پاک ترک سکول معارف فاؤنڈیشن کے حوالے نہ کیے جائیں:قدیر حسین

پاک ترک سکول معارف فاؤنڈیشن کے حوالے نہ کیے جائیں:قدیر حسین

لاہور(ایجوکیشن رپورٹر)پاک ترک سکول عرصہ 20سال سے پاکستان کے مختلف شہروں میں کم آمدنی والے والدین کے بچوں کو زیور تعلیم سے آراستہ کر رہا ہے حکومت پاک ترک سکولوں کا کنٹرول ترکی کی بدنام زمانہ این جی او معارف فاونڈیشن کے حوالے کرنے سے اجتناب کرے ۔ حکومت ترکی کے حکمران طبقے کی خوشنودی کے لئے پاک ترک سکولوں کے 15000 سے زائد بچوں کا مستقبل تاریک نہ کرے ورنہ ہزاروں اساتذہ و طلباء سٹرکوں پر احتجاج کریں گے ۔ ان خیالات کا اظہار پیرنٹس ایسوسی ایشن نے لاہور پریس کلب میں حکومت کی طرف سے پاک ترک سکولوں کو معارف فاونڈیشن کے حوالے کرنے کے فیصلے پر پریس کانفرنس کرتے ہوئے کیا۔میڈیا سے بات کرتے ہوئے پاک ترک سکول کے لیگل ایڈوائزر قدیر حسین نے کہا کہ حکومت پاکستان کی طرف سے پاک ترک سکولوں میں پڑھانے والے ترکی کے 108اساتذہ کو خاندانون سمیت واپس بھجوانے کے بعد ان کے متبادل اساتذہ کو تعینات کر دیا گیا ہے مگرحکومت کی طرف سے نمل یونیورسٹی اسلام آباد میں معارف فاونڈیشن کے 30 سے زائد افراد کو پاک ترک سکولوں کا کنٹرول سنبھالنے کے لئے ٹریننگ دلواناسمجھ سے بالا تر ہے ۔پیرنٹس ایسوسی ایشن کی عہدیدار غزالہ بانو پاک ترک سکولوں میں زیر تعلیم بچوں کے والدین کی نمائندگی کرتے ہوئے کہا کہ ماضی میں ترکی میں معارف فاونڈیشن کے حوالے جتنے بھی سکول کیے گئے وہ بند ہوگئے ہیں ۔ انہوں نے کہا کہ اگر پاک ترک سکولوں کو معارف فاونڈیشن کے حوالے کیا گیا تو ہزاروں اساتذہ و طلباء سٹرکوں پر ہونگے۔ پیرنٹس ایسوسی ایشن کے عہدیدار عدنان کاکڑ نے کہا کہ حکومت پاکستان ، ترک حکام کی خواہشات پرہمارے سکولوں کو معارف فاونڈیشن کے حوالے کرنا چاہتی ہے، جو انھیں کسی صورت قبول نہیں ہے ۔

مزید : صفحہ آخر


loading...