خان آف قلات امیر احمد سلیمان داﺅد نے پاکستان کے خلاف مودی سے مدد مانگ لی

خان آف قلات امیر احمد سلیمان داﺅد نے پاکستان کے خلاف مودی سے مدد مانگ لی
خان آف قلات امیر احمد سلیمان داﺅد نے پاکستان کے خلاف مودی سے مدد مانگ لی

  


لندن (ویب ڈیسک) خان آف قلات امیر احمد سلیمان داﺅد نے پاکستان کے خلاف بھارت اور دیگر ملکوں سے مدد حاصل کرنے کا اعلان کیا ہے۔ خان آف قلات نے2009ءمیں برطانیہ میں پناہ حاصل کی تھی۔ روزنامہ جنگ کی رپورٹ کے مطابق ہاﺅس آف لارڈز میں نریندر مودی کی حمایت کرنے والے دی ڈیموکریسی فورم کے زیر اہتمام ایونٹ سے خطاب کرتے ہوئے خان آف قلات نے کہا کہ وہ بھارت، ایران، افغانستان اور دیگر ملکوں میں جائیں گے اور انہیں اپنے مقاصد کے بارے میں قائل کریں گے۔ انہوں نے زور دیا کہ وہ بھارت سے مدد حاصل کریں گے۔ انہوں نے کہا کہ بھارت میں مخلص دوست وزیر اعظم نریندر مودی ہے جو پاکستان کے خلاف کام کر رہا ہے۔ خان آف قلات نے کہا کہ وہ چین کو پیچھے دھکیلنے کے لئے اپنی توانائیاں استعمال کریں گے جو چین پاکستان اکنامک کوریڈور میں ملوث ہے۔ یہ پہلا موقع نہیں ہے جب خان آف قلات نے غیر ملکی مدد حاصل کرنے کے لئے بیان دیا ہے لیکن اب انہوں نے ذاتی طور پر بھارت جانے کا اعلان کیا ہے۔ حیربیار مری بھی جو لندن میں جلاوطنی کی زندگی گذار رہے ہیں, اس ایونٹ سے خطاب کرنے کے خواہاں تھے لیکن شرکت نہیں کی. ان کا پیغام ان کے ساتھیوں میں سے ایک نے پڑھ کر سنایا، ایونٹ میں سخت جملوں کا تبادلہ بھی ہوا جب آرگنائزرز، بعض شرکاءکی جانب سے الزام لگایا گیا کہ وہ ایک طرف حمایت کرکے پاکستان کو ٹارگٹ کر رہے ہیں لیکن فورم کے ایک ترجمان نے کہا کہ پاکستان کے اکیڈمکس نے آخری منٹوں میں اپنا نام واپس لے لیا۔ شرکاءاور خان آف قلات کے درمیان سخت جملوں اور الزامات کا بھی تبادلہ ہوا، ایونٹ میں شریک ایک شخص نے آرگنائزرز پر الزام لگایا کہ وہ ایک بادشاہ کی میزبانی کرکے بلوچستان اور جمہوریت کی خدمت نہیں کر رہے۔ ایک بلوچ نے نشاندہی کی کہ خان آف قلات خود نان بلوچ ہیں اور ان کا تعلق پشتون احمد زئی قبیلے سے ہے۔ پاکستانی صحافی کے سوال کا جواب دینے میں ناکامی پر خان آف قلات نے الزام لگایا کہ وہ پاکستانی سٹیبلشمنٹ کا ایجنٹ ہے جس پر پاکستانی صحافی نے کہا کہ یہ خود خان آف قلات کی فیملی ہے جو بلوچستان میں پاکستانی ریاست کی مدد سے لگژری لائف سٹائل سے لطف اندوز ہو رہی ہے۔ امیر سلیمان داﺅد نے اپنی فیملی کے ساتھ برطانیہ میں پناہ حاصل کی تھی اور یہ وعدہ کیا تھا کہ وہ بلوچستان کا کیس انٹرنیشنل کورٹ آف جسٹس میں لے جائیں گے لیکن یہ وعدہ پورا نہیں ہو سکا۔خان آف قلات اپنے بڑے بیٹے پرنس محمد احمد زئی کے ان کا ساتھ چھوڑنے کی وجہ سے فرسٹریشن کا شکار ہیں جس نے چند سال قبل بلوچستان جانے کا فیصلہ کیا تھا۔ اس نے اپنے والد کے ساتھ سیاسی پناہ کے لئے درخواست دی تھی اور بغاوت کرتے ہوئے اپنی سیاسی پناہ کی درخواست واپس لے لی اور ہوم آفس کو مطلع کیا کہ انہیں پاکستان میں عتاب کا کوئی خدشہ نہیں ہے۔ پاکستان واپسی کے بعد پرنس محمد احمد زئی نے قائداعظم ریذیڈنسی زیارت میں پاکستان کا قومی پرچم لہرایا اور اس جگہ پر وہ بلوچستان میں لا انفورسمنٹ کی سرکردہ شخصیات کی باقاعدگی سے میزبانی کرتے ہیں جہاں ان کے والد عدالت لگاتے تھے۔ تقریباً چار سال قبل خان آف قلات اور حیربیار مری یکجا ہوئے تھے اور اعلان کیا تھا کہ وہ متحدہ بلوچستان چارٹر شروع کریں گے لیکن متعدد رہنماﺅں، اہم جلاوطن شخصیات مثلاً اقوام متحدہ، ہیومن رائٹس کونسل میں بلوچ نمائندے مہران مری، براہمداغ بگٹی اور جاوید مینگل نے اس دستاویز کی توثیق کرنے سے انکار دیا تھا اور یہ منصوبہ بھی پورا نہ ہو سکا، خان آف قلات لندن میں کچھ پاکستان مخالف امریکی سینیٹرز سے ملاقاتیں کر رہے ہیں لیکن اڑان بھرنے کے لئے ان کی لابنگ کی کوششیں عملی طور پر ناکام ہوگئی ہیں۔ تقریباً چھ ماہ قبل جنیوا میں مقیم براہمداغ بگٹی نے انڈیا میں اسائلم کے لئے اپلائی کیا تھا جو ابھی تک اپنی درخواست پر بھارتی فیصلے کے منتظر ہیں۔ پانچ سال سے سوئس حکومت نے انہیں سفری دستاویزات نہیں دی ہیں۔ انہوں نے کہا تھا کہ وہ بھارتی امداد کا خیر مقدم کریں گے۔ پاکستانی حکام کا کہنا ہے کہ مختلف ذرائع سے بھارت بلوچستان میں دہشت گردی اسپانسر کر رہا ہے۔

مزید : برطانیہ


loading...