بہار

بہار
بہار

  

دو بجے جناح ہسپتال سے نکلا۔سوچا آج چہل قدمی کرتے ہیں۔علامہ اقبال میڈیکل کالج کے ہاسٹلز کی طرف چل دیا۔مجھے لگا میں بیس سال پیچھے چلا گیا ہوں اور کالج میں گرمیوں کی تعطیلات چل رہی ہیں۔کالج سے ہاسٹلز جانے والی سڑک ویران پڑی تھی۔اتنی ویران کے مجھے اپنے قدموں کی چاپ سنائی دینے لگی۔روزگارڈن کے درختوں اور پودوں میں سے سرسراتی ہوا کا شور میرے کانوں تک آ رہا تھا۔پرندوں کی چہچہاہٹ جو کئی سالوں سے کانوں کی دہلیز سے روٹھ چکی تھی۔میری سماعت پہ دستک دے رہی تھی۔بہار کہ یہ دن آتے تھے اور لوٹ جاتے تھے۔میں روزانہ ہی یہاں سے گزرتا تھا مگر یہ منظر دیکھتے ہوئے بھی آنکھوں سے اوجھل رہتا۔گاڑیوں کا ہجوم،لوگوں کا ہنگامہ،زندگی کی بے تکی رفتار کے پیچھے یہ سارے منظر دھندلا جاتے تھے۔پھولوں کے یہ رنگ ہماری آنکھوں کے منتظر رہتے مگر کچھ لمحے رک کر ان پہ نظر ڈالنے کا دھیان بھی نہیں آتا تھا۔دھیان آتا بھی کیسے کالج کے ایک سرے سے دوسرے سرے تک سڑک کے دونوں طرف گاڑیوں کی قطار کھڑی ہوتی ہے۔اس آہنی دیوار کے پیچھے سے یہ ننھے لال،پیلے ،کاسنی،اودے،نیلے پھولوں کی قوس قزح کیسے اپنے نرم و نازک وجود کا احساس دلائے۔پھول ہواؤں پہ رقص کر رہے تھے۔پرندوں کے الوہی گیت کانوں میں رس گھول رہے تھے۔پرندوں کی ان آوازوں کے علاوہ ایک مقدس سناٹا ہر طرف پھیلا تھا۔مسجد کے قریب پہنچا تو پولیس کے کچھ سپاہی دروازے پہ متعین تھے۔اندر جمعہ کی نماز ہو رہی تھی۔شاید امام مسجد اور دو تین نمازیوں کو اجازت تھی باجماعت جمعہ پڑھنے کی باقی لوگوں کو پولیس دروازے سے واپس بھیج رہی تھی کے گھر جا کے ظہر کا ثواب کمائیں۔ایسے میں موٹرسائیکل پر دو آدمی آ کر مسجد کے دروازے کے سامنے رکے۔انہوں نے مسجد میں گھسنے کی کوشش کی پولیس نے انہیں روک دیا۔ان دونوں کے چہروں پہ بہت مایوسی پھیل گئی ان میں سے ایک بولا۔ہم پاکستانیوں میں سے اکثریت تو جمعہ و عیدین کی مسلمان ہے۔ہم لوگ جھوٹ بولتے،فراڈ کرتےہیں،دھوکہ دیتے ہیں۔کم تولتے،ناجائز منافع خوری اورذخیرہ اندوزی کرتے ہیں بلکہ ان دنوں تو کئی لوگ پچاس روپے والا ماسک پچیس پچیس سوروپےمیں بیچ رہے ہیں تو ان سب گناہوں پہ ربڑ پھیرنے کے لیے کم ازکم جمعہ پڑھنے کی اجازت تو ملنی چاہیے۔ان دونوں کو اپنے جذبہ ایمانی کی تسکین کے لیے اس وقت جمعےکی نماز کی اشد ضرورت تھی اور وہ بیچارے اس سے محروم کر دیے گئے تھے۔انہیں کرونا وائرس پہ بہت غصہ آ رہا تھا۔وہ اس کافر وائرس کو گالیاں دیتے واپس لوٹ گئے اور ہم اس رقص کرتی ہوا میں ان گلوں کے رنگ آنکھوں میں بھرتے،پرندوں کے گیت سنتے اور گنگناتے ہوئے،خراماں خراماں آگے نکل گئے۔

۔

نوٹ:یہ بلاگر کا ذاتی نقطہ نظر ہے جس سے ادارے کا متفق ہونا ضروری نہیں ۔

.

اگرآپ بھی ڈیلی پاکستان کیساتھ بلاگ لکھنا چاہتے ہیں تو اپنی تحاریر ای میل ایڈریس ’zubair@dailypakistan.com.pk‘ یا واٹس ایپ "03009194327" پر بھیج دیں۔

مزید :

بلاگ -