دلیپ کمار کی کہانی انہی کی زبانی ۔ ۔ ۔ قسط نمبر33

دلیپ کمار کی کہانی انہی کی زبانی ۔ ۔ ۔ قسط نمبر33
دلیپ کمار کی کہانی انہی کی زبانی ۔ ۔ ۔ قسط نمبر33

  

نظام الدولہ

اماں میرے جذبے سے بہت متاثر ہوئیں اور اگلی صبح سویرے جب میں تیار ہوکر گھر سے نکلا تو انہوں نے میری بلائیں لیں اور ڈھیروں دعائیں دیکر رخصت کیا۔

میں ٹھیک نو بجے سٹوڈیو پہنچ گیا تھا۔دویکارانی مجھے دیکھ کر خوش ہوگئیں اور میرا ہاتھ پکڑ کر بولیں ” یوسف میں تمہیں خود فلور پر لیکر چلتی ہوں“

اسٹوڈیو کا عملہ میری شان دیکھ کر رشک و حسد سے جیسے کڑھ گیا تھا ۔وہ مجھے فلور پر لیکر پہنچیں ،یہ کافی وسیع تھا ۔کیمرے وغیرہ موجود تھے۔انہوں نے مجھے ایسے شخص سے ملوایا جیسے دیکھ کر لگا میں پہلے بھی انہیں دیکھ چکا ہوں،گنگھریالے سیاہ بال ،کنگھی سے پیچھے کو سنوارے ہوئے۔یاد آیا ہاں یہ تو ہی ہےں جنہیں میں کرافورڈ بازار میں فلمی پوسٹرز پر دیکھ چکا ہوں۔یہ اشوک کمار تھے۔

دویکا رانی نے ان سے میرا تعارف کرایا ۔وہ پہلے شخص تھے جنہوں نے بڑی چاہت اور محبت سے میرے ساتھ اسطرح ملاقات کی کہ پھر تمام عمر کے لئے وہ میرے اشوک بھیا بن کر رہ گئے۔

دلیپ کمار کی کہانی انہی کی زبانی ۔ ۔ ۔  قسط نمبر32 پڑھنے کیلئے یہاں کلک کریں

باتوں کے دوران ہی اشوک بھیا نے میک اپ بوائے کو پکارا کہ وہ ان کا میک اپ باکس لیکر آئے۔وہ گیا تو معاً میری نظر ایک اور نوجوان پر پڑی اور میں حیرت سے چونک پڑا۔یہ راجکپور تھا۔وہ میری طرف تیزی سے آیااور گلے لگ کر شرارت سے بولا” کیا تمہارے پتا جانتے ہیں تم یہ کام کررہے ہو“

” نہیں “ میں نے کہا” اور ابھی بتانا بھی نہیں چاہتا“ میں اور راجکپور خالصہ کالج میں اکٹھے فٹ بال کھیلتے تھے۔دویکارانی نے دیکھا کہ ہم دونوں آپس میں بڑے فرینک ہیں تو راجکپور نے میرا تعارف کرایا” یوسف فٹ بال کا بڑا اچھا کھلاڑی ہے“

وہ ہنسیں ” گڈ۔نوجوانوں کو فٹ بال کھیلنا بھی چاہئے۔یہ ان کا ہی کھیل ہے۔میں خود بڑے شوق سے فٹ بال کھیلتی رہی ہوں “

وہ اس بات پر کافی پرجوش دکھائی دیں کہ ہم دونوں ایک دوسرے کے ساتھ گل مل گئے ہیں اور یہ رویہ کام میں بڑی مدد کرتا ہے۔

دویکا رانی تو ہمیں گپیں لڑانے کے لئے چھوڑ کر چلی گئیں اور راج نے پورے فلور کو کشت زعفران بنا دیا۔وہ اشوک کمار کو کالج کی باتیں بتا رہا تھا کہ ہم کیسے آوارہ گردی کیا کرتے تھے۔سب لوگ اسکی باتیں سن کر قہقہے لگا رہے تھے۔مجھے بہرحال ایک اندیشہ تھا کہیں راجکپور میرے بارے میں یہ نہ بات کہہ دے کہ میں اپنے والد سے چھپ کر فلموں میں کام کرنا چاہ رہا ہوں۔میں ہر گز کسی کو یہ تاثر نہیں دینا چاہتاتھا کہ میں چھپ کر کام کرنے کا عادی ہوں۔خیر اس نے اشارے میں بھی یہ بات نہ کی۔وہ اس بات پر حیران ضرور تھا ” یوسف تم تو بڑے شرمیلے تھے،لڑکیوں سے کتراتے اور ڈرتے تھے ،پھر یہ کیا “ میں جانتا تھا کہ فلموں کی دنیا میں رنگینی اور بے شرمی ہوگی جو روایت پسندوں کے مزاج کے خلاف ہوتی ہے۔میں جتنا بھی گریز کرنا چاہتا ،اس سے تو ہر گز نہیں بچ سکتا تھااور مجھے خواتین کے ساتھ رومانس بھی کرکے دیکھانا تھا۔

اگلے روز فلورپر میرا ایک اور انجان شخص سے تعارف ہوا۔وہ شاہ نواز تھا۔اکھڑ اور بدتمیز ۔بات کرنے کا سلیقہ نہیں جانتا تھا۔یہ جان کر کہ میں پٹھان ہوں تو وہ بے ہنگم قہقہے لگانے لگا۔مجھے اسکا رویہ دیکھ کر غصہ آیا۔وہ بے وجہ مجھ سے باتیں کررہا اور ہنس رہا تھا۔پوچھنے لگا کہ تم لوگ کتنے بھائی ہو ۔میں نے بتایا کہ ہم پانچ بھائی ہیں تو قہقہ لگاکر بولا” ایک اور بھی ہوتا تو میرا کیا بگاڑ لیتا“ وہ جانوروں اور وحشیوں کی طرح بات کرتا تھا ۔اسکی بدتمیزی سے مجھے رنج ہوااور میں نے دویکا رانی کے دفتر پہنچ کر اسکی شکایت کردی۔دویکا رانی نے میری بات تحمل سے سنی اور میری پیٹھ تھپک کر مجھے گھر واپس جانے کا کہہ دیا ۔

میں جانتا تھا کہ دویکارانی لازماً اس سے بات کریں گی۔اگلے روز میں سٹوڈیوز پہنچا تو شاہ نواز نے مجھ سے معذرت کی تاہم میں اس سے کنی کتراتا رہا ۔بات کرنے سے گریزکیا۔میں تو مہذب لوگوں سے ملنا پسند کیا کرتا تھا۔اشوک بھیااور داو¿د جیسے لوگ کتنے نفیس تھے مگر یہ جانور.... لوگ محسوس کررہے تھے میں شاہ نواز سے بات نہیں کررہا ۔میں نے سنا کہ بمبئی ٹاکیز میں ہنسی مذاق بہت عام ہے اور شاہ نواز اکثر لوگوں کو چھیڑتا ہے ۔شاید میں واحد آدمی تھا جو اس کو گھاس نہیں ڈال رہا تھا۔

عید کے دن تو اس نے حد کردی۔اس نے عید کارڈ دیادیاجس پر لکھا تھا ” تمہارے خوشنما اور گھنے بالوں کے نام “ میں تو سلگ گیا اور ارادہ کیا کہ دویکا رانی سے اسکی شکایت کروں لیکن میں رک گیا۔سوچا ہر بار شکایت کرنا مناسب نہیں ہوگا۔ اگلے دن میں نے داو¿د سے اس بارے میں بات کی تو اس نے شاہنواز کو بلایا اور دونوں ہنسنے لگے۔پھر شاہ نواز نے کہا” دراصل یہ سارا کام میں تمہیں غصہ دلانے کے لئے کررہا تھا تاکہ تم کم گوئی ترک کردو“ اس نے مجھے گلے لگایا اور وعدہ کیا کہ آئیندہ ایسی بات نہیں کرے گا جس سے میری دل آزاری ہو اور میں طیش میں آجاو¿ں۔(جاری ہے)

دلیپ کمار کی کہانی انہی کی زبانی ۔ ۔ ۔ قسط نمبر34 پڑھنے کیلئے یہاں کلک کریں

مزید :

میں ہوں دلیپ کمار -