شہنشاہ اکبر کی ایک مہم

شہنشاہ اکبر کی ایک مہم
شہنشاہ اکبر کی ایک مہم

  

چشم تصور وا ہوتی ہے۔ دربار لگا ہوا ہے۔ بادشاہ جم جاہ ابوالمظفر جلال الدین محمد اکبر بادشاہ غازی تخت شاہی پہ جلوس فرما چکا ہے۔تمام حاضرین دربار دست بستہ قیام پذیر ہیں۔سب کی ٹانگوں میں لرزش اور چہرے سے خوف عیاں ہے۔شہنشاہ کا روئے مبارک جلال پادشاہی سے عنبریں ہو چکا ہے۔آنکھیں شعلہ بار ہیں۔بادشاہ طیش سے کانپ رہا ہے۔اہلیان دربار کے سر خم ہیں۔کسی کی ہمت نہیں ہے کہ سر اٹھا کے دیکھ سکے۔شہنشاہ دونوں ہاتھوں سے تالی پیٹتا ہے۔دربان کا تخت شاہی کے سامنے ورود ہوتا ہے ۔گھٹنوں تک رکوع میں جا کے تین فرشی سلام عرض کرتا ہے۔کیا حکم ہے میرے آقا۔دربان کے منہ سے لفظوں کے ٹکڑے ٹوٹ ٹوٹ کے گرتے ہیں۔ابوا الفضل کو فوراً حاضر کیا جائے۔دربان اپنا رخ بادشاہ کی طرف رکھتے ہوئے پیچھے ہٹتا جاتا ہےاور دربار سے باہر نکل جاتا ہے۔اب سب کے دلوں میں خوف ہے کہ آج ابوالفضل کی خیر نہیں۔ لگتا ہے آج اس کا سر دھڑ سے جدا ہوا کے ہوا۔کچھ ساعتیں گزرتی ہیں۔چہرے تشویش سے پر رہتے ہیں۔شہنشاہ کی آنکھیں بدستور آگ برسا رہی ہیں۔ابوالفضل دربار شاہی میں جلوہ افروز ہوتا ہے۔وہ بھی فرشی سلام بجا لاتا ہے۔ ابوالفضل سپہ سالار بیرم خاں ترکمان خان باباکے نام جلد سے جلد پروانہ شاہی جاری کرو انہیں کہو کے جلد سے جلد گوالیار کی مہم کو ادھورا چھوڑ کے جتنی جلدی ہو سکے دربار اکبری میں جلوہ نما ہوں۔

شہنشاہ اکبر مسند نشین ہے۔سپہ سلار جنگ بیرم خان ترکمان بارگاہ میں حاضر ہے۔بادشاہ کے جلال کا آفتاب ہنوز سوا نیزے پہ شعلہ بار ہے۔لیکن پھر بھی خان بابا بیرم خان کی تعظیم کو اٹھ کھڑا ہوتا ہے۔ خان بابا آپ کو خبر نہیں ہماری سلطنت پہ ایک خون آشام لشکر نے حملہ کر دیا ہے۔

عالم پناہ کونسا لشکر؟یہ غلام سمجھا نہیں۔

میں حیران ہوں آپ کو کچھ خبر نہیں،کرونا وائرس کا خون آشام لشکر جرار کتنے دنوں سے کشتوں کے پشتے لگا رہا ہے۔یہ پہلے پہل تو ایران سے داخل ہوا تھا اب تو چاروں طرف سے یورش ہو چکی ہے، فرنگستان، عربستان نہ جانے کہاں کہاں سے اس کی سپاہ پہ سپاہ اترتی چلی جا رہی ہے اور آپ ہنوز بے خبر ہیں۔

لشکر تیار کریں اس خونخوار جنگجو کے خلاف مہم کی سربراہی میں خود کروں گا۔بادشاہ طیش میں آکر اٹھ کھڑا ہوتا ہے۔بہت وقت برباد ہو گیا ابھی نقارے پہ چوٹ کروا دیں ابھی کوچ ہوگا۔

بادشاہ تخت شاہی سے اٹھ کر دربار سے باہر کی طرف جانے ہی لگتا ہے کہ ابوالفضل بادشاہ کو روک لیتا ہے۔

حضور جان بخشی فرمائی جاوے اور غلام کی اس گستاخی کو نظر انداز کردیا جاوے کہ حضور کو رستے میں روک لیا۔اتنا کہہ کر ساتھ کھڑے آدمی سے ایک نقرئی طشت لے کر ابوالفضل بادشاہ کے حضور گھٹنوں تک جھک جاتا ہے۔بادشاہ اس طشت کے اوپر ڈلا ہوا زربفت کا خوان پوش ہٹاتا ہے تو نیچے سے کمخواب کا ایک ماسک بر آمد ہوتا ہے جس پہ طلائی تاروں سے دیدہ زیب پھولوں کی کڑہائی موجود ہے۔

حضور کا اقبال بلند ہو۔چتر شاہی تاقیامت سرافراز رہے۔ میں سرکار کو ماسک کے اس گلو بند اور پی پی ای کے زرہ بکتر کے بغیر ہر گز ہر گز اس مہم پہ روانہ نہیں ہونے دوں گا۔

بادشاہ ماسک اٹھا کے چہرے پہ پہن لیتا ہے اور تحسین آمیز نظروں سے ابوالفضل کو دیکھتا ہے۔

۔

 نوٹ:یہ بلاگر کا ذاتی نقطہ نظر ہے جس سے ادارے کا متفق ہونا ضروری نہیں ۔

۔

اگرآپ بھی ڈیلی پاکستان کیساتھ بلاگ لکھنا چاہتے ہیں تو اپنی تحاریر ای میل ایڈریس ’zubair@dailypakistan.com.pk‘ یا واٹس ایپ "03009194327" پر بھیج دیں۔

مزید :

بلاگ -