ملتان

ملتان

کاشف صدیقی

گستاخانہ خاکوں کی اشاعت کا مسئلہ ہو یا ملتان میں ریڑھی بانوں کے مسائل،بجلی و گیس کی لوڈشیڈنگ کا مسئلہ ہو یا کو ئی بھی ایشو ہو متحدہ شہری محاذ کے چیر مین طارق نعیم اللہ(مرحوم)شہریوں کے مسائل کا اپنا مسئلہ سمجھتے ہوئے نا صرف اس کے خلاف آواز اٹھاتے تھے، بلکہ اس مسئلے کے ہر ممکن حل کے لئے کوشش بھی کرتے تھے لیکن کواٹر فائنل میں پاکستان کی شکست پر متحدہ شہری محاذ کی جانب سے مظاہرہ نہ ہو سکا کیونکہ قائد متحدہ شہری محاذ طارق نعیم اللہ ہارٹ اٹیک کے باعث اس جہان فانی سے رخصت فرما گئے۔ان کی نماز جنازہ میں بڑی تعداد میں سیاسی،مذہبی،سماجی شخصیات اور شہریوں کی کثیر تعداد نے شرکت کی ۔جہاں پر سینئر سیاست دان مخدوم جاوید ہاشمی اور صوبائی وزیر چودھری عبدالوحید آرائیں کے درمیان گلے شکوئے بھی ہو ئے اور آخر میں مخدوم جاوید ہاشمی نے بڑے پن کا مظاہرہ کرتے ہوئے چودھری وحید آرائیں کو گلے لگایا اور ماتھے پر بوسا دیتے ہوئے کہا کہ میرا وحید ارائیں کے والد سے تعلق ہے اور وحید ارائیں میرا بیٹا ہے جبکہ وحید آرائیں نے کہا کہ مخدوم جاوہد ہاشمی میرے بزرگ ہیں اور میں انکا اپنے والد سے بھی زیادہ احترام کرتا ہوں۔اس موقع پر مخدوم جاوید ہاشمی نے میڈیا سے بھی گفتگو کی اور کہا کہ کراچی سمیت ملک بھر میں کرپشن لوٹ مار کے خلاف آپریشن ہونا چاہیے پوری قوم آپریشن کرنے والوں کے ساتھ کھڑی ہے طارق نعیم اللہ خان کی نماز جنازہ کے بعد میڈیا سے بات چیت کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ آپریشن کے ذریعے ہی تمام گند صاف ہوں گے۔ اس حوالے سے تمام تر قانونی پیچیدگیاں دور کرنا ہوں گی۔ ایک سوال کے جواب میں ا نہوں نے کہا کہ دھرنے کے دوران عمران خان اور حکومت کے درمیان راحیل شریف کو ضامن بنایا گیا تھا اور وہ مان بھی گئے تھے کہ اگر عام انتخابات میں دھاندلی ثابت ہوگئی تو نواز شریف سے استعفیٰ لیا جائے گا، لیکن سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ جنرل راحیل شریف کے سامنے مان لینے کے بعد پارلیمنٹ اور ٹی وی سنٹر پر حملہ کیو ں کیا گیا میرا عمران خان سے اسی بات پر جھگڑا ہو اتھا کیونکہ میں قومی املاک اور جمہوریت و جمہوری اداروں کو کسی طرح بھی نقصان پہنچانے کے حق میں نہیں ہوں اس وقت دہشت گردی کے خلاف جنگ میں ہمیں جنرل راحیل شریف کی حوصلہ افزائی کرنی چاہئے تاکہ ان کی جدوجہد کامیاب ہوسکے۔

حکومت اور تحریک انصاف کے مابین جوڈیشل کمیشن کا فیصلہ طے پاگیا ہے جس کے مطابق آئی ایس آئی اور دیگر ایجنسیوں سے مدد لی جا سکے گی۔اب دیکھنا یہ ہے کہ کیا تحریک انصاف جوڈیشل کمیشن کی تشکیل کے بعد اسمبلیوں میں جاتی ہے یا نہیں اس حوالے سے پاکستان تحریک انصاف کے مرکزی رہنما شاہ محمود قریشی نے ملتان میں میڈیا سے گفتگوکرتے ہوئے کہا کہ جوڈیشل کمیشن کے قیام پر پوری قوم کو مبارکباد دیتا ہوں قوم کو 2013ء کی دھاندلی سے آگاہ کرنا صحیح تھا بلدیاتی انتخابات میں بھر پور حصہ لیں گے اسی لئے کارکن بلدیاتی انتخابات کی تیاریاں شروع کر دیں بلدیہ ٹاؤن واقعہ کی صاف و شفاف تحقیقات کی جائیں ۔ جوڈیشل کمیشن کا قیام پاکستان کے عوام اور تحریک انساف کی آواز تھی اور پی ٹی آئی کے کارکنوں نے 126دنوں میں پی ٹی آئی کے جلسوں میں شرکت کی اور عوام اور تاجروں نے ہمارے موقف کی تائید کی اور اس ایشو کو قومی ایشو بنایا تاکہ آنے والے وقتوں میں صاف و شفاف الیکشن ہوں اور آزاد خود مختار الیکشن کمیشن ہو کیونکہ آزاد اور خود مختار الیکشن کمشن کا قیام صرف جمہور عمل ہی نہیں جمہوری اداروں کی بھی کامیابی ہے اور جوڈیشل کمیشن کے قیام کے سلسلے میں بالآخر مذاکرات نتیجہ خیز ثابت ہوئے پارٹی کی طرف سے جہانگیر ترین ، اسد عمر اور شفقت محمود کا جہا ں مشکو ر ہوں وہاں پر پارٹی چےئر مین عمران خان کی رہنمائی میں مذاکرات کامیاب ہوئے اور حکومت کی طرف سے اسحاق ڈار کا رویہ بھی مثبت رہا جہاں حکومت نے لچک دکھائی وہاں پر ہم نے بھی لچک دکھائی تاکہ گفت و شنید سے مسائل حل ہو سکیں انہوں نے کہا کہ جوڈیشل کمیشن ایک خود مختار ادارہ اور آزاد ہو گا فیصلہ وہ خود کر سکتے ہیں تاہم ہم چاہتے ہیں کہ اس معاملے میں تاخیر نہ ہو انہوں نے کہا کہ کراچی میں آپریشن کی حمایت تمام جماعتوں نے کی تاکہ کراچی میں امن ہو بھتہ ، ٹارگٹ کلنگ اور غواء سمیت دیگر وجوہات کے باعث کراچی کا امن برباد نہ ہو۔

پاکستان تحریک انصاف کے قائد عمران خان نے ملتان سمیت ملک بھر میں انٹراپارٹی الیکشن کرانے کے احکامات جاری کردئیے ہیں ۔مذکورہ الیکشن مبینہ دھاندلی کے الزمات کے باعث کرائے جارہے ہیں۔ملتان سمیت جنوبی پنجاب کے بیشتر شہروں کے صدور اور جنرل سیکرٹریز میں فنڈز کی بندر بانٹ کے حوالے سے شدید تشویش پائی جاتی ہے اور تحریک انصاف کے اسلام آباد میں دھرنے کے موقع پر ایک اہم اجلاس میں پنجاب کے صدر اعجاز چودھری اور جنوبی پنجاب کے صدر نور خان بھابھہ پر کرپشن کے شدید الزامات لگائے گئے لیکن اس وقت عمران خان کی جانب سے کوئی توجہ نہیں دی گئی جس کے باعث ورکرز بددل ہوتے جارہے ہیں۔دوسری جانب تینوں بڑی سیاسی جماعتوں نے بلدیاتی الیکشن کی تیاریاں بھی شروع کر دی ہیں۔سابق ناظمین و نائب ناظمین کے ڈیرے بھی آباد ہو نا شروع ہو گئے ہیں۔ پارٹی قائدین کی جانب سے ورکروں کو ہدایات بھی جاری کردی گئی ہیں کہ وہ بلدایاتی الیکشن کے لئے تیار رہیں۔

ہفتہ رفتہ کے دوران پاکستان پیپلز پارٹی کے بانی رہنماؤں ناہید خان اور ڈاکٹر صفدر عباسی نے ملتان کا دورہ کیا۔ اس موقع پر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں کہاکہ آصف علی زرداری نے پیپلزپارٹی کو سندھ تک محدود کر دیا ہے جو آنے والے وقتوں میں سندھ میں بھی نظر نہیں آرہی ہے، حالانکہ پیپلز پارٹی ملک کی واحد جماعت ہے بلاول بھٹو نے سیاست میں رہنا ہے تو منافقت کی سیاست سے دور رہنا ہوگا کیونکہ پیپلز پارٹی پر شہید قائدین ذوالفقار علی بھٹو اور محتر میہ بے نظیر بھٹو کے بعد مافیا نے قبضہ کررکھا ہے ریاست کی رٹ کمزور ہو چکی ہے سیاست دان خود کو نہیں منوا سکے جس کی وجہ سے آج پاک فوج مختلف محاذوں پر مصروف ہے ایم کیو ایم پر انتہا پسندی اور جرائم پیشہ افراد کو استعمال کرنے کا الزام ہے الطاف حسین اس اقدام کی تصدیق کریں ورنہ راستہ آپریشن ہے۔ پارلیمنٹ میں بیٹھے سیاست دان عوام کے مسائل حل کرنے میں بری طرح ناکام ہو چکے ہیں بڑھتی ہوئی مہنگائی، بے روزگاری اور بجلی وگیس کی لوڈشیڈنگ نے عوام کی زندگی اجیر ن کرکے رکھ دی ہے اور کسان کو پھٹی ، گنا، دھان کی پوری قیمت نہیں مل رہی ہے ظلم کے خلاف سسٹم کو ٹھیک کرنے کے لئے اگر آج کچھ نہ کیا تو تاریخ ہمیں کبھی معاف نہیں کرے گی۔ انہوں نے کہا کہ کراچی پاکستان کا معاشی حب ہے اور وہاں سے 60فیصد ریونیو حاصل ہوتا ہے مگر اتنے بڑے معاشی حب پر جرائم پیشہ عناصر نے قبضے کر رکھا ہے۔ انہوں نے کہا کہ بھٹو اور بے نظیر کے بعد کوئی بڑا لیڈر سامنے نہیں آسکا ہے اور قیادت کے فقدان کی وجہ سے آج کارکن پریشان ہیں، کیونکہ اگر آج کوئی لیڈر ہے تو وہ صرف اپنے اپنے علاقوں تک محدود ہے۔

مزید : ایڈیشن 1