ترکی سے آسٹریلیا تک پاکستانی سکالر ابویحیٰی کے مشاہدات۔ ..قسط نمبر 47

ترکی سے آسٹریلیا تک پاکستانی سکالر ابویحیٰی کے مشاہدات۔ ..قسط نمبر 47
ترکی سے آسٹریلیا تک پاکستانی سکالر ابویحیٰی کے مشاہدات۔ ..قسط نمبر 47

  

جدید دنیا ارتقاکے نقطہ نظر کو اس لیے نہیں مانتی کہ یہ کوئی معقول نقطہ نظر ہے ۔مسئلہ یہ ہے کہ مذہب کے پیروکاروں نے ، بشمول اہل اسلام، اصل الہامی مذہب کی تعلیم کو فراموش کر کے اسے اتنا نامعقول بنادیا ہے کہ جدید انسان ارتقا کے اس نقطہ نظر کو قبول کر لیتا ہے جو اس کے خیال میں کم نامعقول ہے ۔ باقی جتنی کچھ بھی ارتقا کے نظریے میں معقولیت یا واقعیت پائی جاتی ہے ، اس پر میں نے اپنی کتاب ’’ملاقات ‘‘میں ایک مضمون ’’ارتقا اور خارجی رہنمائی‘‘ کے نام سے لکھا ہے ۔ یہ تصور جس حد تک درست ہے ، خدا کے نہ ہونے کو نہیں بلکہ اس کے ہونے کو ثابت کرتا ہے ۔ حقیقت یہ ہے کہ جس طرح بت پرستی ایک حماقت ہونے کے باوجود صدیوں تک پھیلی رہی، اسی طرح انکار خدا اور انکار آخرت ایک حماقت ہونے کے باجود جدید دنیا میں پھیل گیا ہے ۔ مگر انکار خدا ایک بہت بڑ ا جرم ہے ۔لوگ باز نہ آئے تو اس جرم کی پاداش میں اس دنیا ہی کو ختم کر دیا جائے گا۔

ترکی سے آسٹریلیا تک پاکستانی سکالر ابویحیٰی کے مشاہدات۔ ..قسط نمبر 46 پڑھنے کیلئے یہاں کلک کریں

بہت جلد وہ وقت آ رہا ہے جب خدا فراموش انسان کو صفحہ ہستی سے مٹادیا جائے گا۔ انسان کی بنائی ہوئی تعمیرات بھی اب بہت جلد ختم ہونے والی ہیں ۔ قیامت کا زلزلہ سڈنی کے اوپرا ہاؤس سے لے کر آگرہ کے تاج محل اور مصرکے اہرام تک پھیلے جمال و کمال کے ہر مظہر کو ختم کر دے گا۔مگر اس خاتمے کے ساتھ ہی انسان کی ابدیت کی خواہش کی تکمیل ہوجائے گی۔ انسان کو ہمیشہ جینے کے لیے دوبارہ زندہ کر دیا جائے گا۔ مگر وہاں انسان کا ابدی مستقبل خدا کے ذوق جمال کی جلوہ گاہ یعنی جنت الفردوس یا پھراس کے غضب کے ظہورکی جگہ یعنی جہنم میں سے کوئی ایک ہو گا۔ بدقسمتی سے اِس دنیا میں انسانوں نے ، چاہے مسلمان ہوں یا غیر مسلم، خدا کو بھول کر جینے کا فیصلہ کر لیا ہے ۔ اس کا نتیجہ یہ نکلے گاکہ ان کو جنت سے محروم کر دیا جائے گا۔ جنت وہ جگہ ہے جہاں خداکا ذوق جمال ظاہر ہو گا۔جہاں حسین مرد و زن کے ذوق جمال کی تسکین کے لیے عالیشان عمارات، ذائقہ دار غذائیں ، لذیذ مشروبات ، پرلطف محافل، پرکیف مناظر، پرفضا سیرگا ہوں کی ایک نئی دنیا آباد کی جائے گی۔ اس دنیا میں لوگ جوانی ، صحت، طاقت، توانائی کے ابدی چشموں سے سیراب ہوکر اور ہر خوف و خطرے سے بے نیاز ہوکر ہمیشہ زندہ رہیں گے ۔

جس طرح یہ دنیا اور یہ زندگی ایک حقیقت ہے ۔ اسی طرح وہ زندگی یقینی ہے ۔وہ جنت یقینی ہے ۔ مگر اس میں داخلے کی شرط یہ ہے کہ انسان خدا کو اپنا سب سے بڑ ا مسئلہ بنالے ۔جو یہ نہیں کریں گے ان کا انجام جہنم ہو گا۔ جس میں انسان نہ زندہ رہے گا نہ مرنے پائے گا۔

واش روم کی کنڈی اور من و سلویٰ چھوڑ نے والے لوگ

ہم کچھ دیر یہاں رکے اور پھر پیدل ہی چلتے ہوئے واپس کامران مرز ا صاحب کے دفتر پہنچے ۔ان کے دفتر ہی سے ہم اپنی اگلی منزل یعنی خالد ادریس صاحب کے گھر دعوت کے لیے پہنچے ۔ راستے میں فرخ صاحب کو بھی لیا جو المورد آسٹریلیا کے فائننس سیکریٹری اور پیشے کے لحاظ سے اکاؤنٹنٹ تھے ۔ اگلے دنوں میں ان کا بہت ساتھ رہا۔

خالد صاحب کے ہاں پہنچے تو میں نے ڈرتے ڈرتے ان سے واش روم جانے کی درخواست کی۔ میرے ڈرنے کی وجہ یہ نہیں تھی کہ واش روم جانا کوئی غیر اخلاقی عمل ہے ۔ دراصل ابھی تک تجربہ یہ ہوا تھا کہ گھروں کے اندر واش روم میں کنڈی نہیں ہوتی۔ ملبورن میں عبدالشکور صاحب کے ہاں میں اسے اتفاق سمجھا۔ ذوالفقار صاحب کے ہاں بھی یہی دیکھا تو خیال ہوا کہ یہ کوئی آسٹریلوی رواج ہے ۔یہاں بند دروازہ علامتی طور پر کنڈی کی نشانی ہے اور لوگ اخلاقی طور پر بند درواز ے کو کھولنا غلط سمجھتے ہیں ۔ مگر میں جس ملک میں رہتا ہوں وہاں اخلاقی پابندی کوئی چیز نہیں ہوتی۔کنڈی اور تالا نہ ہوتو لوگ اپنے ہی نہیں پرائے گھر میں بھی گھس جاتے ہیں ۔

اللہ کا شکر ہے کہ کنڈی موجود تھی۔ اس روز پہلی دفعہ اندازہ ہوا کہ باقی نعمتوں کی طرح کنڈی بھی بڑ ی نعمت ہے ۔مگر انسان کو نعمت کی قدر و قیمت اس سے محرومی کے بعد ہی محسوس ہوتی ہے ۔ خالد ادریس صاحب کے ہاں ایک اور نعمت بھی موجود تھی۔ وہ یہ کہ ان کی اہلیہ نے کھانے میں دیگر بہت سی ڈشز کے ہمراہ میری درخواست پر ماش کی دال بھی بنارکھی تھی۔ایک ہفتے تک مسلسل مرغن غذاکھانے کے بعدکہیں جا کر دال نصیب ہوئی تھی۔ انھوں نے بنائی بھی بہت مز ے کی تھی۔ اس لیے میں نے اس سے پورا انصاف کیا۔ اس کے بعد اگلی دعوتوں میں بھی خواتین نے میری درخواست پر سبزیوں کی ڈش بنائی۔

میرا معاملہ وہی تھا جو بنی اسرائیل کا مصر سے نکلنے کے بعد صحرانوردی کے وقت تھا کہ اللہ نے انھیں من و سلویٰ دیا مگر وہ حضرت موسیٰ سے یہی فرمائش کرتے رہے کہ ہمیں لہسن، دال، پیاز، ترکاری چاہیے ۔ اللہ کا شکر ہے کہ اس نے مجھے من و سلویٰ سے محروم کیے بغیر وہ دال اور سبزی نصیب فرمائی۔

قیامت سے قبل قیامت

خالد صاحب نے میری یادداشت کا بھی امتحان لیا اور ایک ایسے ای میل کے بارے میں پوچھا جو انھوں نے قریباً دس برس قبل مجھے کیا تھا۔یہ ان کے بچے کی پیدائش کے بعد اس کے ایک آپریشن کے بارے میں تھا۔ انھوں نے مجھ سے دعا کے لیے کہا تھا۔سچی بات یہ ہے کہ مجھے یاد نہیں آیا۔ اگلے روز فرخ صاحب کے ہاں کے ڈنر میں وہ اپنے ساتھ ای میل بھی لے آئے جو انھوں نے مجھے کیا تھا ۔ اس کا سبب یہ ہے کہ ای میل سروس فراہم کرنے والے تمام پرانا ریکارڈ برقرار رکھتے ہیں ۔ نہ صرف برقرار رکھتے ہیں بلکہ بہت معمولی سی کوشش سے پرانا ای میل باآسانی نکالا جا سکتا ہے ۔میں نے اس ای میل کو پڑ ھا۔ اس میں ہماری پوری گفتگو درج تھی۔

لائیو ٹی وی پروگرامز، اپنی پسند کے ٹی وی چینل کی نشریات ابھی لائیو دیکھنے کے لیے یہاں کلک کریں۔

اس واقعے میں بہت بڑ ا سبق اس حوالے سے تھا کہ اس دنیا میں ہم انسان صرف حال میں جیتے ہیں ۔ ہم ماضی میں کی ہوئی نیکی بدی، تنگی راحت ، مشکل آسانی سب بھول جاتے ہیں ۔اسی طریقے پر زندگی گزارکر ہم ایک رو ز اپنے رب کے حضور پیش ہوجائیں گے ۔مگر وہاں ہم اپنے نامہ اعمال کو موجود پائیں گے ۔ چھوٹی بڑ ی ہر چیز اس میں موجود ہو گی۔ ہماری ہر بات، ہر عمل، ہر گفتگو غرض زندگی کا ہر لمحہ وہاں ہم موجود پائیں گے ، لکھی ہوئی شکل میں بھی اور جیسا کہ اب ہم خود ریکارڈ کر لیتے ہیں ، آڈیو اور وڈیو ریکارڈنگ بھی موجود ہو گی۔

میں نے غالباً ملبورن میں خطاب جمعہ میں تقریر کرتے ہوئے یہ عرض کیا تھا کہ قیامت کے دن جب اللہ تعالیٰ کسی کو پکڑ نے کا فیصلہ کریں گے تو اس کا پورا نامہ اعمال اور سارے اعمال کی وڈیو لوگوں کے سامنے نشر ہوجائے گی۔ اس وقت انسان اتنا ذلیل و رسوا ہو گا کہ وہ خود اللہ تعالیٰ سے درخواست کرے گا کہ پروردگار یہ ذلت برداشت نہیں ہوتی، بس میرا فیصلہ کر کے مجھے جہنم میں پھینک دیں ۔ہمارے جیسے گناہ گاروں کے لیے تو یہ تڑ پ اٹھنے کا مقام ہے ۔

سچ یہ ہے کہ یہ رسوائی ہم میں سے ہر اس شخص کی منتظر ہے جس نے توبہ کا راستہ اختیار نہیں کیا۔ہم نے جب جب کسی کا حق مارا ہو گا، کسی پر ظلم کیا ہو گا، کسی کا دل دکھایا ہو گا، کسی کا مال کھایا ہو گا، کسی پر الزام و بہتان لگایا ہو گا ؛ان تمام مواقعوں پر لوگ اپنے اپنے مطالبات لے کر کھڑ ے ہوں گے ۔ اس دنیا میں تو ہم اپنے طاقت، دولت، چرب زبانی اور چالاکی کی بنیاد پر ہر جگہ جیت جاتے ہیں ، مگر وہاں خدا کے سامنے ہماری زبان بندکر دی جائے گی۔صرف ہمارے اعمال بولیں گے یا اعضا ہمارے خلاف گواہی دیں گے ۔وہ دن انسان کو یاد رہے تو انسان اس دنیا میں نقصان اٹھانے کا فیصلہ تو کرسکتا ہے ، مگر کسی پر ظلم و زیادتی، الزام و بہتان اور دوسرے گنا ہوں کا ارتکاب نہیں کرسکتا۔ کر لے تو فوراً توبہ کر کے ازالہ کرے گا۔ مگر ہم میں سے کتنے لوگ ہیں جو اس دن، اس کی ذلت اور اس روز خدا کی پکڑ کے اندیشے سے ڈرتے اور لرزتے ہوئے زندگی گزارتے ہیں ۔ ہمیں احساس ہوجائے تو ہمارے لیے قیامت سے قبل قیامت آجائے ۔ ہم خدا کے احتساب سے قبل ہی اپنا احتساب خود کر لیں ۔(جاری ہے)

ترکی سے آسٹریلیا تک پاکستانی سکالر ابویحیٰی کے مشاہدات۔ ..قسط نمبر 48 پڑھنے کیلئے یہاں کلک کریں

مزید :

کتابیں -سیرناتمام -