو منسوخ کردیا ہے، اس فیصلے کے تناظر میں گزشتہ پانچ دہائیوں سے امریکہ میں خواتین کو اسقاطِ حمل کا قانونی حق حاصل تھا۔

عدالتی حکم میں کہا گیا ہے کہ اسقاط حمل کو ریگولریٹ کرنے کا اختیار عوام اور ان کے منتخب نمائندوں کو واپس کیا جاتا ہے۔اس فیصلے کے بعد امریکی کی 2 درجن سے زائد ریاستوں میں اسقاط حمل پر پابندی عائد کیے جانے کا امکان ہے۔

 وائس آف امریکہ کے مطابق  فیصلے کے وقت سپریم کورٹ کے باہر اسقاطِ حمل کے حق اور مخالفت کرنے والے افراد کی بڑی تعداد موجود تھی۔ سپریم کورٹ کے فیصلے کے نتیجے میں امریکہ بھر میں بڑے پیمانے پر مظاہروں کا خدشہ ہے۔

مزید :

بین الاقوامی -