ترکی سے آسٹریلیا تک پاکستانی سکالر ابویحیٰی کے مشاہدات۔ ..قسط نمبر 46

ترکی سے آسٹریلیا تک پاکستانی سکالر ابویحیٰی کے مشاہدات۔ ..قسط نمبر 46
ترکی سے آسٹریلیا تک پاکستانی سکالر ابویحیٰی کے مشاہدات۔ ..قسط نمبر 46

  



سڈنی کا مرکز شہر اور اوپرا ہاؤس

چار مسلسل دن پروگرام کے بعد اب تین دن کا ایک عارضی وقفہ آیا تھا جس کے بعد پھر برسبین، کینبرا اور ایڈیلیڈ میں مسلسل پروگرام تھے ۔ گرچہ ان تین دنوں میں بھی ہر رات ڈنر ہواجس میں کچھ نہ کچھ گفتگو اور سوال و جواب کا سلسلہ جاری رہا۔ لیکن اِن تین دنوں میں ہر روز کسی نہ کسی کی ڈیوٹی تھی کہ وہ مجھے سڈنی اور اردگرد کے علاقے دکھائے ۔

پہلے دن کامران مرزا صاحب تشریف لائے ۔کامران صاحب کرنسی کی تجارت کرتے تھے ۔ وہ اپنی فیملی کے ہمراہ کئی برس سے یہاں مقیم تھے ۔ مرکز شہر یا سی بی ڈی میں ان کا کاروبار تھا۔مرکز شہر کے ساتھ ہی چونکہ سڈنی کے اہم ترین مقامات یا لینڈ مارک جیسے اوپرا ہاؤس اور ڈارلنگ ہاربر وغیرہ موجود تھے ، اس لیے یہ مقامات دکھانا انھی کی ذمہ داری قرارپائی۔ یہ وہ علاقہ تھا جہاں یورپ سے آنے والوں نے پہلی نوآبادی بنائی تھی۔ اس لیے یہاں نئی عمارات کے ساتھ متعدد پرانی عمارات بھی موجود تھیں ۔

ترکی سے آسٹریلیا تک پاکستانی سکالر ابویحیٰی کے مشاہدات۔ ..قسط نمبر 45 پڑھنے کیلئے یہاں کلک کریں

میں کامران مرزا صاحب کے ہمراہ پہلے مرکز شہر میں واقع ان کے دفتر پہنچا۔پھروہاں سے دوپہر کا کھاناکھانے ہم ایک جگہ گئے جہاں حلال برگر دستیاب تھا۔اس کے بعد ہم پیدل چلتے ہوئے ڈارلنگ ہاربر پہنچے ۔اس کے نام سے کوئی غلط فہمی نہ ہو۔ ڈارلنگ انیسویں صدی میں اس علاقے کے ایک گورنر کے نام کا جز تھا۔تاہم یہ علاقہ انٹرٹینمنٹ کا بھی مرکز تھا۔ یہاں مادام تساؤ کا عجائب خانہ، شاپنگ سنٹر، کیسینو، سینما ، بحری میوزیم اور ہر طرح کی دیگر تفریحات کا سامان موجود تھا۔

ہم تھوڑ ی دیر یہاں رکے ۔ عین دوپہر کے وقت بھی سرد ہوائیں چل رہی تھیں جو مقامی لوگوں کے لیے توآمدِبہار کا سازہوں گی مگر اس خاکسار کے وجود کو تلوار کی طرح کاٹ رہی تھیں ۔ مگر سڈنی دیکھنے کی یہ قیمت بہرحال دینا تھی۔ خیر یہاں سے ہم ایک سمندری ٹیکسی یعنی کرایہ کی کشتی میں بیٹھ کر اوپرا ہاؤس کی طرف روانہ ہوئے ۔پانی میں جاتے ہوئے ہم مشہور زمانہ ہاربر برج کے نیچے سے گزرے جو اوپر اہاؤس کے ساتھ مل کر سڈنی کا وہ منظرنامہ تشکیل دیتا ہے جو پوری دنیا میں اس شہر کی پہچان ہے ۔ کامران مرزا صاحب نے بتایا کہ اسی برج پر نئے سال کی آمد کے موقع پر آتش بازی ہوتی ہے ۔ دنیا بھر میں جب نیاسال شروع ہوتا ہے تو سڈنی ہی دنیا کا پہلا بڑ ا شہر ہے جہاں سالِنو کا جشن منایا جاتا ہے ۔ اس لیے دنیا بھر کے میڈیا میں یہ برج اور یہ منظر بہت نمایاں طور پر دکھایا جاتا ہے ۔

کشتی سے ہم اوپرا ہاؤس پہنچے ۔سڈنی اوپرا ہاؤس دنیا کی معروف اور مشہورترین عمارات میں سے ایک ہے ۔ یہ وہ جگہ ہے جہاں پرفارمنگ آرٹس جیسے تھیٹر، ڈانس، میوزک وغیرہ کا انعقاد ہوتا ہے ۔ مگر دنیا میں اس کی اصل وجہ شہرت اس کا منفرد طرز تعمیر ہے اور اس کی تصویر اب دنیا بھر میں سڈنی کی شناخت ہے ۔ میں ان سارے مناظر کو اپنی آنکھوں سے دیکھ رہا تھا جن کو کبھی تصویروں اور ٹی وی میں دیکھا تھا۔ یہ منظر جتنا وہاں حسین تھا، اتنا ہی یہاں بھی حسین تھا۔

ذوق جمال اور شوق ابدیت

میں اس جگہ پر کھڑ ا یہ سوچ رہا تھا کہ یہ تعمیرات ایسی ہی غیر معمولی اور بے مثل ہیں جیسی مثال کے طور پرتاج محل ہندوستان کی یا اہرام مصر زمانہ قدیم سے مصر کی شناخت بنی ہوئی ہیں ۔اس طرح کی تعمیرات ایک طرف انسان کے ذوقِ جمال کی عکاس ہوتی ہیں اور دوسری طرف انسان کے شوقِ ابدیت کی علامت ہوتی ہیں ۔

انسانی شخصیت کے یہی دو پہلویعنی ذو قِ جمال یا خوبصورتی کو محسوس کرنے کی صلاحیت اور شوق ابدیت یا ہمیشہ زندہ رہنے کی خواہش انسان سے وہ لافانی شاہکار تخلیق کرواتی ہے جو کبھی نہیں مرتے ۔ مگر کتنی عجیب بات ہے ، یہ شاہکار تخلیق کرنے والا انسان مرجاتا ہے ۔ بالکل ایسے ہی جیسے رنگ برنگ پھولوں کی مہک کو محسوس کیے بغیر اور ان کے جمال سے محظوظ ہوئے بغیر ان کو چرجانے والے جانور مرجاتے ہیں ۔

لائیو ٹی وی پروگرامز، اپنی پسند کے ٹی وی چینل کی نشریات ابھی لائیو دیکھنے کے لیے یہاں کلک کریں۔

انسان جانوروں کی ترقی یافتہ شکل ہے ۔ یہ جملہ گرامر کے اعتبار سے دنیا کی ہر زبان میں درست ہے ، مگر انسان کی نفسیات ایسے ہر جملے کو قبول کرنے سے انکار کر دیتی ہے ۔ایک ایسی دنیا میں جہاں کھربوں ستارے ہیں انسان بالکل تنہا ہے ۔اس جیسا کوئی نہیں ۔ نادان اس کے جواب میں یہ کہتے ہیں کہ کائنات میں کہیں نہ کہیں زندگی ضرور ہو گی ۔میں یہ عرض کرتا ہوں کہ زندگی کی بات نہیں ہورہی، انسان کی بات ہورہی ہے ۔ یہ قرآن بھی بتادیتا ہے کہ کائنات میں اور جگہ بھی زمین جیسے معاملات ہورہے ہیں ۔ مگر آپ کائنات کو چھوڑ یں اوریہ دیکھیں کہ اس کرہ ارض پر لاکھوں انواع واقسام کی مخلوقات موجود ہیں ، مگر انسان جیسا کوئی نہیں ۔ حیوانی پہلو سے کچھ حیوانات انسان سے قریب ہیں ، مگر نفسیاتی طور پر کوئی دور دور تک بھی انسان تک نہیں پہنچتا۔ انسان کا اپنی منفرد نفسیات کے لحاظ سے بالکل تنہا و یکتا ہونا اس بات کا واضح ثبوت ہے کہ انسان ایک خصوصی تخلیق ہے ۔ایسا نہیں ہوتا تو انسان ہی جیسی ارتقا یافتہ کوئی نہ کوئی اورنوع اس کرہ ارض پر ضرور ہوتی۔ سوال یہ ہے کہ انسان جیسا کوئی دوسرا کیو ں نہیں ہے ؟

قرآن بیان کرتا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے انسان کے قالب کو اسی مٹی کے خمیر سے پیدا کیا، مگر پھر اس میں روح پھونکی گئی جو خدا کی طرف سے تھی۔ہم اس کی حقیقت نہیں جانتے ۔ مگر یہ جانتے ہیں کہ اسی روح کا نتیجہ ہے کہ انسان اپنے ذوق کے لحاظ سے خدا کی صفات کا بہت ہی معمولی سہی مگر ایک عکس اپنے اندر لیے ہوئے ہے ۔ یہ ذوقِ جمال اور یہ ابدیت کا شعور انسان میں حیوانوں سے نہیں آیا ہے ، خدا کی طرف سے آیا ہے ۔حیوان اپنی جبلت سے بلند نہیں ہو سکتے ۔ انسان اس جبلت سے بلند ہوکر اپنی منفرد فطرت کی بنیاد پر علم و فن کے معجزے جنم دیتا ہے ۔کوئی دوسرا انسان اس ذوق اور شعور میں انسان کا شریک نہیں ۔ یہی انسان کے خصوصی ہونے کا ثبوت ہے ۔(جاری ہے)

ترکی سے آسٹریلیا تک پاکستانی سکالر ابویحیٰی کے مشاہدات۔ ..قسط نمبر 47 پڑھنے کیلئے یہاں کلک کریں

مزید : کتابیں /سیرناتمام


loading...