عمران خان کی ریاستِ مدینہ

عمران خان کی ریاستِ مدینہ
عمران خان کی ریاستِ مدینہ

  

میرے ایک دوست جو کویت میں 25 سال سے بطور الیکڑیکل انجینئر کام کرتے رہے ہیں اور اب وہ خود بڑے پیمانے کے الیکٹریکل کنٹریکٹر ہیں۔ عملی طور پر مسلمان ہیں۔ پاکستان کی بہتری کے لئے مختلف منصوبے بناتے رہتے ہیں۔ 2018 میں وہ اپنے دو کویتی شیخوں کے ساتھ 20 ملین کویتی دینار کے اِبتدائی سرمائے سے (جو ایک ارب پاکستانی روپے بنتا ہے)اورسیز پاکستانی ہنر مندوں کے لئے جہلم کے پاس ایک مکمل شہر بسانے کا منصوبہ لے کر آئے تھے۔ چوہدری ارشد نعیم اور دونوں کویتی شیخوں کو پنجاب حکومت کے ہاؤسنگ کے شعبے کے بڑوں سے اُنہیں ملوایا، لاہور کے ایک مشہور ٹاؤن پلاننگ کے اِدارے نے سائٹ کو ملا خطہ کیا۔ حکومتی ہاؤسنگ کے شعبے کے سربراہ کو تحریری درخواست برائے جوائنٹ وینچر بھی دی گئی۔ نتیجہ وہی جو سُرخ فیتے کی وجہ سے نکلتا ہے۔ پانچ روز ہوٹل میں رہ کر وہ پاکستان کے دفتری نظام کو شدید بُرا بھلا کہتے ہوئے واپس چلے گئے۔ دراصل میَں چوہدری ارشد نعیم کا تعارف کرانا چاہتا تھا۔ یہ صاحب مسلمانوں کے لئے اور خاص طور سے پاکستان کے لئے اپنی حیثیت کے مطابق کچھ نہ کچھ کرتے رہتے ہیں۔جب عمران خان وزیرِ اعظم بنے اور اُنہوں نے ریاستِ مدینہ کا نعرہ حسبِ عادت بغیر سوچے سمجھے لگا دیا تو میرے جیسے حقیقت پسندوں نے اسے وقتی سا اعلان سمجھ کر کوئی زیادہ توجہ نہ دی لیکن چوہدری ارشد نعیم جیسے صاحبِ درد اور شریف سے مسلمان نے مجھے 7 صفحات پر مشتمل ریاستِ مدینہ کا خاکہ بھیج دیا۔ اُسی پلان کی کاپیاں پتہ نہیں کتنے اِداروں کو اُنہوں نے روانہ کی ہونگی۔ریاستِ مدینہ کے پلان کے علاوہ یہ ایک پُرمغز اور طویل مقالہ بھی تھا جو قران شریف کے حوالوں سے مزید موثر بنا دیا گیا تھا۔ اس مقالے یا پلان کا مرکزی خیال اسلامی نظامِ معیشت پر مبنی ہے یعنی ہر قسم کا کاروبار چاہے وہ مشارکہ اور مضاربہ کی صورت منافع کے حصول کے لئے ہو وہ منافع بھی رِبا کہلائے گا اور وہ بھی حرام کا درجہ رکھتا ہو گا۔

میرے دوست نے تو ریاستِ مدینہ کے وجود کی شرط ہی سود کی نفی پر رکھی تھی۔ موجودہ گلوبل معاشی نظام جس کا پاکستان بھی ایک حصہ ہے، ریاستِ مدینہ کے قیام کو ناممکن بنادیتا ہے۔ معلوم نہیں عمران خان صاحب نے ریاستِ مدینہ کے کس پہلو کا سوچ کر اعلان کر دیا تھا۔ کیا وہ پہلو ہماری معاشرت تھی؟کیا وہ پاکستان کا موجودہ نظامِ انصاف تھا؟کیا وہ ہماری تجارتی، سماجی اور سیاسی اخلاقیات تھیں؟کیا ریاستِ مدینہ ہماری مذہبی اور دینی ریفارم کا پروگرام تھا؟ یا فقظ ایک ناقابلِ عمل سیاسی نعرہ تھا جوہمارے سادہ اور جذباتی پاکستانیوں کو خوش کرنے کے لئے لگایا گیا تھا۔عمران خان نعرہ لگاتے وقت یہ بھول گئے تھے کہ ریاستِ مدینہ کی آبادی22 کروڑ نہیں تھی۔ اِتنی بڑی آبادی کے ساتھ جو پیچیدہ سوشل مسائل اور سنگین جرائم جڑے ہوتے ہیں، ریاستِ مدینہ اِن سے پاک تھی۔ نہ سکولوں کی کمی کا مسئلہ تھا اور نہ ہی عوامی صحت کے مسائل تھے۔ نہ کچی آبادیوں کا تصوّر تھا کیونکہ اُس وقت ہر مکان کچا ہی ہوتا تھا۔622 عیسوی میں مسلمانوں کی City-state مدینہ منورّہ میں رسول اؐللہ کی سربراہی میں قائم ہوئی تھی۔ ریاستِ مدینہ کا سیاسی نظام قائم ہونے میں سربراہِ حکومت (رسول ؐ اللہ)کو Divine guidance حاصل تھی۔ اُس وقت کی ریاست کے عوام نیک، دیانتدار اور معاملات میں عمومی طور پر سچے ہوتے تھے۔ اسلامی ریاست کا آئین جو غالباً 46 شقِوں پر مبنی تھا وہ رسول اللہ کی رہنمائی اور اللہ تعالیٰ کی تائید سے ہی بنا ہو گا۔ رسولؐ اللہ کی حیات میں ہی مختصر سا مدینہ شہر 50-60 لاکھ کی آبادی کا ملک بن گیا جس میں یمن، حجاز اور آج کے بحرین، کویت، متحدہ امارات، عمان اور قطر شامل تھے۔ خلفائے راشدین کی حکمرانی کے ابتدائی12سال ریاستِ مدینہ کا تواتر ہی سمجھنا چاہئے۔ لیکن 644 عیسوی کے بعد کا عرصہ خون خرابے، برادر کُشی، فتنوں اور شہادتوں سے بھرپور ہے۔ بلکہ مرکز گریز قوتوں نے حضرت علی ؓ کی خلافت میں ہی سر اُٹھا لیا تھا۔

میَں وزیرِ اعظم سے نہائت ادب سے معلوم کرنا چاہتا ہوں کہ وہ اپنی تقریروں میں کونسی ریاستِ مدینہ کا ذکر کرتے ہیں۔ اُنہیں اپنی تقریروں میں Vague نہیں ہونا چاہیے۔ وہ یہ تو کہہ سکتے ہیں کہ اُن کی حکومت ریاستِ مدینہ کی طرح کا Merit اور اِنصاف پر مبنی نظام لانے کی کوشش کرے گی۔ ریاستِ مدینہ کی معیشت بالکل بنیادی سی تھی۔ تجارت، کاشتکاری، غلہ بانی، سپہ گیری، طبّی خدمات، امن و امان، انصاف اور نظم و نسق کے شعبے نہائت اِبتدائی شکل میں ہوتے تھے۔ سمگلنگ تھی اور نہ ہی منی لانڈرنگ، نہ ٹیکسوں کی بھرمار تھی اس لئے ٹیکس چوری کے جرائم نہ ہونے کے برابر تھے۔ اسی لئے کالا دھن نہیں ہوتا تھا۔ اُن دِنوں نہ گیس ہوتی تھی، نہ بجلی اور نہ Tap water، اس لئے بلوں کی شکایتوں یا بجلی کی چوریوں کا شور بھی نہ ہوتا تھا۔ قرانی قانون اور اسوہ رسوؐل کا دور دورہ تھا، مغربی جمہوری نظام کا فراڈ ابھی صدیوں دُور تھا۔ اُس وقت جھوٹی گواہیوں، بکاؤجج اور وکیل بازی کا سوچا بھی نہ جا سکتا تھا۔ اِنصاف سستا ملتا تھا اورجلدی ملتا تھا اس لئے ریاستِ مدینہ مین قانون کو ہاتھ میں لینے کا کبھی سوال ہی پیدا نہ ہوتا تھا۔ خلفائے راشدین کے دور میں ہمیں خون ریزی اور برادر کُشی((Fratricide کا فتنہ نظر آتا ہے۔ اُس کی وجہ مذہبی جنونیت یا قبیلوں کی رقابت ہے۔ سچ پوچھیں توTribalism اور دینِ اسلام ساتھ ساتھ نہیں چل سکتے تھے۔ قبیلہ نوازی کمزور شکل میں پاکستان میں ابھی تک زندہ ہے۔ قبیلہ نوازی کی وجہ سے ہمارے ہاں میرٹ کا قتل ابھی بھی ہوتا ہے۔ حیرت کی بات ہے کہ دینِ اسلام جوں جوں یورپ کی طرف پھیلتا رہا یا ایشیاء کے جنوب مشرق میں پہنچا تو صرف ایک صدی میں قبیلہ پرستی کی وباء ہمیں نظر نہیں آتی۔ ریاستِ مدینہ کی شروعات قبائلی معاشرے سے ہوئی تھی کیونکہ اسلام سب سے پہلے جزیرۃ العرب میں ہی پھیلا۔ عرب قوم اُس وقت بھی اور آج بھی قبیلوں میں تقسیم ہے لیکن اَب یہ تقسیم لڑائی مارکٹائی پر مبنی نہیں ہے۔ البتہ تکبّر کا نشان ابھی بھی ہے۔

عمران خان کی خواہش کہ پاکستان”ریاستِ مدینہ“کی طرح بن جائے مبنی بَر خلوصُ ہے۔ اس میں کوئی شک نہیں لیکن اس کا اظہار بغیر سوچے سمجھے کر دینا، سربراہِ ریاست کو زیب نہیں دیتا۔ وزیر اعظم بننے سے پہلے عوامی جلسے کے سامنے تقریر کرتے ہوئے، ریاستِ مدینہ کی تقریر کو صرف سیاسی نعرہ ہی سمجھا جاتا تھا۔ لیکن جب انسان حکومت کا سربراہ بن کر کوئی اعلان کرتا ہے اور بار بار کرتا ہے تو اُس اعلان کا عملی مظاہرہ بھی ہونا چاہئے۔ میَں عمران خان کے خلوص اُس کی دیانت داری اور حُب الوطنی کو دِل سے مانتا ہوں۔ لیکن یہ صفات تو لاکھوں پاکستانی خاص و عام میں بھی ہیں۔ تدّبر، تفکّر، دُور اندیشی، موقع شناسی(موقع پرستی نہیں)اور آدم شناسی ایک کامیاب حکمران کے لئے نہائت ضروری عوامل ہیں۔ عمران خان کے والد کا پُرانا دوست ہونے کی بنا پر میَں انہیں مشورہ دینے کی جسارت کرتاہوں کہ کسی قسم کی پبلک تقریر سے پہلے اُسکے موضوع پر دِل میں نوٹس بنائیں اور تقریر سے پہلے مناسب الفاظ کا چناؤ کریں اور پھر موضوع کے اندر رہتے ہوئے تقریر کریں تاکہ بعد میں U-Turn لینے کی نوبت نہ آئے۔عمران خان کے ماتحت اعلیٰ افسر حسبِ مراتب کی وجہ سے وزیر اعظم کی اِصلاح نہیں کر سکتے۔ وہ وزیرِ اعظم کو یہ بھی نہیں ظاہر کرتے کہ رسمی میٹنگز میں ٹانگوں کو کراس کر کے نہیں بیٹھا جاتا۔ یہ ہی غلطی آصف علی زرداری کرتا رہا، جبکہ وہ وزیر اعظم بے نظیر کے شوہر کی حیثیت سے باہر Visits پر جاتا رہا تھا۔ ریاستِ مدینہ ہوبہو تو ظاہر ہے نہیں بن سکتی کیونکہ آج کی گلوبل دنیا میں الگ تھلگ ہو کر نہیں رہا جا سکتا۔ اگر پاکستان میں سچے دل سے Rule of law (قانون کی حکمرانی)قائم ہو جائے تو سمجھ لو ریاستِ مدینہ بن گئی۔ لیکن قانون اور میرٹ کی حکمرانی کو جاری کرنے کے لئے اس ریا کارانہ آئین کوختم کرنا پڑے گا۔ بے تحاشہ شیطانی ترامیم نے اُس کا حلیہ ہی بگاڑ دیا ہے۔ یہ نہ اسلامی اور نہ جمہوری آئین ہے۔ جب تک ہمارا کمزور عدالتی نظام، ہماری ذات برادری اور رشوت کی ماری پولیس اور جھوٹی گواہیوں اور قانونی موشگافیوں کے ذریعہ انصاف حاصل کرنے والے ؤکلا میں سُدھار نہیں آئے گا، پاکستان میں ابلیسی معاشرت، معیشت، اخلاقیات اور ایمان فروشی یوں ہی چلتی رہے گی، کسی بھی پاکستانی لیڈر بشمول عمران خان میں ہے یہ جرأت کہ وہ پاکستان میں قانون کی حکمرانی اور اُس کے لوازمات قائم کر سکے۔ جان خطرے میں پڑ جاتی ہے۔ فراڈ جمہوریت کے دعوے دار، ایمان فروش عُلماء، ہماری فوج کے جرنیل کبھی بھی اسلام کے آفاقی اصولوں پر مبنی ریاست قائم نہیں ہونے دیں گے۔

ہم ایشیائی اور افریقی مسلمانوں کو شیطانی راستوں پر، تیل نکالنے والے عرب ممالک کی مجرمانہ اور آنکھوں کو خیرہ کر دینے والی عیاشی نے ڈالا۔ مغربی ممالک نے عربوں کو تیل کی دولت کے عوض سامانِ تعیش فروخت کیا۔ چمکتی کاریں، مہنگی خوشبوئیں، ڈیزائز ملبوسات اور طرح طرح کی الیکٹرونکس کے سامان کی نمائش نے ہم غریب اسلامی ممالک کے Overseas مزدوروں کو فضول خرچی اور Consumerism کی طرف ڈال دیا۔ پاکستانی اکثریت دولت کی نمائش کے لئے ایک دوسرے پر سبقت لے جانے کی کوشش میں دولت کے حصول کا ہر طریقہ جائز سمجھنے لگی ہے۔ ایمان اور دیانت کا جنازہ نِکل گیا ہے۔ ایسے بگڑے ہوئے معاشرے کو سدھارنے کے لئے ایسی ریاست ِ مدینہ چاہیے جہاں شیطانی جمہوریت کا نام و نشان تک نہ ہو۔ لیکن یہ ہو نہیں سکتا۔ ہمارے عوام ہی سب سے بڑی رکاوٹ ہونگے۔عشقِ رسوؐل کے تحت بندوں کو مار دیں گے اور پھر غازی یا شہید کہلائیں گے۔ لیکن رسوؐلِ کریم کے بتائے ہوئے دیانت، امانت اور سچائی کے راستوں پر چلنا گوارہ نہیں کریں گے۔

مزید :

رائے -کالم -