ایف آئی آر کے اندراج کا برطانوی سسٹم رائج کرنے کا فیصلہ

ایف آئی آر کے اندراج کا برطانوی سسٹم رائج کرنے کا فیصلہ
ایف آئی آر کے اندراج کا برطانوی سسٹم رائج کرنے کا فیصلہ

  

ایف آئی آر درج ہونے کے بعد اس میں سے نام کے اخراج کیلئے عدلیہ کی پاورز کو ختم کرکے ان اختیارات کو ایڈمنسٹریشن کو دینے کی تجاویز پر غور شروع کر دیا گیا ہے ۔ تجویز کے مطابق سنگین جرائم کی ایف آئی آر میں کسی کے بے گناہ ہونے کی صور ت میں پراسیکیوٹر جنرل کے پاس ملزم کو بے گناہ قرار دینے کا اختیار ہو گا جبکہ موجودہ قانون کے مطابق سنگین جرائم میں عدلیہ کسی ملزم کے بے گناہ ہونے یا نہ ہونے کافیصلہ کرتی ہے۔ ماتحت عدلیہ کو 22(A)کے تحت مقدمہ درج کرنے کا عدالتی اختیار بھی ختم کرنے پرغور کیا جا رہاہے ۔ کابینہ کی سب کمیٹی برائے امن و امان کی طرف سے مختلف محکموں سے تجاویز مانگی گئی تھیں۔ جن پر کام ہور ہا ہے ۔

ایف آئی آ ر کے اندراج کا برطانوی نظام رائج کیاجائے گاجبکہ موجودہ سسٹم انڈین پینل سسٹم کے تحت چل رہا ہے ۔ سانحہ ماڈل ٹاؤن کے بعد اعلیٰ سیاسی شخصیات پر عدالتی حکم پر ایف آئی آر کے بعد قانون سانحہ ماڈل ٹاؤن کے بعد اعلیٰ سیاسی شخصیات پرعدالتی حکم پر ایف آئی آر کے بعد قانون میں تبدیلی سے شکوک شہبات جنم لے رہے ہیں ۔ محکمہ قانون کی طرف سے بھجوائی جانے والی فائل نمبرLEGIS .13-38/2009(P-X)میں تجاویز ہوم ڈیپارٹمنٹ کو بھجوائی گئی ہیں ۔ حکومت پنجاب نے کریمنل جسٹس سسٹم کے تحت خصوصاً ایف آئی آر کے اندراج ،ایف آئی آر سے بے گناہ افراد کے اخراج اور ایف آئی آر کے اندراج کے طریقہ کار ۔ ایف آئی آر درج ہونے کی شکایات کے ازالہ کیلئے جو تجاویز آئی ہیں ۔ ان کے مطابق برطانوی سسٹم ضروری ترامیم کے ساتھ اختیار کیا جا سکتاہے ۔ جس میں کسی واقعہ کی رپورٹ الیکٹرونک طریقہ یا فزیکل طریقہ سے دی جا سکے گی ۔ جس شخص کی طرف سے درخواست درج کرائی جا ئے گی ۔اس کی موجودگی لازمی نہیں ہوگی ۔ وہ خود آکر یا ایس ایم ایس یا ای میل کے ذریعے درخواست درج کرائے گا تو اس کو ایک نمبر خود بخود الاٹ کر دیا جائے گا۔ قانون میں واضح ترمیم کی جائے گی کہ کون سی شکایات پر انوسٹی گیشن کی جائیں گی اورکون سی شکایات پر نہیں۔ جس رپورٹ پر انوسٹی گیشن کی جائے گی اس کو دوحصوں میں تقسیم کیا جا ئے گا ۔ ایک حصہ عام جرائم جبکہ دوسرا سنگین جرائم کا ہوگا۔

پہلے عام جرائم یا کم سنگین نوعیت کے جرائم میں انوسٹی گیشن آفیسر کے پاس اختیار ہو گا کہ وہ فیصلہ کرے کہ اس کیس کی تفتیش کرنی چاہیئے یانہیں ۔ اس کیلئے وہ اپنی رپورٹ تیار کر کے اس میں وجوہات لکھے گا ۔ اس کی منظوری وہ ہیڈ آف انوسٹی گیشن سے لے گا ۔ اسی طرح کم نوعیت کے جرائم میں پولیس کے انوسٹی گیشن آفیسر کے پاس اختیار ہو گا کہ وہ کسی کے خلاف کارروائی نہ کرے اور نہ کوئی گرفتاری کرے ۔ جبکہ اسی طرح سنگین جرائم میں یہ اختیار پراسیکیوٹر جنرل کے پاس ہو گا کہ وہ کسی شخص جس پر الزام لگایا جائے اس کو بے گناہ ہونے کی صور ت میں بے گناہ قرار دے ۔

شکایت درج ہونے کی صورت میں انوسٹی گیشن آفیسر ثبوت اور واضح وجوہات کی بنا پر کسی کو گرفتار کر سکے گا ۔ ناقابل ضمانت کیس انوسٹی گیشن آفیسر ملزم کے خلاف ثبوت پر گرفتاری کی قانونی مدت کے بعد اس کو مجسٹریٹ کی عدالت میں ثبوت کے ساتھ پیش کرنے کا پابند ہو گا ۔ انوسٹی گیشن آفیسر جب بھی ملز م سے تفتیش کرے گا اس کا بیان ریکارڈ کرے گا اس میں وہ ملزم کے بیان کی آڈیو ویڈیو تیارکرے گا ۔ پھر اسی طرح گواہوں کی ویڈیو آڈیو ریکارڈنگ تیار ہوگی ۔ تفتیشی دوران تفتیش بھی اگر سمجھے گا کہ مذکورہ شخص بے گناہ ہے یا اس کے خلاف واضح ثبوت موجود نہیں تو وہ اسے کیس سے خارج کرنے کیلئے ڈسٹرکٹ پبلک پراسیکیوٹر کو کیس بھیج دے گا ۔ انوسٹی گیشن آفیسر کے پاس اختیار ہو گا کہ وہ ملزم کا ضمانت نامہ یا بانڈ لیکر اس کی ضمانت لے۔

جھوٹے کیس کی صورت میں انوسٹی گیشن آفیسر واضح طور پر ڈسٹرکٹ پبلک پراسیکیوٹر کو لکھ کردے گا کہ کیس خارج کر دیا جائے محکمہ قانون کے مطابق ایف آئی آر درج کرنے کے سسٹم کو تبدیل کر دیا جائے اورہر کیس کا نمبر الاٹ کر دیا جائے تو ضابطہ فوجداری کی دفعہ 22(A)خود بخود ختم ہو جائے گی اس سے غیر ضروری کیسوں ، غیر ضروری وسائل اور غیر ضروری وقت کے ضیاع میں کمی ہوجائے گی ۔ ڈائر یکٹر لیگل اینڈ پارلیمانی افیئر ز محکمہ قانون محسن عباس سید کے مطابق پولیس ، محکمہ پراسیکیوشن سے رائے مانگی گئی تھی جس پر محکمہ قانون نے اپنی رائے دی ہے۔

مزید : کالم